Wednesday , October 18 2017
Home / مضامین / سعودی عرب کی جانب ہندوستان کا جھکاؤ ہندوستان مغربی ایشیا پالیسی میں توازن کا خواہشمند

سعودی عرب کی جانب ہندوستان کا جھکاؤ ہندوستان مغربی ایشیا پالیسی میں توازن کا خواہشمند

اسٹینلی جانی
وزیراعظم نریندر مودی کا دورۂ سعودی عربیہ حکومت ہند کی مغربی ایشیا ممالک کے تئیں اس کی پالیسی کو واضح کرتا ہے ۔ سنی مسلم ممالک کے تئیں حکومت ہند کی پالیسی پوری طرح ظاہر ہوتی ہے ۔ مودی کے یو اے ای دورہ کے آٹھ مہینوں کے بعد ان کا یہ سعودی عربیہ کادورہ ہے ۔ سعودی کیمپ کے ممبر کے طور پر یو اے ای جانا جاتا ہے۔
تاریخی اعتبار سے ہندوستان کی مغربی ایشیاء کے تئیں پا لیسی کثیر الثقافتی تصور کی جاتی ہے۔ سرد جنگ کے وقت ہندوستان نے ایران اور سعودی عربیہ دونوں  ممالک کے ساتھ معاشی کواپریشن کو نہایت عمدگی سے جاری رکھا۔ حالانکہ اس خطے میں یہ دونوں ممالک ایک دوسرے سے کافی عداوت رکھتے ہیں۔ تاہم ہندوستان نے برے حالات میں بھی ان دونوں ملکوں کے ساتھ بہتر روابط رکھے۔
مودی کا دورہ ریاض تاریخی پس منظر سے بالکل الگ ہٹ کر دیکھا جانا چاہئے ۔ مودی کی حکومت علاقائی پالیسی کو عمل میں لاتے ہوئے عمل میں آئی جس کی پا لیسی کو اس حکومت سے پہلے والی حکومت نے وضع کی تھی ۔ یہ اپروچ سہ جانبہ فریم ورک کو نہیں پیش کرتاہے ، لیکن اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس حکومت کا جھکاؤ سعودی عربیہ اور اسرائیل کی طرف ضرور ہے ۔ مسٹر مودی توقع کی جاتی ہے کہ وہ اسی سال اپنا پہلا دورۂ اسرائیل کرنے والے ہیں۔ اس دورے کو سعودیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان نئی دہلی کے ذریعہ توازن قائم رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔ دوسری جانب یہ بات بھی کہی جارہی ہے کہ ہندوستان ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو زیادہ بہتر بنانے میں دلچسپی نہیں دکھارہا ہے، حالانکہ ایران پر سے معاشی تحدیدات ہٹالی گئی ہیں۔

سعودی کی اہمیت
یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے تحت سعودی عربیہ کے ساتھ بہتر تعلقات  ملک کے مفاد میں ہیں۔ یہ بات اسٹیبلشمنٹ بھی جانتا ہے اور وہ اسے جاری بھی رکھنا چاہتاہے ۔ آج سعودی عربیہ ہندوستان کا سب سے بڑا کروڈ آئیل کا سپلائر ہے۔ ہندوستان ملک کی 70 فیصد اینرجی ڈیمانڈ سعودی عربیہ بلکہ ریاض کے ذریعہ پوری کرتا ہے ۔ علاوہ ازیں ہندوستان سعودی عربیہ سے سب سے زیادہ ریمنٹس حاصل کرنے والا ملک ہے۔ کم و بیش 11 ملین ہندوستانی مغربی ایشیاء میں برسر روزگار ہیں۔ کم و بیش 3 ملین ہندوستانی صرف سعودی عربیہ میں روزگار سے وابستہ ہیں۔ اس لئے اس خطہ میں استحکام اور خصوصاً سعودی عربیہ میں مستحکم حالات اور دونوں ممالک کے رشتے ہندوستان کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ یہ مسئلہ ہندوستان کے اہم ایجنڈہ کا حصہ ہے لیکن باہمی روابط حالیہ برسوں میں معاشی پلیٹ فارم پر ایسے بن گئے ہیں کہ دونوں کو سیکوریٹی پارٹنرشپ میں اہم شراکت داری نبھانے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔

دہائیوں سے ہندوستان مغربی اشیاء کا ایک فعال کھلاڑی رہاہے ۔ ہندوستان نے مغربی اشیاء سے کافی استفادہ کیا ہے اور دونوں کے روابط کافی گہرے رہے ہیں۔ کئی محاذ پر دونوں کی شراکت داری اہمیت کی حامل رہی ہے۔ منموہن سنگھ کی حکومت نے جب 2004 ء میں اقتدار سنبھالا تو اس وقت تک سعودی عربیہ اور ہندوستان کے درمیان سیاسی قرابت داری بہت زیادہ اچھی نہیں رہی۔ حالانکہ معاشی ترقی کے باوجود یہ ممکن نہ ہوسکا۔ منموہن سنگھ کے دور اقتدار میں مغربی ایشیاء کو کافی اہمیت مقبولیت حاصل ہوئی۔ ۔ منموہن سنگھ نے اس پورے خطہ کے لئے ایک اسپیشل مقرر کیا ۔ جنوری 2006 ء میں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز  کے دورہ ہند سے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں ایک گرمجوشی پیدا ہوئی ۔ ڈاکٹر سنگھ نے 2010 ء میں مملکت سعودی عربیہ کا دورہ کیا ۔ 30 برسوں میں کسی وزیراعظم کا یہ پہلا دورہ سعودی عربیہ تھا ۔ اس موقع پر ریاض ڈکلیریشن پر دستخط بھی کئے گئے جس کے باعث سیکوریٹی، ڈیفنس اور معاشی محاذوں پر کواپریشن کیلئے فریم ورک تیار ہوا ۔ اس وقت سے اب تک سیکوریٹی کواپریشن اور انٹلی جنس شراکت داری میں دونوں ممالک نے اہم رول ادا کئے ہیں۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے سنی مسلم ممالک کے ساتھ سیکوریٹی شراکت داری کو بہتر بنانے میں اہم رول ادا کیا اور مسٹر مودی نے اس پالیسی کوایک قدم آگے لے جانے کا کام کیا ہے ۔ مسٹر مودی کے دورہ یو اے ای اور دورہ سعودی عرب میں اہم فوکس دہشت گردی سے مقابلہ کرنے کے اقدامات و عوامل پر تھا ۔ ابوظہبی  اور ریاض دونوں پاکستان کے تاریخی حلیف ہیں۔ دونوں کے روابط بہت گہرے رہے ہیں۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ مسٹر مودی اپنی ملکی پالیسی کے تحت یہ چاہتے ہیں کہ یہ ممالک انسداد دہشت گردی پروگرام میں ہندوستان کے ساتھ اہم رول انجام دیں۔ ہندوستان ، پا کستان کے قریبی حلیف ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اپنے خارجہ پالیسی کو مزید استحکام کی خاطر وہ پوری طرح کوشاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مودی یہ چاہتے ہیں کہ سعودی عربیہ ہندوستان کے ساتھ مختلف محاذوں پر مل کر ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں اور معاشی استحکام کے سلسلے میں دو دو قدم آگے بڑھیں۔ یہ دونوں ممالک کے حق میں بہتر ہوگا۔ ایسے وقت میں جبکہ چین ، مغربی ایشیاء میں اپنے ہاتھ پیر پھیلانے کی کوشش رہاہے تو ہندوستان کسی بھی حالت میں خاموش نہیں بیٹھ سکتا ہے ۔ وہ حاشیہ پر رہ کر  خاموش تماشائی بنا رہنا نہیں چاہتا ہے۔ چینی صدر زی جنگ پنگ کا حالیہ دورہ مصر ، سعودی عربیہ اور ایران اس بات کی غمازی کرتاہے کہ وہ اس خطے میں اپنی موجودگی درجہ کرانا چاہتا ہے۔ بیجنگ اور تہران کے درمیان خاص طور پر روابط مضبوط ہوتے جارہے ہیں۔
ہندوستان کے ساتھ تعلقات کومزید بہتر بنانا سعودی عرب کے حق میں بھی بہتر ہے اور نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ مملکت سعودی عربیہ اس وقت جبکہ آئل کی قیمتوں میں زبردست کمی آئی ہے ، معاشی طور پر کمزور ہوا ہے۔ یو ایس کا بھی اب اس مملکت پر انحصار کم ہوگیا ہے ۔ اسے اینرجی کیلئے اس خطہ پر انحصار کی ضرورت کم ہوگئی ہے۔ آئیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث بھی چین کی طرف سے بھی ڈیمانڈ کم ہوگئی ہے۔ اس کی مارکٹ میں مسابقت کے باوجود اس بات کی توقع کی جارہی ہے کہ ایران پر سے معاشی تحدیدات ہٹانے کے بعد وہ عالمی معاشی مین اسٹریم میں خود کو لانے کی کوشش کرے گا لیکن اس کے باوجود اسے کئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اس پس منظر میں ہندوستان سعودی عربیہ کے لئے ایک بہت بڑی مارکٹ ہے ۔ اس اہمیت سے انکارنہیں کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان نے سعودی عربیہ کے  وار کوالیشن بننے سے بھی انکار کردیا ہے جو یمن پر گزشتہ ایک سال سے بمباری کر رہا ہے ۔

اہم نکتہ
لیکن سوال یہ ہے کہ دونوں ممالک کس حد تک ایک دوسرے سے دور جاسکتے ہیں۔ کیا سعودی عربیہ پاکستان کو روک سکتا ہے اور ہندوستان کی پوزیشن کی ملٹی نیشنل فورمس پر حمایت کرسکتا ہے ؟ سعودی عربیہ ہندوستان کے ساتھ بڑھتے تعلقات کا استعمال کرسکتا ہے اور وہ اس کے ذریعہ پاکستان پر دباؤ ڈال سکتا ہے لیکن ریاض کی جنوبی ایشیاء کی اسٹرکچرل اوور ہال پالیسی کارڈ پر نہیں ہے ۔ پاکستان مجموعی طور پر ایک ایسے اسلامک ملک کے طور پر جانا جاتا ہے جو سعودی عربیہ کا تاریخی حلیف رہاہے۔ اس لئے اگر ہندوستان مغربی ایشیاء کی پالیسی ری ایکٹی ویٹ کر رہا ہے تو وہ صرف پاکستان کے منشور کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایسا کر رہا ہے۔ اس کی وجہ سے اسٹریٹجک غلطیوں کی اصلاح کرنا چاہتا ہے ۔ مغربی ایشیاء کی طرف اپنے جھکاؤ کے ذریعہ ہندوستان مختصر مدتی ہدف کو حاصل کرسکتا ہے ۔ ممکن ہے اس جھکاؤ کی وجہ سے دونوںممالک کے روابط میں مزید استحکام پیدا ہوسکتا ہے اور دونوں معاشی طور پرایک دوسرے کو فائدہ پہنچاتے ہوئے ایک دوسرے کے اور قریب آسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT