Thursday , August 17 2017
Home / عرب دنیا / سعودی عرب کے بجٹ 2015ء میں زبردست خسارہ

سعودی عرب کے بجٹ 2015ء میں زبردست خسارہ

98 ارب امریکی ڈالر خسارہ کا تخمینہ، دفاعی اخراجات میں اضافہ اور تیل کی قیمت میں کمی کا نتیجہ
ریاض ۔ 28 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) اوپیک کے سب سے بڑے رکن سعودی عرب نے اپنا خسارہ بجٹ 2015ء شائع کردیا ہے جس میں تیل کی قیمتوں میں زبردست انحطاط کی وجہ سے 98 ارب امریکی ڈالر مالیتی خسارہ بتایا گیا ہے۔ 608 ارب ریال (162 ارب امریکی ڈالر) مالیہ وصول ہونے کا تخمینہ تھا لیکن توقع سے بہت کم مالیہ وصول ہوا۔ سعودی عرب کی تاریخ میں یہ بجٹ کا بلند ترین خسارہ ہے۔ سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کنندہ ملک ہے لیکن اتنا بڑا بھی نہیں ہے جتنا کہ بعض دیگر ممالک کو توقع تھی۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ میں 2015ء کا خسارہ تقریباً 130 ارب امریکی ڈالر مقرر کیا تھا اور اطلاعات کے بموجب 100 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ خسارہ ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا تھا۔ یہ مسلسل دوسرا سال ہے جبکہ سعودی عرب نے خسارہ بجٹ پیش کیا ہے۔ آمدنی توقع سے 15 فیصد کم رہی اور 2014ء کی بنسبت خسارہ 42 فیصد کم ہوا۔ تیل کی آمدنی عام طور پر جملہ مالیاتی 90 فیصد ہوتی ہے ۔ سعودی عرب جاریہ سال بھی بھاری اخراجات میں ملوث رہا اس نے مہنگے فوجی مداخلتیں یمن میں تھیں جس کی وجہ سے بجٹ میں خسارہ ہوا ۔ تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے اس خسارہ میں مزید اضافہ ہوگیا۔

TOPPOPULARRECENT