Tuesday , September 26 2017
Home / اداریہ / سعودی عرب پر مقدمہ کا بِل

سعودی عرب پر مقدمہ کا بِل

اُس کی باتوں کو سمجھنا اتنا آساں بھی نہیں
لفظ کے معنی ہیں کچھ پر مُدّعا کچھ اور ہے
سعودی عرب پر مقدمہ کا بِل
امریکہ میں 11 ستمبر2001 ء کے دہشت گرد حملوں کے متاثرین کو 15 سال بعد ایک ناکام راحت دینے کی کوشش میں امریکی ایوان نمائندگان نے حکومت سعودی عرب پر ہرجانہ کا مقدمہ دائر کرنے کی اجازت دینے والے بل کو منظوری دیدی ہے۔ اس بل کو ویٹو کرنے وائیٹ ہاؤز کے اعلان اور صدر امریکہ بارک اوباما کی جانب سے بھی بل کی مخالفت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے امریکی ایوان نمائندگان میں جو قدم اٹھایا گیا ہے اس سے سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اس سے قطع نظر اس بل کی افادیت پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔ امریکی عدالت میں حکومت سعودی عرب پر ہرجانہ کے مقدمہ کے جواز کو چیلنج کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ بعدازاں ہوگا۔ اس وقت حکومت سعودی عرب کے حلیف ملک کی حیثیت سے امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں خاص کر شام اور عراق میں فوجی کارروائیوں میں حصہ لینے میں مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔ اس بل کو ماہ مئی میں ہی امریکی سینٹ میں منظوری دی گئی تھی۔ امریکی ایوان نمائندگان نے بل کو ندائی ووٹ سے منظوری دی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے اٹھنے والے اعتراضات کو نظرانداز کرکے سینٹ نے یہ بل منظور کیا تھا۔ 9/11 دہشت گردانہ حملوں میں ملوث 19 کے منجملہ 15 کے بارے میں کہا جاتا ہیکہ یہ سعودی شہری تھے۔ وائیٹ ہاؤز اور صدر بارک اوباما کو اس بل کے ذریعہ ایک سنگین آتشی پہلو نظر آرہا ہے جو دونوں ملکوں کے تعلقات کو جھلسا دے سکتا ہے۔ اوباما کے نظم و نسق نے سعودی عرب کو ناراض کرنے والے کسی بھی قدم کی مخالفت کی تھی۔ اگر امریکی شہریوں نے حکومت سعودی عرب کو عدالت میں گھسیٹا تو ایک بیرونی ملک بھی آئندہ امریکہ کو ہرجانہ کے مقدمہ میں پھانس سکتا ہے۔ اس بل کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے اہم حلیف ملک کے ساتھ تعلقات کو دھکہ پہنچ سکتا ہے۔ اگرچیکہ بل کی منظوری پر سعودی عرب نے فوری طور پر اپنا ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے لیکن امریکی ایوان نمائندگان نے اپنے شہریوں کو قانونی ہتھیار دے کر ایک سنگین قدم اٹھایا ہے۔ جن کے نتائج آنے والے دنوں میں کیا برآمد ہوں گے یہ وقت ہی بتائے گا۔ 2001ء حملوں میں ہلاک ہونے والے ارکان خاندان حکومت سعودی عرب کے عناصر کے کسی بھی رول کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔ 11 ستمبر 2001ء کو نیویارک واشنگٹن ڈی سی اور پنسلوانیہ میں حملے ہوئے تھے جس میں تقریباً 3000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس پر فیصلہ کرنے کا اختیار امریکی شہریوں کو حاصل ہوگیا ہے۔ امریکہ پر حملوں کے یاد میں ایوان کے ارکان نے خاموشی بھی منائی۔ امریکی ایوان نمائندگان میں جب کوئی ناعاقبت اندیشانہ بل منظور ہوتا ہے اور اس بل کے تحت مقدمہ بازی شروع ہوتی ہے تو یہ ساری دنیا میں دیگر ممالک کیلئے ایک خراب مثال بن جائے گی۔ ویسے حکومت سعودی عرب نے گذشتہ ماہ مئی میں امریکی سینٹ کے اندر اس بل کو منظوری دیئے جانے پر ردعمل ظاہر کیا تھا۔ سعودی عرب کے وزیرخارجہ عدیل بن احمد الزبیر نے کہا تھا کہ اس بل سے سعودیہ کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ تاہم دہشت گردی اسپانسر قانون کے خلاف انصاف کے حصول کا جہاں تک سوال ہے اس پر عمل آوری ہوتی ہے تو پھر امریکی معیشت کیلئے بھی خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ امریکہ کی معیشت میں سعودی عرب کے کئی بلین ڈالرس مشغول ہیں۔ بل پر عمل آوری کا دوسرا خطرہ یہ ہوسکتا ہیکہ امریکہ میں سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہوجائے گا۔ بل کے قانون بن جانے تک ابھی کئی مراحل باقی ہیں۔ درحقیقت امریکی کانگریس خودمختارانہ اقدار اور اصولوں کو پامال کررہی ہے۔ اس سے ساری دنیا کا بین الاقوامی قانون ’’جنگل کا قانون‘‘ بن جائے گا۔ 9/11 حملوں کے متاثرین ایک عرصہ سے بل کی منظوری کیلئے کانگریس ایوان پر دباؤ ڈال رہے تھے۔ اب یہی کانگریس ارکان بل کو ویٹو کرنے کی کوششوں کو روکنے قدم اٹھائیں گے۔ امریکہ میں آنے والے دو ماہ میں صدارتی انتخاب ہونے والا ہے ایسے میں بل کی منظوری اور امریکہ پر حملہ کے 15 سال کے موقع پر متاثرین کیلئے اہمیت پیدا ہوگی۔ انتخابات سے قبل جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہوئے ناقابل فراموش بحث بھی چھڑ سکتی ہے۔ سعودی عرب نے ان حملوں میں ملوث ہونے کی ایک سے زائد مرتبہ تردید کی ہے۔ ایک طرف حکومت امریکہ سعودی عرب کو کئی بلین ڈالر کے ہتھیار فروحت کرنے جارہی ہے دوسری طرف ایوان نمائندگان میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو بگاڑنے والا قدم اٹھایا جارہا ہے تو ایسے تناظر میں حکومت سعودی عرب کو اپنے دیرینہ حلیف ملک کی پالیسیوں اور وہاں کے قانون سازوں کے ارادوں کو فوری بھانپ لینا چاہئے۔ اس طرح کے اقدامات ملکوں کے درمیان اعتبار اور اعتماد کو ٹھیس پہنچا سکتے ہیں۔
آر بی آئی گورنر کیلئے چیالنجس
مرکزی حکومت خاص کر وزیراغذیہ رام ولاس پاسوان دالوں کی قیمتوں میں کمی کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں جبکہ مارکٹ کے اندر ضروری اشیاء کے نرخنامہ سے ظاہر ہورہا ہیکہ غذائی اجناس اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ ماہ اگست میں ہی غذائی اجناس کی قیمتیں گذشتہ 15 ماہ کی قیمتوں سے زائد سطح تک دیکھی گئی ہے۔ افراط زر میں اضافہ کو دیکھ کر ہی آر بی آئی کے نئے گورنر ارجیت پٹیل کو بینک شرحوں میں کمی لانے کا فیصلہ کرنے میں پس و پیش ہورہا ہے۔ حکومت نے پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں کمی کے رجحان کو فوری روک کر اچانک اس میں اضافہ کردیا۔ پٹرول کی قیمت میں حالیہ اضافہ سے بھی مارکٹ پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ آر بی آئی کے نئے گورنر کو اپنی نئی مالیاتی پالیسی کا اعلان بھی کرنا ہے۔ 4 اکٹوبر کو جب وہ مالیاتی پالیسی کا اعلان کریں گے اس میں بینک شرحوں میں کٹوتی کا فیصلہ شامل ہوگا یہ کہا نہیں جاسکتا غذائی اجناس اور ترکاریوں کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد بینک شرحوں میں کمی لانے کا امکان گھٹ گیا ہے۔ ارجیت پٹیل اگرچیکہ امریکہ کی یونیورسٹی سے معاشیات میں پی ایچ ڈی کرچکے ہیں مگر انہیں ہندوستان کی معاشی فضاء میں توازن پیدا کرنا بہت مشکل ہوگا۔ عالمی معاشی فضائی تبدیلی کے اثرات ہندوستان پر مرتب ہوتے ہیں تو پھر آر بی آئی کو اپنی مالیاتی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی پڑے گی۔ ارجیت پٹیل اگرچیکہ آر بی آئی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کیلئے نہیں ہیں۔ انہوں نے رگھورام راجن کی قیادت میں بینک کے نائب گورنر کی حیثیت سے خدمت انجام دی ہے مگر اس مرتبہ انہیں بھاری ذمہ داری کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہوگی۔ سب سے پہلے ان کے سامنے پانچ بڑے چیالنجس ہیں ان میں افراط زر ہی سب سے بڑا نازک چیلنج ہے اس کے بعد پیداوار کی شرح کو بہتر بنانا ہے اور شرح سود کو کم کرنے پر توجہ دینی ہے۔ پبلک سیکٹر یونٹوں میں اصلاحات لانے کیلئے انہیں ٹھوس قدم اٹھانے ہیں۔ روپے کی قدر کو مستحکم کرنے کیلئے ان پر حکومت کا دباؤ بھی پڑ رہا ہے۔ ایسے میں پٹیل کیلئے روپئے کی قدر کو بہتر بنانا ہی ایک بڑا چیلنج ہے۔

TOPPOPULARRECENT