Tuesday , May 30 2017
Home / اداریہ / سعودی عرب ۔ ٹرمپ انتظامیہ

سعودی عرب ۔ ٹرمپ انتظامیہ

عالم اسلام کے تعلق سے صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیاں سخت گری ہونے کے درمیان خاص کر 6 مسلم ممالک کے شہریوں پر سفری پابندی عائد کردینے کی پالیسی کو نظرانداز کرتے ہوئے سعودی عرب نے ٹرمپ انتظامیہ سے دوستی کی راہ مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے تو اس پر کئی گوشوں کی رائے مختلف رہی۔ آئندہ ہفتہ اردن میں منعقد ہونے والی عرب چوٹی کانفرنس میں ہوسکتا ہے کہ سعودی عرب اور امریکہ کی دوستی میں آنے والی نئی گہرائیوں پر غور ہوگا۔ نائب ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ واشنگٹن کو اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ ایسے میں عرب چوٹی کانفرنس کے شرکا کی جانب سے اس کانفرنس میں کوئی تاریخی قرارداد منظور کرنے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ عرب دنیا یا مشرق وسطی میں اس وقت جو کچھ حالات ہیں اس پر امریکہ کا موقف دوہرے پن کا شکار ہے۔ اس کے باوجود سعودی عرب نے ٹرمپ انتطامیہ کے ساتھ خوشگوار روابط میں پہل کی ہے۔ شام اور عراق کے علاوہ ایران، فلسطین کے حالات سے سعودی عرب بے خبر نہیںہوسکتا۔ اس کے نائب ولیعہد شہزادہ سلمان کے دورے کا مقصد یہی معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب سابق صدر اوباما نظم و نسق کی طرح ٹرمپ انتظامیہ سے بھی سلامتی، معاشی، تجارتی اور سیاسی امور کے ساتھ تمام شعبوں میں ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کی سمت میں گامزن ہونا چاہتا ہے۔ امریکہ کو بھی سعودی عرب سے دوستی کو مستحکم کرنا منفعت بخش ہے کیوں کہ نئے صدر ٹرمپ کی تجارتی سرگرمیاں سعودی عرب سے زیادہ ہیں تو یہ مفادات سابق اوباما نظم و نسق سے زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ بظاہر داعش یا اس طرح کے گروپس کے خاتمہ کے لیے سعودی عرب کے تعاون کو ترجیح دینے والے ٹرمپ انتظامیہ نے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی پالیسیوں پر کوئی توجہ نہیں دی ہے۔ سعودی عرب کو اپنے ویژن 2030ء کی خاطر امریکہ سے دوستی کو آگے بڑھانے میں دلچسپی ہے تو اسے مسلم ملکوں میں پائی جانے والی کیفیت اور عرب دنیا کے حالات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ عرب چوٹی کانفرنس کا انعقاد بھی نشستن گفتند اور برخاستن ثابت ہو تو پھر دو ملکوں کی دوستی صرف اپنے مفادات کے تحفظ کے تابع سمجھی جائے گی۔ سعودی عرب میں امریکی سرمایہ کاری کی حمایت کرنے والے ٹرمپ نے 200 بلین ڈالر کے سرمایہ کاری پروگرام کو فروغ دینے کی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب نے ٹرمپ کے اگزیکٹیو احکامات کی حمایت بھی کی ہے۔ اگر سعودی عرب نے ٹرمپ کے سفری تحدیدات یا تارکین وطن کے بارے میں ان کی پالیسی کو امتیازی خیال نہیں کیا ہے تو اس سے عالم اسلام میں جو تاثر جائے گا وہ آگے چل کر نئی حیثیت کا موضوع بن سکتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس وقت ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ سعودی عرب کو ایک دوسرے کی ضرورت سمجھ کر آگے بڑھنے میں دلچسپی ہو مگر آنے والے دنوں میں ٹرمپ کی پالیسیاں اس عرب ملک کے لیے کتنی پائیدار ہوں گی یہ وقت ہی بتائے گا۔ اس لیے سعودی عرب کو مستقبل میں عالم اسلام کے حوالے یا دہشت گردی کے معاملوں میں امریکہ کی پالیسیوں کے بارے میں محتاط رہنا پڑے تو وہ ایسا کرنے سے قاصر رہے گا کیوں کہ سعودی۔امریکہ کے مفادات جب ٹکرائیں گے تو اس سے منصوبوں اور مقاصد کو دھکہ بھی پہنچ سکتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں میں ابھی پختگی کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ اس انتظامیہ کی 100 روزہ کارکردگی پر مبنی رپورٹ آنے تک سعودی عرب کو امریکہ کے تعلق سے اپنی گہری دلچسپی اور مشرق وسطی کے حالات کے تناظر میں کچھ نہ کچھ احتیاطی پالیسی اقدامات کرنے چاہئے۔ عرب امن اقدامات کی سرپرستی کرنے والے سعودی عرب کو ٹرمپ سے دوستی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فلسطین۔اسرائیل امن مذاکرات کے احیاء میں پہل کرے تو یہ ایک جامع پالیسی سازی کے لیے مناسب کوشش ہوگی۔ اس وقت سارے عرب خطہ میں جو بے چینی پائی جاتی ہے اس کو دور کرنے کے لیے سعودی عرب کو ہی بڑے بھائی کا رول ادا کرتے ہوئے امریکہ کو مشرق وسطی امن اقدامات کے لیے کامیاب کوشش کرنے کی ترغیب دینی چاہئے۔ امن کی بحالی میں دوہری پالیسی کی وجہ سے ہی آج شام، عراق، فلسطین اور دیگر ممالک بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT