Friday , September 22 2017
Home / اداریہ / سعودی عرب ۔ ترکی تعلقات

سعودی عرب ۔ ترکی تعلقات

کِھلے ہیں پھول مگر ان میں تازگی کم ہے
چراغ جل تو رہے ہیں پہ روشنی کم ہے
سعودی عرب ۔ ترکی تعلقات
ترکی اور سعودی عرب نے اپنے خطہ میں سکیورٹی، سلامتی، استحکام اور ترقی کے لئے اپنے عوام کی خواہشات کے مطابق کام کرنے کا عہد کیا ہے۔ شاہ سعودی عرب شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے صدر ترکی رجب طیب اردغان سے باہمی تعلقات پر بات چیت کی۔ دونوں ملکوں کو اس وقت سیاسی، معاشی، تجارتی، فوجی اور سکیورٹی تعلقات کو مضبوط و مستحکم بنانے کے ساتھ تعلقات کو ایک نئی سطح اور بلندی عطا کرنے کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی جس پر دونوں سربراہان مملکت نے اپنی ملاقات میں حتمی توجہ دی ہے۔ شاہ سلمان کے دورہ ترکی کے بعد سعودی عرب اور ترکی کے دیرینہ اختلافات کو دور کرنے میں بھی مدد ملی ہے۔ مصر میں صدر محمد مرسی کی حکومت کو بیدخل کردینے کے بعد سے دونوں ملکوں کے روابط میں دوری پیدا ہوئی تھی۔ اب علاقائی سیاست اور یمن پر اختلافات کو دور کرتے ہوئے ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی کوشش اچھی پہل ہے۔ شام کی صورتحال نے ان دو ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا ہے تو شام میں قیام امن اور شامی عوام کو سکون کی زندگی نصیب کرانے کی جلد سے جلد کوشش کرنی چاہئے۔ اس خصوص میں صدر ترکی طیب اردغان کا موقف یہی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اگر مضبوط تعلقات ہوں تو خطہ میں رونما ہوئے حالات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ مصر کے حالات پر ترکی کو جتنا افسوس اور صدمہ ہے اس کا دیگر ممالک کو اندازہ نہیں ہے کیوں کہ 2013 ء میں محمد مرسی کی حکومت کی بیدخلی سے ترکی کو سب سے زیادہ جھٹکہ لگا تھا۔ صدر ترکی طیب اردغان اخوان المسلمین کے سب سے بڑے حامی ہیں۔ اخوان المسلمین کی موافق مسلم جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کی پالیسی نے ہی ترکی میں اُٹھنے والی قوم پرستانہ بغاوت کے خلاف بڑی جدوجہد کا کام کیا تھا۔ ترکی نے محمد مرسی کی بحالی کی پرزور وکالت کی تھی تو سعودی عرب نے مرسی کی بیدخلی کی پرزور حمایت کی تھی۔ سعودی عرب کے موقف سے حوصلہ پاکر ہی مصر کے طاقتور عہدیداروں نے اخوان المسلمین کے خلاف کارروائی کی لیکن ماضی اور حال میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ شاہ سلمان نے جب سے سعودی عرب کی باگ ڈور سنبھالی ہے بحیثیت شاہی فرمانروا دنیا کے دیگر ملکوں کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا آغاز کیا جس میں انھیں کامیابی بھی مل رہی ہے۔ مصر کے دورہ کے بعد انھوں نے ترکی کا دورہ کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا ہے کہ سعودی عرب ہر ایک ملک کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینا چاہتا ہے۔ اب ترکی اور سعودی عرب کے درمیان شام کے مسئلہ پر قربت پیدا ہوئی ہے تو اس کے نتائج کیا ہوں گے یہ وقت ہی بتائے گا۔ فی الحال دونوں ممالک شام کی بشارالاسد حکومت کی بیدخلی کو ضروری سمجھتے ہیں۔ رجب طیب اردغان نے بشارالاسد کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرتے ہوئے بہتری کی کوشش کی تھی۔ مگر بشارالاسد کی فوج نے جب سنی غلبہ والے علاقوں میں قتل عام کرنا شروع کیا تو یہ کارروائی ترکی کے لئے ناقابل قبول تھی۔ شام کی صورتحال کو بہتر بنانے کی جدوجہد جاری ہی تھی کہ اب شام میں روس نے مداخلت کرکے امن کے قیام کے امکانات کو موہوم کردیا ہے۔ اس لئے ترکی اور سعودی عرب اس خطہ کے مضبوط اتحادی بن کر عالم عرب اور مسلم دنیا میں امن، خوشحالی، ترقی کو یقینی بنانے کے لئے کام کرسکتے ہیں۔ مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی کو ایک مضبوط ادارہ بنانے کی جانب بھی دیانتدارانہ کوشش کی جائے تو او آئی سی مسلم ملکوں کے مسائل کی یکسوئی اور ان کی داخلی سلامتی کو یقینی بنانے میں اہم رول ادا کرسکتا ہے۔ ترکی کی خارجہ پالیسی میں اصل مقصد پڑوسی ملکوں کے ساتھ مسائل کو کم کردیا جائے۔ مسائل جتنے کم ہوں گے تعلقات اتنے ہی مضبوط ہوں گے۔ بلاشبہ ترکی نے اپنی سرحدوں پر پیدا ہونے والے بحران کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب صدر ترکی رجب طیب ار دغان کو بحران پیدا کرنے والے واقعات سے گریز کرتے ہوئے بحران کی یکسوئی کی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ عالم اسلام میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرنے والی طاقتوں کو ناکام بنانا ہی سعودی عرب اور ترکی کا اصل مقصد ہونا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT