Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / سعودی میں سزائے موت تنقید پر غلط ردعمل : صدر ایران

سعودی میں سزائے موت تنقید پر غلط ردعمل : صدر ایران

آیت اللہ خامنہ ای کے پوتے ایران کے انتخابات میں مقابلہ کیلئے نااہل قرار دے دیئے گئے
تہران ۔ 5 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کو اپنی حکومت پر تنقید کے ردعمل کے طور پر عوام کا سرقلم نہیں کرنا چاہئے۔ صدر ایران حسن روحانی نے آج نامور شیعہ عالم دین کی ریاض میں سزائے موت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سزائے موت ’’دہشت گردی‘‘ ہے۔ سرکاری عہدیداروں نے یہ نہیں کہا کہ نمر کو سزائے موت کیسے دی گئی۔ تاہم سعودی عرب میں سر قلم کرنا عام بات ہے۔ روحانی نے وزیرخارجہ ڈنمارک کرسٹین جنسن کے دورہ ایران کے موقع پر یہ تبصرہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یوروپی ممالک جو ہمیشہ انسانی حقوق کیلئے اپنے فرائض کی تکمیل کیا کرتے ہیں، اس سزائے موت پر بھی ایسا ہی کریں گے۔ حسن روحانی نے سعودی عرب پر الزام عائد کیا کہ اس نے اقتدار کے تنازعہ کو پوشیدہ کرنے کیلئے یہ اقدام کیا ہے اور اس کے لئے تہران میں سعودی سفارتخانہ پر برہم عوام کے حملے اور آتشزنی کو بہانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اپنے جرم کو ایک عالم دین کا سر قلم کرکے پوشیدہ نہیں کرسکتا۔ حسن روحانی نے تشدد کی مذمت کی اور کہا کہ ایران کے عدلیہ کو چاہئے کہ ان واقعات میں ملوث 50 افراد اور ان کے سرغنوں کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔ ان افراد کو پہلے ہی گرفتار کیا گیا ہے۔ ایران کا سفارتخانہ برائے اقوام متحدہ نے بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مکتوب کی نافرمانی کو افسوسناک قرار دیا۔ حسن روحانی کے بیان سے قبل حکومت کے ترجمان محمد باغر نوباغ نے کہا کہ سفارتی تعلقات منقطع کرلینے سے ایران کی ترقی پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوگا۔ دریں اثناء اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کو آئندہ انتخابات میں مقابلہ کرنے کیلئے نااہل قرار دیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے اہلیت کے امتحان میں شرکت نہیں کی تھی۔ 43 سالہ حسن خمینی ان 400 امیدواروں میں شامل ہیں جنہوں نے شہر قم میں منعقدہ اہلیت کے امتحان میں شرکت نہیں کی۔ 26 فبروری کو ایران کی پارلیمنٹ اور اسمبلی کے لئے انتخابات مقرر ہیں۔ امتحان کا اہتمام سرپرست کونسل نے کیا تھا جو اسمبلی کے امیدواروں کی ایک طاقتور کمیٹی ہے۔ ایک مذہبی گروپ ایران کے آئندہ مذہبی قائد اور ارکان پارلیمنٹ کا انتخاب کرے گا۔ اگر کوئی اہلیت کے امتحان میں شرکت نہ کرے تو یہ سمجھا جاتا ہیکہ اسے ضروری مذہبی معلومات حاصل نہیں ہیں۔
سعودی عرب ۔ ایران کشیدگی پر پاکستان فکرمند
اسلام آباد ۔ 5 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان جس کے سعودی اور ایران دونوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، آج دونوں ممالک کے درمیان ابتر ہوتے ہوئے تعلقات پر اظہارفکرمندی کیا اور کہا کہ اس سفارتی بحران سے دہشت گرد فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے خارجی امور سرتاج عزیز نے قومی اسمبلی میں ایک پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ عالم اسلام کو سنگین خطروں کا سامنا ہے۔ سعودی ۔ ایران تنازعہ کی وجہ سے ایسی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے ادعا کیا کہ پاکستان ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی دور کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

TOPPOPULARRECENT