Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / سعودی عرب میں فاقہ کش ہندوستانیوں کا بحران ختم

سعودی عرب میں فاقہ کش ہندوستانیوں کا بحران ختم

ہندوستان کی درخواست پر ورکرس کو غذا، دوائیں، اگزٹ ویزا یا متبادل روزگار کی فراہمی

نئی دہلی ۔ 4 اگست (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب میں بیروزگار اور فاقہ کشی کا شکار ہزاروں ہندوستانیوں کے تعلق سے پیدا شدہ بحران ختم ہوگیا۔ حکومت سعودی عرب نے ہندوستان کی درخواست پر متاثرین کے مسائل کی اطمینان بخش یکسوئی سے اتفاق کیا۔ سعودی حکومت نے اپنے عہدیداروں کو ہدایت دی ہیکہ وہ آئندہ دو دنوں میں اس مسئلہ کی یکسوئی کردیں۔ وزیرخارجہ سشماسوراج نے آج پارلیمنٹ کو یہ بات بتائی۔ انہوں نے دونوں ایوان راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں اپنے طور پر بیان دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت سعودی عرب کی جانب سے ان پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کو اگزٹ ویزا دے گی۔ کیمپس میں مقیم ورکرس کو طبی سہولتیں اور غذا فراہم کرنے کے علاوہ جو ورکرس اہل ہوں گے انہیں دیگر کمپنیوں میں دوبارہ ملازمت تلاش کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ سشماسوراج نے کہا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہیکہ سعودی حکومت نے ہندوستانی ورکرس کی اس مصیبت کی گھڑی میں مدد کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ سعودی عرب کے شاہ نے اپنے حکام کو ہدایات دی ہیکہ وہ آئندہ دو دنوں میں اس مسئلہ کو حل کردیں۔

یہ معاملہ اطمینان بخش طریقہ سے حل ہوگیا ہے۔ سشماسوراج نے سعودی فرمانروا سے اظہارتشکر کیا اور ان کی حکومت سے کہا کہ اس اقدام پر ہم ممنون و مشکور ہیں۔ سشماسوراج نے اس سلسلہ میں وزیراعظم نریندر مودی کی کوششوں کی ستائش کی اور کہا کہ انہوں نے سعودی فرمانروا کے ساتھ شخصی طور پر مضبوط تعلقات بنالئے ہیں۔ مودی نے حالیہ دورہ سعودی عرب کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان جو تعلقات قائم ہوئے تھے، اس کا نتیجہ ہیکہ آج سعودی عرب میں پریشان حال ہمارے شہریوں کو راحت پہنچائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے نائب وزیر وی کے سنگھ جو منگل کی شام سے وہاں پر کیمپ کئے ہوئے ہیں، ہندوستانی ورکرس کیلئے مؤثر انتظامات کرنے کے بعد واپس ہوں گے۔ قبل ازیں اس ہفتہ سشماسوراج نے پارلیمنٹ کو مطلع کیا تھا کہ سعودی عرب میں بحران چل رہا ہے۔ انہوں نے ان فاقہ کش ہزاروں ہندوستانیوں کو دی جانے والی امداد سے متعلق ایوان کو واقف کروایا تھا۔ آج رونما ہونے والی تبدیلیوں سے ایوان کو واقف کرواتے ہوئے کہا کہ اب یہ بحران ختم ہوگیا ہے اور سعودی حکومت نے ورکرس کو اگزٹ ویزا دینے سے اتفاق کرتے ہوئے انہیں ہندوستان واپس بھیجنے کیلئے ٹرانسپورٹ کا انتظام بھی کرے گی۔ اپنے خرچ پر سعودی حکومت ان پریشان ورکرس کو طیاروں کے ذریعہ ہندوستان واپس بھیجے گی۔ حکومت ہند کو اس پر ایک نیا پیسہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس اسلامی ملک نے اجازت یافتہ ورکرس کو دوسری ملازمت تلاش کرنے کی بھی اجازت دی ہے اور دیگر کمپنیوں میں اپنے لئے مناسب روزگار حاصل کریں۔ ان ورکرس کو ہندوستان واپس جانے سے پہلے دوبارہ مناسب ملازمت تلاش کرنے کا موقع بھی دیا جارہا ہے۔

ہندوستانی ورکرس نے اپنے تنخواہوں کے بقایا جات سے متعلق ادعاجات بھی درج کروائے ہیں اور دیگر بقایا جات کے بارے میں سعودی عرب کے لیبر ڈپارٹمنٹ میں نام درج کرواچکے ہیں۔ ریاض میں ہندوستانی سفارتخانہ نے سعودی عرب کے دفتر لیبر کے ساتھ مل کر ورکرس کی تنخواہوں کی ادائیگی کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ سعودی فرمانروا نے یہ بھی احکامات جاری کئے ہیں کہ متاثرین کو طبی سہولیات اور غذا فراہم کی جائے۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے ہندوستان کی مساعی کی ستائش کی اور سعودی  حکومت کی فراخدلی پر اظہارتشکر کیا کہ حکومت سعودی نے اس مسئلہ کا فوری حل نکالا ہے۔ لوک سبھا میں کانگریس رکن جیوترویدیت سندھیا نے حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ دیگر وزراء کو بھی ایوان میں متعلقہ مسائل کا جواب دینے کی عادت اختیار کرنی چاہئے۔ حکومت کو چین، پاکستان اور عمان کے ساتھ ہی اسی طرح کے تعلقات استوار رکھنا چاہئے۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے کہا کہ ہر ایک مسئلہ پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT