Monday , October 23 2017
Home / Top Stories / سفرحج کی اجازت، خواتین کو بااختیار بنانے کے عزم کا اظہار

سفرحج کی اجازت، خواتین کو بااختیار بنانے کے عزم کا اظہار

سعودی عرب سے بات چیت کے بعد علماء نے فیصلہ کیا، اصلاحات پر عمل مسلم برادری پر منحصر : مختارعباس نقوی
نئی دہلی ۔ 11 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیراقلیتی امور مختارعباس نقوی نے کہا ہیکہ 45 سال سے زائد عمر کی خواتین کو محرم مرد کے بغیر سفرحج کی اجازت سے خواتین کو بھی مردوں کے مطابق مساویانہ حقوق دینے سے متعلق مودی حکومت کے سیاسی عزم و عہد کا اظہار ہوتا ہے۔ نقوی نے کہا کہ طلاق ثلاثہ پر حکومت کے موقف کی طرح یہ فیصلہ بھی ہندوستانی سماج میں مسلمانوں میں بدلتی ہوئی ہیئت و نوعیت کی توثیق و اعتراف ہے۔ سماج میں مسلمانوں کی تبدیلی کی نوعیت کی توثیق ہے اور اس بات کا اعتراف ہیکہ خواتین کسی بھی طرح مردوں سے کمتر نہیں ہیں۔ مرکزی وزیر نے کہاکہ یہ بڑی بدبختی کی بات ہیکہ سیکولرازم کے نام پر بعض سیاسی جماعتیں جبر و استبداد پر مبنی قاعدہ کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔ نقوی نے کہا کہ ’’ہمارا ملک سیکولر ہے‘‘ جہاں امتناع کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہم نے امتناع ہٹا دیا اور اب یہ (مسلم) برادری پر منحصر ہے کہ وہ اصلاحات پر کام کریں‘‘۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلہ مورخہ 16 اپریل 2013ء کی روشنی میں پارلیمانی امور کے سابق سکریٹری افضل امان اللہ کی قیادت میں یہ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ نقوی نے کہا کہ ’’اس کمیٹی میں اسلامی علمائے دین بھی شامل ہیں۔ اسلام میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو خواتین کو حج جانے سے روک سکتی ہے۔ سعودی عرب نے خود کئی اسلامی ممالک کو (مرد محرم کے ساتھ خواتین کے سفر حج کیلئے) استثنیٰ دیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہاکہ 45 سال عمر کی حد اس لئے مقررکی گئی ہے کہ ہم نے سعودی حکومت سے بات چیت کی تھی اور یہ ان (سعودی عرب) کی پالیسی ہیکہ 45 سال سے کم عمر کی عورت کو مرد محرم کے بغیر تنہا سفر کی اجازت نہ دی جائے۔ حدعمر تعین کرنے میں کمیٹی کا کوئی رول نہیں ہے کیونکہ سعودی حکومت کا یہ قاعدہ ہے تاہم ملک کے علماء نے حکومت کے اس اقدام کی مخالفت کی ہے اور کہا کہ اس سے شرعی قوانین کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور یہ دراصل اسلام میں ایک قسم کی غیرضروری مداخلت بھی ہے۔

TOPPOPULARRECENT