Wednesday , September 27 2017
Home / مضامین / سعودی عرب میں خواتین بااختیار،مملکت اردو کیلئے زرخیز زمین

سعودی عرب میں خواتین بااختیار،مملکت اردو کیلئے زرخیز زمین

سعودی صحافی اور اردو کی پہچان سمیرا عزیز سے انٹرویو

محمد ریاض احمد
مملکت سعودی عرب میں خواتین کے موقف کو لیکر مغربی میڈیا بے بنیاد خبریں پھیلانے میں اپنا جواب نہیں رکھتا ۔ سعودی معاشرہ کے بارے میں مغربی میڈیا دنیا کو یہی تاثر دیتا ہے کہ وہاں خواتین کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا جاتا ہے ۔ سعودی خواتین کو حجاب میں لپیٹ کر ان کی آزادیاں سلب کرلی جاتی ہیں ۔ انھیں گھر کی چہار دیواری تک محدود رکھا جاتا ہے ۔ زندگی کے ہر شعبہ میں وہاں صرف مردوں کو غلبہ حاصل ہے ۔ سعودی معاشرہ انتہائی قدامت پسند ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ سعودی خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت تک نہیں تاہم حقیقت کچھ اور ہی ہے ۔ مغربی میڈیا سعودی عرب کے بہانے دراصل دین اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے مقصد سے اس طرح کے ناپاک پروپگنڈہ میں مصروف ہے ۔ سعودی عرب میں خواتین کو مکمل آزادی حاصل ہے اور وہ زندگی کے ہر شعبہ میں اپنی موجودگی کا احساس دلارہی ہیں ۔ ممتاز صحافی ، سماجی و انسانی حقوق کی جہدکار ، فلمساز ، ہدایت کار ، کہانی نویس ، ناول نگار ، افسانہ نگار ، شاعرہ اور ادیبہ سمیرا عزیز اس کی بہترین مثال ہیں ۔ حال ہی میں سمیرا عزیز نے شہر اردو حیدرآباد فرخندہ بنیاد کا دورہ کیا ۔ وہ امام الہند اور ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کی یوم پیدائش تقاریب کے ضمن میں مولانا آزاد ایوارڈ حاصل کرنے کیلئے حیدرآباد آئی ہوئی تھیں ۔ اس موقع پر انھوں نے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خان اور نیوز ایڈیٹر جناب عامر علی خان سے ملاقات کی اور سعودی عرب میں فروغ اردو کے بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا ۔ سمیرا عزیز کا شمار سعودی عرب کے سرفہرست صحافیوں میں ہوتا ہے ۔ اس موقع پر راقم الحروف نے ان سے تفصیلی انٹرویو لیا ۔ سمیرا عزیز کے بارے میں یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ وہ فصیح و بلیغ اردو بولتی ہیں ۔ ان کی شستہ اردو سن کر ایسا لگتا ہے کہ آپ کسی یونیورسٹی کے صدر شعبہ اردو سے بات کررہے ہوں ۔ چونکہ مغربی میڈیا میں عرب ملکوں خاص کر سعودی عرب میں خواتین کو ان کے حقوق سے محروم رکھنے کی بے بنیاد باتیں کی جاتی ہیں اس تعلق سے ہم نے سمیرا عزیز سے پہلا سوال کیا  جس پر بڑی برجستگی کے ساتھ انھوں نے بتایا کہ سعودی عرب میں خواتین کے موقف کو لیکر عالمی میڈیا عجیب و غریب باتیں پھیلاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر سعودی خاتون اپنے گھر کی ملکہ ہے ۔ مملکت میں خواتین بااختیار ہیں ۔ پہلے خواتین زیادہ تر شعبہ تعلیم سے وابستہ ہوا کرتی تھیں لیکن اب اسکولوں ، کالجس اور یونیورسٹیز میں لڑکوں کی بہ نسبت لڑکیاں زیادہ دکھائی دیتی ہیں ۔ سعودی خواتین ڈاکٹرس کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں ۔ خاتون انجینئروں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ خاتون سائنسداں ہمارے ملک میں نمایاں فرائض انجام دے رہی ہیں ۔ ایسی بے شمار خاتون صنعت کار ہیں جو نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو لوہا منواچکی ہیں ۔

میڈیا میں بھی سعودی خواتین اپنی موجودگی کا احساس دلارہی ہیں ۔ غرض زندگی کے ہر شعبہ میں سعودی معاشرہ خواتین کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔ اس سلسلہ میں انھوں نے خود اپنی مثال پیش کی اور بتایا کہ ان کی شادی 16 سال کی عمر میں ہوگئی تھی لیکن انھوں نے شادی کے بعد بھی اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کراچی یونیورسٹی سے عالمی تعلقات میں ماسٹرس کیا ۔ اس کے علاوہ سعودی عرب سے جرنلزم میں پوسٹ گریجویشن کی تکمیل کی اور چاہتی ہیں کہ ہندوستان کے تاریخی شہر حیدرآباد کی شہرہ آفاق عثمانیہ یونیورسٹی یا مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے اردو میں پی ایچ ڈی کریں ۔ واضح رہے کہ سمیرا عزیز نے عرب دنیا میں خود کو ایک انگریزی اور اردو صحافی کی حیثیت سے منوایا ہے ۔ انھیں سعودی عرب میں اسٹنگ آپریشن اور تحقیقاتی صحافت کا آغاز کرنے والی پہلی خاتون صحافی کا اعزاز حاصل ہے ۔ وہ سعودی عرب کے موقر انگریزی روزنامہ سعودی گزٹ میں سینئر ایڈیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکی ہیں ۔ اس دوران وہ اردو ہفتہ وار ’’آواز‘‘ کی منیجنگ ایڈیٹر کے طور پر اردو قارئین کو ایک معیاری ہفتہ وار پیش کرنے میں کامیاب رہیں ۔ سمیرا عزیز کے صحافتی سفر کو آگے بڑھانے میں سعودی ریسرچ اینڈ مارکٹنگ گروپ کی ملکیت اردو نیوز اور اردو میگزین کا بھی اہم رول رہا ۔ جس کے لئے 8 سال تک انھوں نے خدمات انجام دیں ۔ سعودی عرب کے الخبر میں پیدا ہوئیں 39 سالہ سمیرا عزیز کو اردو ایک طرح سے اپنے والدین عزیز الرحمن اور مہرافروز سے ورثہ میں ملی ۔ جن کے خاندان نے لکھنؤ سے پاکستان اور پاکستان سے سعودی عرب ہجرت کی تھی ۔ سمیرا کی والدہ مہرافروز اپنے دو بیٹوں فیصل عزیز اور فہد عزیز کے ہمراہ امریکہ میں مقیم ہیں ۔ اس سوال پر کہ سعودی عرب میں حالیہ عرصہ کے دوران سوشیل میڈیا متنازعہ بلاگس کے نتیجہ میں ایک دو بلاگرس کو سخت سزائیں سنائی گئیں ہیں ، اس بارے میں وہ کیا موقف رکھتی ہیں؟ ۔ سمیرا عزیز نے بتایا کہ جو لوگ ملک میں نقص امن پیدا کرتے ہیں ،

امن و امان کی صورتحال بگاڑنے کی کوشش کرتے ہیں ، فتنہ و فساد برپا کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں ، مملکت میں بے چینی پھیلانا جن کی خواہش ہوتی ہے انھیں سزا دینی ضروری ہوتی ہے ۔ یہ ایسے عناصر ہیں جو سوشل میڈیا کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنے ملک کو بدنام کرتے ہیں ۔ دہشت گردی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر سعودی عرب کی اس باصلاحیت خاتون فلمساز کا کہنا تھا کہ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت اسلام اور مسلمانوں کو دہشت گردی سے جوڑا جارہا ہے حالانکہ ساری دنیا اچھی طرح جانتی ہے کہ اسلام تو امن و انسانیت کا درس دیتا ہے ۔ یہ وہ مذہب ہے جو ایک انسان کے قتل کو ساری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے  ۔ اسلام تو اپنے پیروؤں کو اعتدال پسندی کا حکم دیتا ہے ۔ ہمارے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم نے میانہ روی کا حکم دیا ہے  ایسے میں چند گمراہ عناصر کی کارروائیوں کو اسلام اور مسلمانوں سے منسوب کردینا صرف اور صرف تعصب اور نسلی امتیاز کے کچھ اور نہیں ہے ۔ جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں کہا ہے کہ سمیرا عزیز اردو کی ایک بہترین ناول نگار ، شاعرہ و ادیبہ اور صحافی ہیں ۔ اس بارے میں انھوں نے بتایا کہ اردو زبان کا شمار دنیا کی سب سے زیادہ بولی جانے والی دس سرفہرست زبانوں میں ہوتا ہے ۔ سعودی عرب میں بھی اردو تیزی کے ساتھ فروغ پارہی ہے اس کی اہم وجہ وہاں اردو بولنے والے تارکین وطن کی کثیر تعداد ہے ۔ انھوں نے دوران گفتگو ایک اہم بات بتائی کہ اکثر سعودی باشندے اردو سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں لیکن آپ انھیں دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اردو جانتے ہیں ۔ سمیرا عزیز جن کی اردو ناول ’’رشتے بدل جاتے ہیں‘‘ کو اردو دنیا میں زبردست پذیرائی حاصل ہوئی چاہتی ہیں کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی اور روزنامہ سیاست جیسے ادارے سعودی عرب میں عرب شہریوں کو اردو سکھانے کے مراکز کا آغاز کریں ۔ کیونکہ اردو اپنے آپ میں اس قدر وسعت رکھتی ہے اور ایسا سمندر ہے جو بلالحاظ مذہب و ملت رنگ و نسل اور علاقہ و سرحد ہر کسی کو سیراب کرتی ہے ۔ فی الوقت ایشین انفارمیشن ایجنسی (AIA) کی سربراہ کے باوقار عہدہ پر فائز سمیرا عزیز کے مطابق سعودی عرب اردو کیلئے ایک زرخیز زمین ہے  ۔انھوں نے صحافت و ادب کے ساتھ ساتھ فلمسازی میں قدم رکھا ہے ۔

فلمسازی سے متعلق سوال پر سمیرا عزیز کا کہنا تھا کہ ’’میں دنیا کو سعودی معاشرہ کی خوبیوں سے واقف کرانے کی خواہاں ہوں اور اسی مقصد کو لئے فلمی میدان میں قدم رکھا ہے اور اپنا خود کا پروڈکشن ہاوز بھی کھولا ہے ۔ جو بالی ووڈ اور ہندوستان میں پہلا سعودی پروڈکشن ہاوز ہے مجھے پہلی خاتون سعودی بالی ووڈ ، ہدایت کار ، پروڈیوسر اور رائٹر تسلیم کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کی پہلی اردو ناول نگار ہونے کا بھی مجھے اعزاز حاصل ہے‘‘ ۔ اپنی مجوزہ فلم ریم کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ 14 کروڑ روپئے کے بجٹ سے تیار کی جانے والی اس فلم میں سعودی اور بالی ووڈ کے اداکار کام کررہے ہیں اور فلم کی کہانی انھوں نے خود لکھی ہے ۔ انھیں امید ہے کہ اس ہندی فلم کے ذریعہ وہ دنیا کو بتا پائیں گی کہ سعودی عرب کے معاشرہ سے متعلق جو باتیں کی جاتی ہیں وہ بالکل غلط اور بے بنیاد ہیں ۔ ’’سعودی عرب میں خواتین ڈرائیونگ نہیں کرتی ہیں تو کیا ہوا دوسرے شعبوں میں ہمیں مکمل آزادی ہے ۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ مملکت میں خواتین آبادی کا 51 اور مرد 49 فیصد حصہ ہیں ۔ ایک اور سوال کے جواب میں سمیرا نے بتایا کہ وہ ایک بیٹی اور ایک بیٹے کی ماں ہیں ۔ بیٹی 19 سال کی ہے جو طب کی تعلیم حاصل کررہی ہے اور امید ہے کہ وہ چند برسوں میں ڈاکٹر بن جائے گی ۔ جبکہ 14 سالہ بیٹا اسکولی تعلیم حاصل کررہا ہے ۔ سمیرا عزیز نے انکشاف کیا کہ ان کے آبا و اجداد کا تعلق لکھنؤ سے ہونے کے باوجود آج تک وہ لکھنؤ نہیں گئیں جبکہ حیدرآباد دوسری مرتبہ آئی ہیں ۔ حیدرآبادی تہذیب ، یہاں کے لوگوں کی محبت و مروت سے وہ کافی متاثر ہوتی ہیں ۔ ان کے خیال میں یہ شہر صرف اردو کا ہی شہر نہیں بلکہ محبت و مروت اور جذبہ انسانیت کیلئے دنیا میں ایک منفرد پہچان رکھتا ہے ۔ سمیرا عزیز جہاں حیدرآبادی تاریخ سے واقف ہیں وہ تلنگانہ کے بارے میں بھی کافی کچھ جانتی ہیں ۔ علحدہ ریاست تلنگانہ کیلئے عوامی جد وجہد کے بارے میں ان کی معلومات ہمارے کئی سیاستدانوں کے مقابلہ بہت زیادہ ہیں ۔  سیاست کی سرگرمیوں کے بارے میں وہ کہتی ہیں ’’روزنامہ سیاست عرب ملکوں میں حیدرآباد اور ہندوستان کی پہچان ہے ۔ سعودی عرب میں اس اخبار کو کافی اہمیت دی جاتی ہے ۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خان نے اپنے اخبار کو جس طرح ایک سماجی بہبود کا ذریعہ بنایا ہے  وہ قابل ستائش ہے ۔ یہ اخبار نہیں بلکہ ایک تحریک ہے جو معاشرہ میں تعلیم عام کرنے اور عوام کو ان کے حقوق سے واقف کروانے کیلئے بے تکان کوشش کررہا ہے‘‘ ۔ قارئین سیاست بالخصوص خواتین کے نام اپنے پیام میں سمیرا عزیز نے کہا کہ خواتین کو انفارمیشن ٹکنالوجی کا بھرپور استعمال کرنا چاہئے  ۔اس ضمن میں انھوں نے اپنے ہاتھ میں موجود موبائل فون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’موبائل فون میرے پرس سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے کیونکہ میں اس کے ذریعہ دفتر سیاست میں بھی بیٹھ کر اپنے گھر کے حالات پر نظر رکھتی ہوں ، بچوں کو ہدایات دیتی ہوں ، ملازماؤںکو گھر کیلئے درکار سامان کی فہرست تیار کرنے کے بارے میں بتاتی ہوں ۔ یہاں تک کہ سات سمندر پار بیٹھ کر انھیں گھر کی صاف صفائی پر توجہ دلاتی ہوں‘‘ ۔ ان کے خیال میں انفارمیشن ٹکنالوجی کے بارے میں جاننا اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ اس نے دنیا کو ایک عالمی گاؤں میں تبدیل کردیا ہے اور سوشل میڈیا دوسروں تک اپنی بات پہنچانے کا بہترین ذریعہ بن گیا ہے ۔ آخری سوال پر سمیرا عزیز نے کہا کہ پاکستان کی بہ نسبت ہندوستان ایک پرامن وپرسکون ملک ہے جہاں کبھی بھی کسی قسم کا خوف یا خدشہ لگا نہیں رہتا ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT