Tuesday , August 22 2017
Home / اداریہ / سعودی عرب ۔ مصر تعلقات

سعودی عرب ۔ مصر تعلقات

ایسا لگتا ہے کہ پھر اک انقلاب آنے کو ہے
تم کو اندازہ نہیں پوری طرح حالات کا
سعودی عرب ۔ مصر تعلقات
مصر میں اقتدار کی تبدیلیوں کے تلخ واقعات اور محمد مرسی کی بیدخلی کے بعد صدر کی حیثیت سے عبدالفتح السیسی نے دیگر عرب ملکوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ اس کوشش کے حصہ کے طور پر سعودی عرب کے ساتھ روابط پہلے سے زیادہ بہتر ہوئے ہیں۔ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ملکوں نے صدر السیسی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مصر کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے علاوہ اربوں ڈالرکی امداد بھی دی ہے۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے 5 روزہ دورہ مصر کو عالمی سطح پر نہ سہی علاقائی سطح پر اہمیت دی جارہی ہے۔ سعودی عرب اور مصر کے درمیان رابطہ کاری کو مضبوط بنانے کی غرض سے سعودی فرمانروا نے سعودی عرب اور مصر کے درمیان ایک راست پل کی تعمیر کا اعلان کیا۔ یہ پل سعودی عرب کے شہر راس الخیمہ میں بحر احمر پر پل بنا کر مصر کے شہر سے جوڑا جائے گا، اس پل کی تعمیر سے دو اتحادی ملکوں کے درمیان تجارت کو فروغ حاصل ہوگا۔ اس پل کی وجہ سے دوبراعظموں ایشیاء اور افریقہ کے مابین تجارت میں بھی غیرمعمولی اضافہ متوقع ہے۔ اس طرح دونوں جانب باہمی مفادات کو حقیقت کا روپ دینے میں مدد ملے گی۔ تمام شعبوں میں ہر سطح پر دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنا ضروری تھا۔ شاہ سلمان نے ایک سال کے اندر اپنے اقتدار کی تمام ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دینے کی کوشش کی ہے۔ سعودی عرب اور مصر کی کمپنیوں کے درمیان مذاکرات کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے تو دونوں جانب تعاون کو وسعت حاصل ہوگی۔ اگر سعودی عرب کے سرمایہ کار مصر کی مارکٹ میں پیسہ لگانے کو اولین ترجیح دیتے ہیں تو قریبی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ مشرق وسطیٰ اور عرب دنیا میں اس وقت سب سے نازک صورتحال شام، عراق اور لبنان کی ہے۔ یمن اور فلسطینی مسائل کی یکسوئی بھی ضروری ہے۔ شاہ سعودی عرب کا یہ دورہ تمام عرب ملکوں کو مضبوط بنانے کا کام کرتا ہے تو اس سے مستقبل میں بہتر حالات کی توقع پیدا ہوگی۔ مصر اور سعودی عرب نے 8 معاہدوں یادداشت مفاہمت اور 3 تعاون عمل کے پروگراموں کو قطعیت دینے کیلئے دستخط کئے ہیں۔ اس سے دونوں جانب تعلیم، صحت، امکنہ، زراعت، برقی اور بحری ٹرانسپورٹیشن کے بشمول کئی شعبوں میں تعاون حاصل ہوگا۔ جہاں تک شام میں بشارالاسد حکومت کے خلاف صدر مصر کے نرم رویہ کا سوال ہے اس پر سعودی عرب کو کچھ ناراضگی ہے۔ سعودی عرب چاہتا ہیکہ یمن میں باغیوں کے خلاف اس کی جنگ کیلئے مصر کی حمایت حاصل ہوجائے۔ اس سلسلہ میں مصر کا موقف غیرواضح ہے۔ اگرچیکہ عرب دنیا میں مصر کا ساتھ سعودی عرب کے لئے اس لئے ضروری ہے کیونکہ یمن کے راستے ایران نے بعض ملکوں کو خاص کر سعودی عرب کو ناراض رکھا ہے۔ ان دنوں عالم عرب کو داخلی اور قومی سلامتی چیلنجس کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود دونوں ممالک مصر اور سعودی عرب نے اپنے درمیان تعلقات کو بہتر بناتے ہوئے اسے صحت مندانہ قرار دینے کی کوشش کی ہے تو ان دو سرکردہ عرب ملکوں کو مستقبل کے حالات کا اندازہ کرلینا چاہئے کیونکہ شام، یمن اس وقت عالم عرب کے سینے پر گرم سلاخ کا کام کررہے ہیں۔ مصر کے ساتھ سعودی عرب کے علاوہ متحدہ عرب امارات اور کویت نے مالیہ فراہم کرنے میں حوصلہ افزاء مظاہرہ کیا ۔ مصر کو دی جانے والی امداد خطہ میں حکمت عملی کو تبدیل بھی کرسکتی ہے کیونکہ پٹرول کی قیمتوں میں کمی اور علاقائی مسائل پر اختلافات برقرار رہتے ہیں تو پھر اس طرح کی مضبوط مالی امداد کی معقولیت پر سوال اٹھیں گے۔ مصر کو 2011ء سے سیاسی اتھل پتھل کے باعث معاشی بدحالی سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ صدر حسنی مبارک کی معزولی کے بعد مصر میںمعاشی طور پر کئی مسائل پیدا ہوئے ہیں لیکن سعودی عرب اور دیگر عرب خلیجی ملکوں نے دست تعاون دراز کرکے مصر کی معیشت کو سدھارنے میں مدد کی، جس کے بعد انفراسٹرکچر میگا پراجکٹ کے ذریعہ اس کثیر آبادی والے ملک مصر میں روزگار پیدا کرنے کے مواقع حاصل ہوئے۔ اب تک سعودی عرب نے مصر کے اندر سرمایہ کاری کی ہے اور راحت بخش قرضے بھی دیئے ہیں، مگر یہ مالی تعاون کا عمل شاہ سعودی عرب کے دورہ کے بعد بھی جاری رہے گا یا نہیں یہ دونوں ملکوں کے معاہدوں اور ان پر عمل آوری کے نتائج پر منحصر ہے۔ بحر احمر پر پل کی تعمیر کے فیصلے سے تجارت اور عوام سے عوام روابط کو فروغ حاصل ہونے کی قوی توقع کی جاسکتی ہے۔ سعودی عرب نے مصر کے ساتھ اگر 590 ملین ڈالر کے ترقیاتی معاہدوں پر دستخط کئے ہیں تو یہ تجارتی نکتہ نظر سے مثبت سمجھے جارہے ہیں۔ جہاں تک عراق، شام اور یمن میں خانہ جنگی کا سوال ہے۔ سعودی عرب کو مصر جیسے حمایتی حلیف ملک کی ضرورت کو وقت کا تقاضہ سمجھا جاسکتا ہے۔
تلنگانہ میں شدید گرمی
تلنگانہ میں گرمی کی شدت اور درجہ حرارت کی صورتحال کو تشویشناک سمجھا جارہا ہے۔ آندھراپردیش اور تلنگانہ میں گرمی اور لو لگنے سے 112 شہریوں کی اموات درج کی گئی ہیں۔ حکومت تلنگانہ نے گرمی کی شدت اور لو سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کیلئے ایک ’’ایپ‘‘ الرٹ پروگرام شروع کیا ہے۔ موبائیل فونس کے ذریعہ موسم کی بدلتی صورتحال سے عوام کو واقف کروایا جائے گا۔ گرما میں سب سے اہم مسئلہ پینے کے پانی کا ہوتا ہے۔ حکومت نے اس سال ریاست کو خشک سالی سے بچانے کے اقدامات کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ مواضعات میں رہنے والے عوام کیلئے گرما کی صورتحال اور پانی کی قلت کا سنگین مسئلہ بن جاتی ہے۔ ضلع نلگنڈہ میں اس سال کا سب سے زیادہ درجہ حرارت 45 ڈگری سلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ گرما کے موسم کے ابتداء میں درجہ حرارت میں اضافہ کو دیکھ کر ریاستی حکومت کو احتیاطی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ریاست کو آفات سماوی راحت فنڈ کے حصہ کے طور پر مرکز نے 380 کروڑ روپئے جاری کئے تھے لیکن ریاستی حکومت کو مابقی 400 کروڑ روپئے مرکز سے جاری ہونے کا انتظار ہے حالانکہ ریاست تلنگانہ میں اس سال خشک سالی سے متاثرہ منڈلس میں راحت کے کاموں کی انجام دہی کیلئے 3000 کروڑ روپئے کی ضرورت ہے۔ ریاستی حکومت کی درخواست کے باوجود مرکز نے صرف 780 کروڑ روپئے منظور کئے تھے۔ ان 780 کروڑ میں سے صرف 380 کروڑ ہی جاری کئے گئے۔ ریاست میں موسم کے قہر سے ہونے والے نقصانات سے بچاؤ کاری اقدامات کیلئے مرکزی امداد کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا موجودہ حالات میں تمام سیاسی پارٹیوں کو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر مرکز سے نمائندگی کرنی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT