Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / سعودی عرب کی مسجد میں خودکش حملہ، 4 مصلی جاں بحق

سعودی عرب کی مسجد میں خودکش حملہ، 4 مصلی جاں بحق

مشرقی صوبہ میں پیش آئے واقعہ کے بعد مسجد کے پاس ایمبولنس گاڑیوں کا اژدھام ، پولیس کا محاصرہ

ریاض، 29 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے مشرقی صوبہ کی ایک مسجد میں آج خودکش بمبار کی کارروائی میں چار مصلی جاں بحق اور 18 دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ نمازجمعہ کے دوران پیش آیا۔ صیانتی عہدہ دار اور ایک عینی شاہد نے جو اس علاقہ میں تازہ ترین حملے کا گواہ ہے، دونوں نے بتایا کہ حملہ مسجد امام رضا میں پیش آیا، جو مھاسن کے مضافات میں واقع ہے۔ یہ علاقہ شیعہ کارکنوں میں انتہائی مقبول ہے، جو سرکاری زیر انتظام سعودی عربین آئل کمپنی میں ملازم ہیں۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی تیل پیدا کرنے والی کمپنی ہے۔ سوشل میڈیا پر جو تصاویر پیش کی گئی ہیں، ان میں مسجد کے صحن میں کئی زخمیوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔ ہلاکتوں کی ابتدائی تعداد کے بموجب جو صیانتی عہدہ داروں نے ظاہر کی، تین افراد ہلاک ہو گئے جبکہ عہدہ داروں نے اپنی شناخت پوشیدہ رکھنے کی
درخواست کی ہے، کیونکہ ابھی انھیں ہلاکتوں کی تعداد ظاہر کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا ہے۔

تاہم الجزیرہ نیوز چیانل نے ترجمان وزارت داخلہ کے حوالے سے مہلوکین کی نئی تعداد بتائی۔ وزارت نے تحریری بیان میں کہا کہ سکیورٹی پرسونل نے دو بمباروں کو مسجد میں گھسنے سے روک لیا۔ عینی شاہد محمد النمر نے کہا کہ صیانتی افواج اور ایمبولنس گاڑیوں نے فوری مسجد کو گھیر لیا۔ اس نے کہا کہ یہ فائرنگ کا واقعہ تھا۔ مصلیوں نے حملہ آور کو خودکش بموں کا کمربند دھماکہ سے اڑا دینے سے روک دیا۔ سعودیہ کے سرکاری میڈیا کے بموجب حملہ کے بعد پیدا ہونے والے انتشار کے عالم میں سعودی پولیس نے اسالٹ رائفلوں سے فضائی فائرنگ کی، تاکہ برہم ہجوم کو جس نے پولیس کار کو گھیر لیا تھا اور مشتبہ حملہ آور کو پکڑ لیا تھا، منتشر کیا جاسکے۔ مشتبہ حملہ آور کو سکیورٹی والوں نے گرفتار کرلیا ہے۔ ہوائی فائرنگ کی ویڈیو فلم کے مطابق سعودی عرب کے شیعہ افراد نے جو سنی زیر اقتدار مملکت کی جملہ آبادی کا 10 تا 15 فیصد اقلیتی گروپ ہیں، جن میں سے بیشتر ملک کے تیل پیدا کرنے والے مشرقی صوبہ میں مقیم ہیں، دولت اسلامیہ گروپ کے حملوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ آج کے حملہ کی کسی بھی گروپ نے فوری طورپر ذمہ داری قبول نہیں کی۔ جاریہ ماہ سعودی عہدہ داروں نے ایک نامور شیعہ عالم دین کو سزائے موت پر عمل درآمد کیا تھا، جس کی وجہ سے اس علاقہ میں کشیدگی پیدا ہوئی ہے ۔ عینی شاہد محمد النمر سزائے موت پانے والے عالم دین شیخ نمر النمر کے بھائی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT