Thursday , August 17 2017
Home / مضامین / سعودی میں تارکین وطن پر ٹیکس

سعودی میں تارکین وطن پر ٹیکس

کے این واصف
سعودی عرب کی معیشت پچھلے کوئی پانچ برس سے پستی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ حقیقت ساری دنیا پر عیاں ہے اور مملکت میں مجموعی طور پر خارجی باشندے ہوں یا مقامی سب ہی خراب مالی حالات کی وجہ سے پر یشان ہیں لیکن سب سے زیادہ اس کا اثر تعمیراتی شعبہ پر ہے اور اس کا اثر تعمیراتی مواد فروخت کرنے والی اور تیار کرنے والی کمپنیوں  پر بھی ہے ۔ اس شعبہ کے ملازمین کئی ماہ سے تنخواہ سے محروم ہیں ۔ خراب مالی حالات کا اثر اب وائرس کی طرح دیگر شعبہ جات کو بھی متاثر کرنے لگا ہے ۔ آج کل مارکٹ میں پیسہ کا شدید بحران نظر آتا ہے ۔ ایسے حالات میں پچھلے ہفتہ سعودی عرب میں تارکین وطن پر ٹیکس لاگو کئے جانے کی خبر نے تو غضب کردیا ۔ اس خبر نے متوسط اور چھوٹی  ملازمتوں پر کام کرنے والوں کے حوصلے بری طرح پست کردیئے ہیں۔ ٹیکس لاگو کئے جانے کی تفصیلات کچھ یوں تھی کہ سعودی عرب کی شوریٰ کونسل کی مالیاتی کمیٹی نے تارکین وطن کی ترسیلات زر پر مجوزہ ٹیکس کی حمایت کردی ۔ اس ٹیکس کی شرح پہلے سال 6 فیصد ہوگی ، پھر بتدریج کم ہوکر 2 فیصد ہوجائے گی اور پانچ سال کے بعد یہی 2 فیصد شرح برقرار رہے گی ۔ خبر کے مطابق ٹیکس تجویز کا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے ۔ تجویز میں کہا گیا کہ اس طریقے سے تارکین وطن سعودی عرب میں رقوم خرچ کرنے یا سرمایہ کاری کرنے کے پابند ہوں گے ۔ یہ ٹیکس تارکین وطن کی جانب سے اپنے آبائی وطن کو منتقل کی جانے والی تمام رقوم پر عائد ہوگا جو یہاں کے مالیاتی ادارے وصول کریں گے اوراس کی رقم حکومت کے ایک خصوصی بینک کھاتے میں جمع کی جائے گی ۔  سعودی عرب کے مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق کسی تارک وطن کی جانب سے ایک وقت میں بھیجی جانے والی رقم کی بھی ایک حد مقرر ہوگی ۔اس کے علاوہ تارکین وطن پر سعودی عرب چھوڑنے کی صورت میں یہ بھی پابندی ہوگی کہ وہ کیا کیا چیزیں اپنے ملک منتقل کرسکتے ہیں۔ مالیاتی کمیٹی کی تجویز میں ٹیکس نہ دینے والوں کے خلاف متعدد اقدامات متعارف کرائے جائیں گے اور جرمانے کی رقم بچائے گئے ٹیکس کی رقم کے برابر ہوگی ۔ پھر ہر خلاف ورزی پر رقم دگنی ہوتی جائے گی۔ اپنی تنخواہوں کے جعلی گوشوارے جمع کرانے یا ملازمین کی جانب سے منتقل کی گئی رقومات سے متعلق غلط گوشوارے جمع کرانے والوں پر بھی جرمانے عائد کئے جائیں گے ۔ مالیاتی کمیٹی کا کہنا تھا کہ تارکین وطن پرٹیکس لگانے کا مقصد ملکی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے ۔ کمیٹی کی جانب سے یہ تجویز ان رپورٹس کے بعد سامنے آئی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ تارکین وطن کی جانب سے ترسیلات زر کی مالیت 2014 ء میں بڑھ کر 135 ارب سعودی ریال ہوگئی تھی ۔ 2005 ء میں ترسیلات زر کی مالیت 56 ارب سعودی ریال تھی۔

سعودی عرب میں کام کرنے والے تقریباً ایک کروڑ تارکین وطن کو تین حصوں میں تقسیم کر کے دیکھا جائے یعنی بڑی آمدنی والے ، متوسط درجہ اور چھوٹی ملازمتیں کرنے والے یہاں ایسے چند ہزار تارکین ہیں جن کا اپنا بزنس ہے یا وہ جو بہت بڑی پوزیشن پر کام کرتے ہیں۔ فی الحال ہم اس زمرے کے افراد کو اپنی گفتگو سے خارج رکھیں گے اور بات کریں گے ۔ متوسط اور چھوٹی ملازمتوں پر کام کرنے والوں کی کیونکہ سعودی عرب میں کام کرنے والے تارکین وطن کی اکثریت اس زمرے میں آتی ہے ۔ متوسط درجہ کے ملازمین کی اکثریت یہاں اپنے اہل و عیال کے ساتھ رہتی ہے جو اپنی آمدنی کا بڑا حصہ رہائش ، بچوں کی تعلیم ، میڈیکل انشورنس اور کھانے پینے پر خرچ کرتے ہیں اور اپنی معمولی بچت کی کچھ رقم وطن روانہ کرتے ہیں کیونکہ سعودی عرب کی ملازمت کا کوئی بھروسہ نہیں کہ کب ختم ہوجائے ۔ لہذا ان کی یہ بچت مستقبل میں وطن واپسی پر ان کی بازآبادکاری میں مددگار ثابت ہو۔ مگر چھوٹی ملازمتوں پر کام کرنے والے تارکین وطن جن کا گزارا ’’دست و دہن‘‘ (Hand to Mouth) ہے اور مملکت میں ایسے تارکین وطن کی تعداد ہی زیادہ ہے ۔ ہم یہاں ان تارکین وطن کی بات کریں گے، جن کی ماہانہ آمدنی 500 ریال سے 3000 ریال تک ہے ۔ یہ لوگ اپنے ماں باپ ، بیوی بچوں سے دور یہاں تنہا زندگی بسر کرتے ہیں اور ہر ماہ اپنی تنخواہ کا ایک حصہ اپنے اہل خانہ کی گزر بسر کیلئے وطن بھیجتے ہیں ۔ ان تارکین وطن کیلئے ایک ایک ریال معنیٰ رکھتا ہے ۔اب اگر ان کی وطن روانہ کردہ رقم پر 6 فیصد ٹیکس لگے گا تو سمجھئے کہ وطن میں ان کے اہل خانہ جنہیں بڑی مشکل سے وطن میں پیٹ بھر کھانا میسر نہیں ان کے منہ سے کچھ نوالے اورچھن جائیں گے۔ ایسے لوگ جن پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ تک واجب نہیں کیا ان سے 6 فیصد ٹیکس لیا جانا چاہئے ؟

ٹیکس کی خبر پر تار کین وطن کا مقامی اخبارات میں شدید ردعمل نظر آیا ۔ خبر کے چند نکات پر سوال اٹھائے گئے ۔ مثلاً خبر میں کہا گیا کہ تارکین وطن پر ٹیکس عائد کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ مملکت میں خود پر زیادہ رقم خرچ کریں گے یا مملکت میں سرمایہ کاری کرنے کی طرف راغب ہوں گے ۔ تارکین وطن نے اپنے ردعمل میں لکھا کہ اول تو یہاں کام کرنے والے تقریباً 80 فیصد تارکین وطن کی کوئی قابل لحاظ رقم بطور بچت نہیں ہوتی اور چھوٹی رقم کی وہ کہاں سرمایہ کاری کریں گے ۔ یہاں سرمایہ کاری اہداف اور شرائط کافی سخت ہیں۔ نیز آدمی زیادہ پیسہ تب خرچ کرے گا جب اس کی فیملی یہاں اس کے ساتھ رہتی ہو۔ یہاں فیملی ویزا یا وزٹ ویزا حاصل کرنا ہر ایک کے بس کا نہیں۔ اس کی شرائط بھی آسان نہیں ۔ دوسرا نکتہ ایک وقت میں بھیجی جانے والی رقم اور خروج (Exit) پر جانے والے تارکین وطن پر اپنا سامان وطن منتقل کرنے پر بھی پابندی ہوگی ۔ یعنی ملازمت کے ختم ہونے پر بندہ اپنا پیسہ اور سامان مملکت کی پابندی کے مطابق یہیں چھوڑ جائے ؟ خبر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹیکس لگانے کا مقصد مملکت کی آمدنی میں اضافہ کرناہے۔ تارکین وطن جو اپنی قلیل آمدنی میں یہاں بمشکل گزارا کرتے ہیں اور کچھ رقم اپنے اہل خانہ کے گزر بسر کیلئے وطن بھیجتے ہیں ۔ان پر ٹیکس لگاکر ملکی آمدنی میں اضافہ کیاجائے گا ؟ آخری نکتہ یہ کہ تارکین وطن کی جانب سے ترسیلات زر کی مالیت سن 2014 ء میں بڑھ کر 135 ارب سعودی ریال ہوگئی جو 2005 ء میں 56 ارب سعودی ریال تھی ۔ تارکین نے سوال کیا کہ اس ا یک دہائی کے عرصہ میں مملکت میں کتنے فیصد تارکین وطن میں اضافہ ہوا ۔ اس تعداد پر بھی غور کیا جانا چاہئے ۔ نیز کرنسی کی قدر میں کتنی کمی واقع ہوئی وغیرہ۔ ایسے بیسیوں سوال تارکین وطن نے ایڈیٹر کے نام خطوط کے کالم میں اٹھائے ہیں۔ ان خطوط میں یہ بھی تجویز کیا گیا کہ ٹیکس لگانا ضروری ہی ہے تو پھر ملازمین کی تنخواہیں ، ان کی جانب سے ار سال کی جانے والی رقم کی حدود بھی مقرر ہونی چاہئے تاکہ وہ تارکین وطن ٹیکس کی ادائیگی سے مستثنیٰ رہیں جن کی آمدنی اور ترسیل زر کی رقم محدود ہے اور ارسال کردہ رقم وطن میں ان کے بینک میں جمع نہیں ہوتی ہے بلکہ ان کے اہل خانہ کا اس سے گزر بسر بمشکل پورا ہوتا ہے ۔ ارباب مجاز اس بات سے پوری طرح واقف ہیں کہ آج کل خانگی کمپنیوں میں ملازمین کو تنخواہیں ہی بڑی مشکل سے مل پارہی ہیں اوران تنخواہ میں اضافہ ہی ہو نہیں رہا ہے۔ ایسی صورت میں یہ تار کین وطن ٹیکس کا نیا بوجھ کس طرح اٹھا پائیں گے ۔ یہاں خارجی باشندوں کے اطراف ایک عرصہ سے گھیرا تنگ ہورہا ہے لیکن ٹیکس کی خبر نے تو انہیں بوکھلاہٹ کا شکار کردیا ۔ غیر ملکیوں کی یہاں کام کرنے کی سب سے بڑی کشش ٹیکس فری آمدنی ہے ۔ خیر ٹیکس دنیا کے ہر ملک میں لیا جاتا ہے مگر وہاں کچھ عرصہ گزارتے ہی بندہ کو وہاںکی قومیت بھی حاصل ہوجاتی ہے ۔ وہ سہولت سعودی عرب میں حاصل نہیں ہے بلکہ یہاں خارجی باشندوں کو سرکاری دواخانے میںعلاج کی سہولت ہے ، نہ ان کے بچوں کو سرکاری مدارس یا کالجس میں تعلیم حاصل کرنے کی سہولت ہے۔ یہاں تو خارجی باشندے کو مکان کرایہ پر حاصل کرنے کیلئے تک کفیل کا تعارفی خطاب پیش کرنا پڑتاہے بلکہ بعض صورتوں میں یہاں سعودی اور غیر سعودی میں فرق بھی برتاجاتا ہے ۔ خارجی باشندوں کا اس سرزمین پر کوئی حق نہیں مگر ملکی آمدنی میں اضافہ اور معیشت کی بہتری کیلئے ان پر ٹیکس کی تجویز پیش کردی گئی ہے ۔
بہرحال تارکین وطن مملکت سے یہی گزارش کریں گے کہ وہ ٹیکس لاگو کرنے کی تجویز واپس لے لے یا اگر لاگو کرنا ہی ہے تو خارجی باشندوں کی آمدنی اور ترسیل زر کی حدود متعین کرے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT