Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / سعودی عرب کے میونسپل انتخابات، 5 خاتون امیدوار منتخب

سعودی عرب کے میونسپل انتخابات، 5 خاتون امیدوار منتخب

سلمیٰ بنت حزاب مملکت کی پہلی منتخب خاتون، تاریخ ساز نتائج
ریاض۔13 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب میں مقامی میونسپل کونسل کیلئے 5 خواتین منتخب منتخب ہوئیں ہیں ۔ یہ پہلا موقع تھا کہ خواتین کو ووٹ دینے اور انتخابی مقابلہ کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ غیر معمولی طور پر قدامت پسند مملکت سعودی عرب میں اس نتیجہ کو ایک سنگ میل سمجھا جارہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے صدر اسامہ البر کے حوالہ سے سرکاری خبررساں ادارہ ایس پی اے نے خبردی ہے کہ مقدس شہر مکہ مکرمہ کی مدراکہ میونسپل کونسل کے لئے سلمی بنت حزب  العتیبی منتخب ہوئی ہیں جنہیں سات مرد اور دو خاتون امیدواروں سے مقابلہ درپیش تھا۔ سعودی عرب میں مطلق شاہی حکومت ہے جہاں خواتین پر بشمول کار ڈرائیونگ کے دیگر کئی سخت ترین پابندیاں عائد ہیں۔ صرف مردوں کو ووٹ دینے کی اجازت دینے والا یہ دنیا کا آخری ملک بھی تھا جہاں پہلی مرتبہ خواتین کو بھی ووٹ دینے اور انتخابی مقابلہ کرنے کی اجازت دی گئی۔ ہفتہ کو منعقدہ رائے دہی کے موقع پر مرد اور خاتون رائے دہندوں کے لئے علیحدہ پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے تھے۔ ان انتخابات میں مقابلہ کرنے والے 6,440 امیدوار میں 900 خواتین بھی شامل تھیں جنہیں تاریخ ساز انتخابات میں حصہ لینے کے دوران کئی رکاوٹوں کا سامنا رہا۔ خاتون امیدواروں کو ان کی مہم کے دوران مرد رائے دہندوں سے راست ربط پیدا کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ آج ابتدائی نتائج میں 5 خاتون امیدواروں کو جن کا تعلق ملک کے مختلف حصوں سے ہے منتخب قرار دیا گیا ہے اور اس طرح انہوں نے ایک نئی تاریخ بنائی ہے ۔دارالحکومت ریاض اور دیگر بڑے علاقوں کے نتائج کا توقع ہے کہ کل اعلان کیا جائے گا ۔ انتخابی مہم کے دوران کئی خاتون امیدواروں نے ملازمت پیشہ خواتین کیلئے ممکنہ سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کا وعدہ کیا ہے ۔ تیل کی دولت سے مالا مال سعودی عرب انتہائی عصری انفراسٹرکچر سے آراستہ ہے۔ جہاں عالیشان شاپنگ مالس، آسمان چھونے والی بلند عمارتیں اور ہر طرف صاف ستھری کشادہ سڑکوں اور شاہراہوں کا وسیع نٹ ورک ہے۔
شاہ سلمان کے السعود خاندان کے زیر اقتدار مملکت سعودی عرب میں منتخب مقننہ نہیں ہے اور اس کو انسانی حقوق ریکارڈ پر مغربی ممالک کی سخت تنقیح کا سامنا رہتا ہے۔ شاہ سلمان کے پیشرو شاہ عبداللہ کے دور میں خواتین کے حقوق کی فراہمی میں سست رفتار توسیع کا آغاز ہوا تھا۔ چار سال قبل شاہ عبداللہ نے 2015 ء سے خواتین کو انتخابی عمل میں شمولیت کی اجازت دینے کا اعلان کیا تھا۔ ڈاکٹر لما السلیمان اور رشا حفیظم دیگر دو منتخب خاتون امیدوار ہیں۔

TOPPOPULARRECENT