Saturday , August 19 2017
Home / اداریہ / سفارتی اداروں کا تحفظ

سفارتی اداروں کا تحفظ

تہران اور مشہد میں سعودی عرب کے سفارت خانوں پر حملے کے واقعہ کے بعد عالمی سطح پر جس طرح کا ردعمل سامنے آرہا ہے، ایران کیلئے غور طلب ہونا چاہئے۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے ارکان ترقی، پاکستان، لیبیا کویت نے مل کر کہا ہے کہ تمام سفارتی اداروں کا تحفظ کرنے کے لئے ہر ایک ملک کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہئے۔ اس خطہ میں بڑھتی کشیدگی عالم اسلام کے لئے تشویشناک ہے۔ اس کشیدگی کو روکنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح کے حملے کسی کیلئے بھی قابل قبول نہیں ہوتے اور ہر ایک کو ویانا کنونشن پر عمل کرتے ہوئے اس کے عہد کو پورا کرتے ہوئے سفارتی اداروں کا تحفظ کرنے کی ذمہ داری لینی چاہئے ہوتی ہے۔ کسی بھی بیرونی ملک کے سفارتی ادارہ پر حملے کے لئے ذمہ داروں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی ملکوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہر بیرونی سرزمین پر کسی دوسرے ملک کے اداروں اور شہریوں کا تحفظ میزبان ملک کا فریضہ ہوتا ہے۔ ایران میں سعودی عرب کے سفارت خانہ پر حملے کے بعد خلیجی ملکوں نے احتجاجاً سفارتی تعلقات بھی منقطع کرلئے ہیں۔ سفارتی کشیدگی کو بڑھاوا دینے کی کوشش یہیں ختم کردی جانی چاہئے۔ جب تک سفارتی تعلقات مضبوط اور خوشگوار رہتے ہیں ملکوں کی بہمی دوستی میں استحکام لانے میں مدد ملتی ہے لیکن ایران، سعودی عرب کے درمیان تعلقات حالیہ برسوں سے کشیدہ ہوتے جارہے ہیں

اور یہ حالات عرب یا مسلم دنیا میں کشیدگی کے لئے غیر مناسب ہیں۔ اس لئے حکومت ایران کو فوری سعودی حکومت کی ناراضگی کو دور کرنے کے لئے سعودی سفارت خانوں پر حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔ خلیجی تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ نے ایران ۔ سعودی تعلقات میں تازہ کشیدگی کا جائزہ لینے پر فوری عزم اُٹھایا ہے تو یہ اچھی کوشش ہے اس کے ساتھ ہی ایران کو بھی نرمی کے ساتھ ذمہ دارانہ رول ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی ملک میں کسی دوسرے ملک کے سفارت خانے پر حملے اس ادارہ پر حملے نہیں بلکہ اس ادارہ کے ملک کے مقتدر اعلیٰ پر حملے کے مترادف ہوتا ہے۔ تہران میں سعودی سفارت خانے اور مشہد و سعودی قونصل خانہ پر حملہ کرنے والوں نے دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید ہوا دینے کی کوشش کی ہے۔ سعودی عرب نے ہمیشہ اپنے مقتدر اعلیٰ کے حقوق کے تحفظ کے لئے کام کیا ہے۔ یہ ہر ایک کا فطری عمل ہوتا ہے۔ ایران کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشت گردوں کے لئے عدالتی سزا کا انتخاب کرکے کارروائی کرے۔ کسی دوسرے ملک کے عدالتی اُمور میں مداخلت کرنا گویا اس ملک کے مقتدر اعلیٰ میں مداخلت سمجھا جاتا ہے۔ سعودی عرب نے ہمیشہ پڑوسی ملکوں یا خطہ کے تمام ممالک کے ساتھ پرامن دوستانہ تعلقات قائم کئے ہیں تو ایسے میں کسی بھی ملک یا تنظیم کو انتقامی کارروائی کا خیال نہیں رکھنا چاہئے۔ یہاں ایران کی سیاسی انداز فکر اور سیاسی نظریہ پر تنقید کرنے والوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ گروہ واریت کی سرپرستی کرکے خطرناک حالات کو دعوت دے رہا ہے۔

اس سے سارے خطہ میں بدامنی پیدا ہوگی اور ترقیات کی راہیں مسدود ہوجائیں گی۔ عرب خطہ میں موجودہ حالات سیاسی اُلجھنوں اور متصادم ایجنڈوں کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں جو ایک خطرناک صورتحال کو جنم دے سکتے ہیں۔ ایسے میں سمجھداری کا تقاضہ یہ ہے کہ گروہ واری نظریات کو فروغ دینے کے بجائے عالمی امن کے جذبہ کے ساتھ خطہ کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کام کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔ ہر ایک اپنے پڑوس میں اچھے حالات کا متمنی رہے تو خرابی پیدا نہیں ہوگی مگر مسلم ملکوں کے درمیان دشمنی پیدا کرنے والی طاقتیں اس فراق میں ہیں کہ مسلم ملک باہمی متصادم ہوکر بدامنی کا شکار بنے رہے۔ عراق، شام، لبنان، مصر، مشرق وسطیٰ میں جو حالات پیدا کردیئے گئے ہیں انہی طاقتوں سے مل کر عرب ملکوں خلیجی خطہ کے ملکوں میں تصادم پیدا کرنے کی کوشش شروع کی ہے۔ اس سے خبردار رہنا ہوشمند حکمرانوں کا کام ہے۔ بدبختی کی بات یہ ہے کہ عرب یا مسلم دنیا کے حکمرانوں نے حالات کا اسلام دشمن طاقتوں کے ناپاک منصوبوں کا گہرائی سے جائزہ ہی نہیں لیا ہے بلکہ اپنی ذمہ داریوں کو سطحی طور پر ہی انجام دینے سے اکتفا کرلیا جس کے نتیجہ میں دشمنی اور بدامنی کی کیفیت کو ہوا دینے والے واقعات رونما ہورہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT