Saturday , May 27 2017
Home / عرب دنیا / سعودی عرب میں لاکھوں یمنی و شامی پناہ گزیں مقیم

سعودی عرب میں لاکھوں یمنی و شامی پناہ گزیں مقیم

انسانی ہمدردی کی بنیاد پر یمنی بحران پر سعودی عرب کو تشویش ‘یمن کو دو برسوں کے دوران تقریباً 9 ارب ڈالرس کی مالی مدد

دوحہ ۔ 14 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) یمن میں نراج کی کیفیت پیدا کی گئی ہے۔   مملکت سعودی عرب نے پچھلے دو برسوں میں یمن کو 8.2 ارب ڈالرس یعنی 8 ارب 20 کروڑ ڈالرس کی مالی امداد فراہم کی ہے جس میں یمن کے ترقیاتی شعبہ کے لئے جاری کردہ دو ارب نوے کروڑ ڈالرس، یمن کی قانونی طور پر جائز حکومت کو 2 ارب 20 کروڑ ڈالرس، سعودی عرب میں مقیم یمنی باشندوں کے لئے ایک ارب 10 کروڑ ڈالرس اور انسانی امداد کی شکل میں دیئے گئے۔ 84 کروڑ 75 ڈالرس کی مالی امداد شامل ہے۔ حکومت سعودی عرب نے یمن کی دامے درمے سخنے مدد کو یقینی بنایا ہے۔ اس نے یمن کے سنٹرل بینک میں ایک ارب ڈالرس کی خطیر رقم بھی جمع کروائی ہے۔ یہ تمام اعداد و شمار سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے جاری کئے جس میں بتایا گیا کہ اپریل 2015ء اور اپریل 2017ء کے دوران یمن کو جملہ 8 ارب 20 کروڑ ڈالرس کی مالی امداد فراہم کی گئی ہے۔  سعودی عرب اور اس کے اتحادی چاہتے ہیں کہ ایران، یمن، بحرین اور دوسرے عرب ملکوں میں مداخلت بیجا کا ناپسندیدہ سلسلہ روک دے تاکہ علاقہ میں امن و امان قائم ہوسکے۔ سعودی شاہی دربار کے مشیر اور کے ایس ریلیف کے جنرل سپروائزر عبداللہ الربیع کے مطابق مملکت سعودی عرب پریشان حال انسانوں کی ہر طرح سے مدد میں اہم کردار ادا کررہا ہے اور وہ انسانی مدد سے متعلق عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے انسانیت کی مدد کررہا ہے کیونکہ دین اسلام نے انسانی وقار کے تحفظ اور مصیبت زدہ انسانوں کی مدد کی تعلیم دی ہے۔ مسٹر الربیع نے حال ہی میں کنیڈا کے اوٹاوا کا دورہ کرتے ہوئے سعودی سفیر متعینہ کینڈا جناب نائف بن بندر الصدیری اور کینڈین صحافیوں کی موجودگی میں یہ ریمارکس کئے۔ انہوں نے میڈیا نمائندوں کے ذریعہ ساری دنیا کو بتایا کہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی دوسری عالمی تنظیموں کے تعاون و اشتراک کے ذریعہ حکومت سعودی عرب دنیا میں انسانی بحران کے خاتمہ کی کوششیں کررہی ہے۔  الربیع کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کو یمن میں جاری انسانی بحران پر سخت تشویش ہے یہی وجہ ہے کہ وہ یمن کے تمام صوبوں میں امداد روانہ کررہا ہے۔ ان میں وہ علاقہ بھی شامل ہیں جہاں حوثی باغیوں کا کنٹرول ہے۔  الربیع نے یہ بھی بتایا کہ کنگ سلمان سنٹر فار ریلیف اینڈ ہیومانٹٹیرین ایڈ نے یمن میں 172 پراجکٹ پائے تکمیل کو پہنچائے جس میں زرعی اور آبی پروگرامس بھی شامل ہیں ویسے بھی Ksrlief پروگرامس 81 عالمی اور مقامی شراکت داروں کے ساتھ یمن میں ہر طرف شروع کئے گئے۔ ان کا یہ بھی دعوی تھا کہ سعودی عرب میں 603,833 یمنی پناہ گزین اور ان کے خاندان مقیم ہیں جنہیں آزادانہ نقل و حرکت اور کام کرنے کی سہولت فراہم کی گئی۔ یہی نہیں مملکت سعودی عرب سرحدوں سے پار جبوتی اور صومالیہ میں مقیم یمنی پناہ گزینوں کی مدد کر رہی ہے جبکہ سعودی عرب ان  اولین ملکوں میں شامل ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT