Thursday , October 19 2017
Home / مضامین / سعودی عرب میں اقتصادی اصلاحات

سعودی عرب میں اقتصادی اصلاحات

کے این واصف
ایک لمبے عرصہ سے سعودی عرب کے تیل کی قیمت میں کمی کے اثرات مملکت کی اقتصادیت پراب بہت واضح نظر آنے لگے ہیں۔ حکومت کی جانب سے سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری سے کام لینے کے احکامات اور نئے اقتصادی اصلاحات کا اعلان اس بات کے بین ثبوت ہیں۔ تیل کی قیمت میں کمی سے ہونے والے اثرات کو پہلے تو ظاہر ہے حکومت نے جھیلا لیکن اس کے اثرات عمومی طور پر سعودی مارکٹ اور اب عام آدمی تک آ پہنچے ۔ ان حالات سے کیا مقامی اور کیا غیر ملکی سب ہی متاثر ہیں ۔ یہ سلسلہ پچھلے کوئی تین سال سے زائد عرصہ سے چل رہا ہے ۔ اس کی بڑی وجہ تعمیراتی اداروں میں تنخواہوں کی عدم یا بتاخیر ادائیگی ہے ۔ نیز کارکنان کی تعداد کا گھٹایا جانا وغیرہ۔ پھر اس کا اثر ان کمپنیوں پر پڑا جو تعمیراتی مواد تیار کرتی ہیں یا بیرون مملکت سے سامان منگواکر فروخت کرتی ہیں۔ حکومت اور پرائیوٹ سیکٹر دونوں میں اخراجات اور آمدنی کا توازن بگڑا ۔ اس معاشی توازن کے بگڑنے کی وجہ سے بڑی بڑی کمپنیوں کے پاؤں اکھڑ گئے۔  جیسا کہ ہم نے دیکھا پچھلے چند ماہ میں ہزاروں لوگ جن میں اکثریت غیر ملکیوں کی تھی بے روزگار ہوگئے ۔ چھ چھ ماہ سے زائد تنخواہوں کے نہ ملنے سے کارکنان کو کھانے کے تک لالے پڑگئے اور ہزاروں کی تعداد میں کارکنان سڑکوں پر نکل آئے ، ان میں خود 7 تا 8 ہزار تو صرف ہندوستانی کارکن تھے ۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ اس معاملے کو طئے کروانے وزارت خارجہ ہند کو مداخلت کرتے ہوئے ہندوستانی ورکرس کے حقوق کی ادائیگی کیلئے حکومت سطح پر نمائندگی کرنی پڑی ۔ وزیر خارجہ ہند کے تیقن پر ہندوستانی ورکرس کا بغیر حقوق حاصل کئے ، وطن واپسی کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ۔ مگر ان ورکرس کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں ابھی تک تو کوئی اشارہ ملتا نظر نہیں آیا ۔ چونکہ معاملہ دو حکومتوں کے درمیان ہے تو امید ہے کہ بتاخیر سہی لیکن کارکنان کو حقوق حاصل ہوجائیں گے۔

ادھر حکومت سعودی عرب نے سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری اور اقتصادی اصلاحات کا اعلان کردیا جس کے تحت تنخواہوں میں کٹوتی ، بونس کی منسوخی، ملازمین کو دیئے جانے والے دیگر الاؤنس اور سہولتوں کو ختم یا کم کیا جانا شامل ہے۔ اس اعلان نے مقامی باشندوں میں ہلچل مچادی ۔ بے چینی کی اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے پچھ لے جمعہ کو خطبہ میں امام حرم مکی نے ان مسائل کا ذکر بھی کیا ۔ متاثرہ افراد کو مخاطب کرتے ہوئے مسجد الحرام کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر صالح بن حمید نے واضح کیا کہ سعودی حکومت کفایت شعاری چاہتی ہے اور اقتصادی اصلاحات کیلئے کوشاں ہے ۔ تنخواہوں میں کٹوتی ، بونس کی منسوخی اور الاؤنس میں ترمیم کا مقصد شہریوں کو پیٹ پر پتھر باندھنے پر آمادہ کرنا نہیں ہے ۔ امام حرم نے حا ضرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں نے ایک سال کو وداع کیا اور نئے سال میں داخل ہوئے ہیں، اس کا تقا ضہ ہے کہ ہر شخص 1437 ھ کے حوالے سے اپنا احتساب کرے۔ یہ دیکھے کہ آپ نے اس سال میں کیا کمایا ، کیا کھویا اور کیا پایا۔ ہر شخص اللہ تعالیٰ سے گناہوں پر توجہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ احتساب کی بات طویل ہے لیکن اگر انسان کا عزم درست ہو اور نیت میں اخلاص ہو تو اس راستہ پر سفر رواں دواں شکل میں جاری رکھا جاسکتا ہے ۔ امام حرم نے بتایا کہ دین اسلام نے کمزوری اور پریشانی کے حالات سے دوچار بندوں کے معاملات پر بڑی توجہ دی ہے ، جو امت اپنے غریبوں ، مسکینوں ، مظلوموں ، معذوروں ، بیواؤں ، یتیموں ، پردیسیوں ، مسافروں اور ناداروں کے دکھ درد کو محسوس کرتی ہے سربلند اور کامیابی اس کا نصیب بنتی ہے ۔ امام حرم شیخ حمید نے سعودی حکومت کے اقدام کو  پھر ایک بار دہرایا اور کہا کہ سعودی حکومت اقتصادی اصلاحات اور کفایت شعاری کو رائج کرنے اور اس کی جڑیں مضبوط کرنے کیلئے مالیاتی پالیسیاں بنارہی ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ چھوٹے بڑے سب ایک نظام کے پابند ہوں۔ الحمد اللہ مالی وسائل میں کوئی گڑبڑ نہیں اور پیٹوں پر پتھر بندھوانے کا کوئی رجحان نہیں ہے ۔ حکومت چاہتی ہے کہ ہر شخص کے اندر ذمہ داری کا جذبہ زیادہ سے زیادہ ہو، بدعنوانی کا انسداد ہو، تمام امور صاف شفاف ہوں، حال و مستقبل کے حوالے سے کارکردگی کا معیار بلند ہو۔

موجودہ حالات کے حوالے ہی سے دیگر خبروں میں بتایا گیا کہ سعودی شہریوں نے کابینہ کی جانب سے سالانہ بونس کی منسوخی اور مختلف الاؤنس میں ترمیم کے فیصلوں کے اجراء کے بعد اخراجات کم کرنے ، کفایت شعاری سے زندگی گزارنے اور مالی امور کو کنٹرول کرنے کا عزم کرلیا۔ اطلاعات کے مطابق اکثر لوگوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ گھریلو ملازماؤں اور ڈرائیوروں پر اچھی خاصی رقم خرچ ہورہی ہے، اس سے چھٹکارا حاصل کیا جائے ۔ اس کی جگہ جزوقتی ملازمین رکھے جائیں جس سے ان کے اخراجات آدھے سے بھی کم ہوجائیں گے ۔ بتایا گیا کہ کئی خاندانوں نے غیر ملکی ڈرائیوروں اور گھریلو ملازماؤں کے ساتھ تنخواہ کم کرنے یا انہیں ان کے وطن واپس بھیجنے کیلئے بات چیت شروع کردی ہے۔
عوام پر مالی بوجھ کے سلسلے میں ایک اور نیا بوجھ خارجی باشندوں پر آن پڑا ہے ۔محکمہ پاسپورٹ نے واضح کیا ہے کہ چند ہفتے قبل سعودی کابینہ نے نئے ویزوں کی جو نئی فیس مقرر کی تھیں ان پر عملدر آمد کا آ غاز یکم محرم 1438 ھ سے ہوچکا ۔ تفصیلات کے مطابق وزارت خزانہ و اقتصاد و منصوبہ بندی نے تیل کے سوا ذرائع سے آمدنی کیلئے وسائل تجویز کرتے ہوئے ویزوں کی فیسوں میں اضافے کی سفارشات پیش کی تھیں۔ سعودی کابینہ نے فیسوں میں جو اضافہ کیا اور جن پر یکم محرم سے عملدرآمد شروع ہوگا ان کی تفصیل یہ ہے ۔ سعودی عرب میں انٹری ویزا فیس 2000 ریال ہوگی ۔ یہ ایک بار لی جائے گی ۔ پہلی بار حج یا عمرہ پر آنے والے کی فیس سعودی حکومت سرکاری خزانے سے ادا کرے گی ۔ متعدد بار آنے جانے کی ویزا فیس 6 ماہ کے لئے 3 ہزار ریال ، ایک برس کیلئے 5 ہزار اور 2 برس کیلئے 8 ہزار ریال ہوگی۔ اس حوالے سے سعودی عرب اور دیگر ممالک کے درمیان طئے شدہ معاہدوں کی پابندی ہوگی اور وہ ویزوں کی فیس میں ترمیم سے متاثر نہیں ہوں گے۔ ٹرانزٹ ویزا فیس 300 ریال مقرر کی گئی ہے ۔ Seaport سے سفر کرنے والے ہر مسافر سے 50 ریال روانگی ویزا فیس وصول کی جائے گی ۔ 2 ماہ میں ایک بار سفر کیلئے خروج وعودہ (Exit Re-Entry) کی فیس 200 ریال اور ہر اضافی مہینے پر 100 ریال وصول کئے جائیں گے ۔ خروج وعودہ (Exit-Re-Entry) اقامہ کی مؤثر میعاد تک ہی محدود ہوگا ۔ 3 ماہ کے دوران کئی بار سفر کرنے کیلئے خروج وعودہ کی فیس 500 ریال ہوگی اور پھر ہر اضافی مہینے پر 200 ریال لئے جائیں گے ۔ یہ ویزا بھی اقامے کی مؤثر میعاد تک ہی محدود رہے گا۔

اب جو خارجی باشندے یہاں کے حالات سے پریشان ہوکر اپنی فیملی کو لمبی میعاد کیلئے وطن روانہ کرنا چاہتے ہیں، ان پر یہ نیا بوجھ ہے۔ دوسری جانب اگر سعودی باشندے (جیسا کہ اوپر کہا گیا) اپنے گھریلو ملازماؤں اور خانگی ڈرائیورس کو ملازمت سے فارغ کردیتے ہیں تو اس کا اثر یہاں کام کرنے والے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے باشندوں پر پڑے گا کیونکہ ان ملازمتوں پر یہی باشندے ہمیشہ سے کام کر تے رہے ہیں۔ ان چھوٹی ملازمتوں پر لاکھوں ہندوستانی باشندے برسرکار ہیں جنہیں اب وطن لوٹنا ہوگا جو ایک بڑا مسئلہ ہے ۔ ابھی حال میں ہزاروں ہندوستانی کارکنان بڑی تعمیراتی کمپنیوں سے نکال دیئے جانے کے بعد وطن لوٹے ہیں اور وہ بھی اپنے حقوق حاصل کئے بغیر۔
بہرحال یہ بگڑے ہوئے حالات کب سنبھلیں گے، ان مسائل کا حل کب نکلے گا یا اس پر کب اور کون قابو پائے گا ، اس میں کتنا وقت لگے گا ، اس دوران عوام ان حالات کا کس طرح مقابلہ کر یں، اگر انہیں مملکت چھوڑنا پڑا تو کیا ان کو ان کے حقوق مل پائیں گے ۔ یہ سارے سنگین سوال یہاں برسرکار خارجی باشندوں کے سامنے ہیں ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT