Thursday , June 29 2017
Home / دنیا / سعودی کو امریکی اسلحہ فروخت کے خطیر رقمی معاہدہ میں جزوی ترمیم متوقع

سعودی کو امریکی اسلحہ فروخت کے خطیر رقمی معاہدہ میں جزوی ترمیم متوقع

امریکی سینیٹ میں قرارداد پیش۔ بحرہ جنوبی چین پر امریکی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں

واشنگٹن، 26 مئی (سیاست ڈاٹ کام) امریکی قانون ساز نمائندوں نے کانگریس میں ایک قرارداد پیش کیا ہے جس میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت کے خطیر رقم کے معاہدے کے کم از کم ایک حصے میں ترمیم کی تجویز کی گئی ہے ۔ سنیٹ میں ریپبلکن رکن رانڈ پاؤل اور ڈیموکریٹس کرائس مورفی اور الفرینکین نے عدم موافقت کی قراداد پیش کی ہے ، جس میں یہ تجویز کی گئی ہے کہ سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت کے معاہدے کے کم از کم ایک حصے کو روکا جائے یا نہیں، اس پر ووٹنگ کرائی جائے ۔ سنیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو اسلحہ فروخت کے معاہدے کا رسمی نوٹس 19 مئی کو موصول ہوچکا ہے ۔ امریکی قانون میں اسلحہ برآمدات کنٹرول ایکٹ 1976 کے تحت سنیٹر کو کسی بھی اسلحہ فروخت کے معاہدے پر ووٹنگ کرانے کی تجویز پیش کرنے کا حق ہے ۔اسی لئے امریکی سینیٹ میں باضابطہ منظوری کے نوٹیفکیشن کے بعد مذکورہ سنیٹروں نے سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت کے خطیر رقم کے معاہدے میں جزوی ترمیم کی قرارداد پیش کی ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ انہی تینوں سنیٹروں نے گزشتہ سال بھی سعودی عرب کو 1.15 کروڑ ڈالر کے اسلحہ فروخت کے معاہدے کو ختم کرنے کے لئے قرارداد پیش کیا تھا۔ تاہم، اس وقت انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ واضح رہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اولین بیرونی دورے کا پہلا مرحلہ سعودی عرب کا دورہ تھا، جس دوران انہوں نے ریاض میں 20 مئی کو سعودی عرب کے ساتھ 110 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم کے معاہدے کا اعلان کیا تھا، جس میں سعودی عرب نے آئندہ 10 برسوں میں 350 کروڑ ڈالر کے اسلحہ حاصل کرنے کے متبادل پر اتفاق کیا تھا۔

مذکورہ سنیٹروں نے اس معاہدے میں 50 کروڑ ڈالر کے سیکشن کو ختم کرنے کے لئے قرارداد پیش کیا ہے ، جس میں خطرناک حملے کے ہتھیار خریدنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ سنیٹر رانڈ پاؤل نے گزشتہ روز ایک بیان میں کہا کہ ماضی میں سعودی عرب کی طرف سے دہشت گردی کی معاونت، حقوق انسانی کا خراب ریکارڈ اور یمن کی خانہ جنگی میں سعودی عرب کی مشکوک چال کی وجہ سے کانگریس کو ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ کئے گئے اسلحہ معاہدے پر سنجیدگی سے غور وخوض کرنا لازم ہے اور یہ بحث کرنا ضروری ہے کہ سعودی عرب کو کروڑوں ڈالر کے اسلحہ کی فروخت اس وقت امریکہ کے قومی مفاد میں ہے یا نہیں۔ دوسری طرف امریکہ کے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد بحیرہ جنوبی چین پر امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے ۔ محکمہ خارجہ کی ایک افسر نے آج یہ اطلاع دی۔مشرقی ایشیا امور کی نگراں و اسسٹنٹ سکریٹری سوجین تھرنٹن نے یہاں بتایا کہ مسٹر ٹرمپ کے نئے صدر کے طور پر عہدہ سنبھالنے  کے بعد بحیرہ جنوبی چین کے تعلق سے امریکہ کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔غور طلب ہے کہ امریکی بحری جنگی جہاز نے جنوبی چین کے سمندر کے متنازعہ سپریٹلي جزائر میں مس چیف ریف کے قریبکل بحری مشق کی تھی۔ مسٹر ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد امریکہ کا بحیرہ جنوبی چین میں یہ پہلی مشق تھی جس کی وجہ سے چین کو شدید ناراضگی ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT