Saturday , April 29 2017
Home / عرب دنیا / سعودی عرب میں 50 لاکھ افراد غیر قانونی طور پر مقیم

سعودی عرب میں 50 لاکھ افراد غیر قانونی طور پر مقیم

تمام افراد کو ملک بدر کرنے کی تجاویز پر مجلس شوریٰ میں غوروبحث
ریاض ۔ 6 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کی مجلسِ شوری مملکت میں غیر قانونی طور پر ہجرت اور نقل مکانی کے انسداد کے لیے ایک نظام کو زیر بحث لا رہی ہے۔ اس کا مقصد وزارت داخلہ میں ایک کمیٹی تشکیل دینا ہے تاکہ اْن 50 لاکھ غیر ملکیوں کو بے دخل کیا جا سکے جو مملکت میں غیر قانونی طریقے سے مقیم ہیں۔عربی روزنامے “الحیات” کے مطابق تجویز پیش کرنے والے مجلس شوری کے رکن ڈاکٹر صدقہ فاضل کا کہنا ہے کہ سعودی عرب آنے والوں کی ایک بڑی تعداد کا مقصد تفریحی دورہ ، مذہبی زیارت یا ملازمت نہیں ہوتی بلکہ ان کا مقصد دائمی طور پر بس جانا یا مسلسل قیام ہوتا ہے۔ یہ غیر قانونی ہے کیوں کہ اس طرح ہمارے نظام اور قوانین کے علاوہ بین الاقوامی قوانین کی بھی “مکمل” خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر فاضل کے مطابق سعودی عرب گزشتہ 5 دہائیوں سے افریقا اور ایشیا کے بعض ممالک کے باشندوں کی جانب سے غیر قانونی مستقل قیام کا ہدف بن چکا ہے۔ڈاکٹر فاضل نے مطالبہ کیا کہ مملکت میں غیر قانونی مہاجرین کے اڈوں پر چھاپوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو بے دخل کیا جائے تاکہ ملک میں صرف وہ غیر ملکی ہی باقی رہیں جن کی واقعتا مملکت کو ضرورت ہے۔ڈاکٹر فاضل کے نزدیک ان افراد کی موجودگی سے سیاسی خطرات موجود رہیں گے۔ مستقبل میں عالمی برادری اور تنظیمیں مملکت پر دباؤ ڈال سکتی ہیں کہ ان افراد کو شہریت دی جائے اور انہیں بھی اسی طرح کی دیکھ بھال فراہم کی جائے جس طرح کہ سعودی شہریوں کو پیش کی جاتی ہے۔ڈاکٹر فاضل کے مطابق اس غیر قانونی ٹولے کو ملک سے ختم کرنے کے لیے مہم جاری رکھی جائے اور اس کے کامیاب ہونے کے لیے شہریوں کا وزارت داخلہ کے ساتھ تعاون بے حد ضروری ہے۔انہوں نے ملک کو تمام غیر قانونی مقیمین سے پاک کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ وضع کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT