Saturday , June 24 2017
Home / مضامین / سعودی عرب میں بارش کا قہر جاری،دو ہلاکتیں

سعودی عرب میں بارش کا قہر جاری،دو ہلاکتیں

جدہ ، ریاض اور اسیر شدید طور پر متاثر، شہریوں کو پکنک منانے سے گریز کا انتباہ

واجد خان

سعودی عرب میں آج کل موسم کی آنکھ مچولی کچھ اس طرح جاری ہے کہ یہ کہا نہیں جاسکتا کہ موسم کب اپنا رنگ بدل لے۔ گذشتہ پانچ روز سے بارش کا سلسلہ جاری ہے جس نے مملکت کے مختلف علاقوں میں سیلابی کیفیت پیدا کردی ہے۔ اسی دوران جنرل ڈائریکٹوریٹ برائے سیول ڈیفنس کے ایک بیان کے مطابق پوری مملکت کے مختلف علاقے اسوقت بارش اور سیلاب کی وجہ سے گذشتہ پانچ دنوں سے متاثر چل رہے ہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بارش سے متاثرہ 4699 رپورٹس ملی ہیں جن میں سے 3327 رپورٹس ریاض سے، 960 اسیر سے اور 412 رپورٹس مشرقی صوبوں سے ملی ہیں جہاں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ اللہ کا فضل و کرم ہے کہ اموات کی تعداد صرف دو پر آکر رُک گئی ہے۔ ایک شخص ریاض میں اور ایک شخص اسیر میں فوت ہوا ہے جبکہ 951 افراد سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں جنہیں کافی کوششوں کے بعد بچالیا گیا۔ سیلاب میں پھنسے ہوئے افراد کے اعداد و شمار کا اگر جائزہ لیا جائے تو ان کی تعداد ریاض میں 271، اسیر میں 492، مشرقی صوبوں میں 173 اور 15 افراد ارباہا میں پھنسے ہوئے تھے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تعداد ایسے لوگوں کی تھی جو اپنی گاڑیوں میں پھنسے ہوئے تھے۔ اس طرح جن گاڑیوں کو صحیح سلامت بچایا گیا ہے اُن کی تعداد 650 ہوگئی ہے اور 119 خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ دریں اثناء میڈیا سنٹر نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ محتاط رہیں اور شدید بارش میں بغیر کسی خاص ضرورت کے باہر نہ نکلیں۔ خصوصی طور پر ایسے علاقے جو سیلاب سے متاثر ہیں ایک انتباہ اور بھی دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ اکثر سعودی شہری پکنک منانے کے شوقین ہوتے ہیں اور اس کے لئے وہ شدید بارش کی بھی پرواہ نہیں کرتے لہذا انھیں بھی پکنک منانے سے باز رکھا گیا ہے کیونکہ جنگلاتی علاقوں میں شدید بارش کی وجہ سے سیلاب کے علاوہ بجلی گرنے کا اندیشہ بھی ہوتا ہے۔ سیول ڈیفنس کی جانب سے جو بھی احتیاطی نشریات ہورہی ہیں، شہریوں کو اُس پر عمل کرنے کی ہدایت کی جارہی ہے جس کے لئے آڈیو، ویڈیو اور پرنٹ میڈیا میں تشہیر کی جارہی ہے۔ دوسری طرف اگر ریاض شہر کا قریبی جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ یہاں ٹریفک اگر سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے تو وہ کنگ فہد روڈ پر ہوئی ہے۔ شدید بارش کی وجہ سے شہر کا درجہ حرارت بھی انتہائی کم ہوگیا ہے۔ خریس روڈ اور کنگ فہد روڈ پر ٹریفک کی رفتار انتہائی دھیمی ہے اور لوگ اپنی اپنی گاڑیوں میں بیٹھے بیٹھے بیزار ہوکر بے چینی کے عالم میں کبھی گاڑی کے اندر اور کبھی گاڑی کے باہر دیکھے جارہے ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے جہاں بارش شاذو نادر ہی ہوا کرتی تھی۔ اس لئے جب جب بارش ہوتی تھی تو لوگ خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے اور پکنک پر نکل پڑتے تھے۔ آج بھی نوجوانوں کا ایک طبقہ ایسا ہی کرتا ہے تاہم حکومت اب انھیں ایسا کرنے سے روک رہی ہے کیونکہ بارش انتہائی خطرناک اور جان لیوا ہے لہذا احتیاط ضروری ہے۔ ریاض میں موسم بھی انتہائی سرد ہوگیا ہے۔ صرف ایک ہفتہ قبل ہی موسم گرم تھا لیکن اب سردی کا بول بالا ہے۔ اسی دوران پریسیڈنسی آف میٹریالوجی اور انوائرنمنٹ نے مطلع ابر آلود ہونے اور گرج و چمک کے ساتھ بارش ہونے کی پیش قیاسی کی ہے۔ گاڑی مالکان کو خصوصی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گاڑی چلاتے وقت انتہائی محتاط رہیں اور تیز رفتاری کے بارے میں ہرگز نہ سوچیں جبکہ ایسے علاقے جو زیر آب ہیں وہاں جانے سے احتیاط برتنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT