Saturday , August 19 2017
Home / عرب دنیا / سعودی مذہبی پولیس کو نرمی اور رحم دلی سے کام کرنے کی ہدایت

سعودی مذہبی پولیس کو نرمی اور رحم دلی سے کام کرنے کی ہدایت

حیفہ متوع فورس، کسی کی گرفتاری یا تعاقب کے اختیار سے محروم، کابینہ کا فیصلہ
ریاض ۔ 13 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) حکومت سعودی عرب نے مختلف گوشوں کی سخت تنقیدوں کا سامنا کرنے والی اپنی مذہبی پولیس (متوع) کو کسی شخص کی گرفتاری کے اختیارات سے محروم کردیا اور ہدایت کی کہ اسلامی قوانین کے نفاذ کے کام میں وہ (متوع) نرم اور رحم دلانہ انداز میں کام کریں۔ سعودی کابینہ کی طرف سے منظورہ تبدیلیوں کے تحت مذہبی افسران (متوع) کو اب کسی بھی شخص کو حراست میں لینے کی اجازت نہیں رہے گی۔ بجائے اس کے کسی قانون کی خلاف ورزی کا پتہ چلنے پر وہ انسداد منشیات دستہ یا پولیس ذمہ داروں کو اطلاع دے سکتے ہیں۔ حیفہ فورس کے افسران جو متوع کہلائے جاتے ہیں انہیں نئے قوانین کے تحت نرم اور شائستہ انداز میں مشورہ دیتے ہوئے نیکی کو پھیلانے اور برائی کو روکنے کیلئے کام کرنا ہوگا۔ جدید قواعد میں کہا گیا ہیکہ ’’حیفہ کے سربراہان یا ارکان (متوع) اب کسی شخص کو گرفتار نہیں کرسکتے۔ مذہبی گرفتاری کیلئے کسی کا تعاقب کرسکتے ہیں یا پھر انہیں کسی کا شناختی کارڈ طلب کرنے کی اجازت بھی نہیں رہے گی

کیونکہ اس کام کو پولیس کے دائرہ اختیار کے تحت تصور کیا گیا ہے۔ سعودی عرب کی یہ مذہبی پولیس اپنے ملک میں اسلامی قوانین کی سخت تشریحات نافذ کرتی ہے، جس میں عام مقامات پر خواتین کے سر تا پیر پردہ کو یقینی بنانے کے علاوہ مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے سے علحدہ رکھنا شامل ہے۔ نئے قواعد سے قبل متوع کو شراب نوشی، منشیات کے استعمال یا جادو ٹونے جیسے دیگر جرائم میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کی اجازت حاصل تھی۔ ان (متوع) کے طریقہ کار مسلسل تنازعہ کا موضوع بنتے رہے ہیں۔ حالیہ واقعہ کے مطابق فروری میں ریاض کے ایک شاپنگ مال کے باہر ایک نوجوان لڑکی کو مبینہ زدوکوب کرنے پر متوع فورسیس کے ارکان کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ 2013ء میں مذہبی پولیس کے افراد کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب ان کی گاڑی نے دوسری گاڑی کا تعاقب کیا تھا جس کے نتیجہ میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT