Wednesday , April 26 2017
Home / Top Stories / سفری امتناع کیلئے نئے حکمنامہ کی اجرائی پر ڈونالڈ ٹرمپ کا غور

سفری امتناع کیلئے نئے حکمنامہ کی اجرائی پر ڈونالڈ ٹرمپ کا غور

پیر یا منگل تک دستخط کی امید ۔ نئے حکمنامہ میں سکیوریٹی پہلو کو زیادہ اجاگر کرنے کا منصوبہ ۔ عدالتی کشاکش میں بھی کامیاب ہونے کا عزم
واشنگٹن 11 فبروری ( سیاست ڈآٹ کام ) صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ سات مسلم غلبہ والے ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلہ کو عارضی طور پر روکنے کیلئے وہ ایک نئے ایکزیکیٹیو آرڈر پر آئندہ ہفتے تک دستخط کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ سفری امتناع سے متعلق ٹرمپ کے سابقہ حکمنامہ کو بحال کرنے سے امریکہ کی عدالت نے انکار کردیا تھا ۔ ٹرمپ نے انڈریوز ائر فورس بیس سے فلوریڈا کو ان کے ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں سے اپنے طیارہ میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم یقینی طور پر یہ لڑائی جیت جائیں گے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس میں قانونی طور پر وقت درکار ہوتا ہے تاہم ہم یہ لڑائی جیتیں گے ۔ ہمارے پاس مزید کئی امکانات موجود ہیں جن میں ایک نیا حکمنامہ جاری کرنا بھی شامل ہے ۔ اس سوال پر کہ آیا وہ سفری امتناع سے متعلق نیا حکمنامہ جاری کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ ایسا بھی کیا جاسکتا ہے ۔ ہم کو سکیوریٹی وجوہات کی بنا پر تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے اور اس صورت میں ایسا کیا جاسکتا ہے ۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کی عدالت نے جو فیصلہ دیا ہے اس کے احترام میں حکومت ہوسکتا ہے کہ ایک ہفتے تک انتظار کرے اور پھر کوئی کارروائی کی جائیگی ۔ ہوسکتا ہے کہ پیر یا منگل تک ایسا کیا جائے ۔

ٹرمپ نے کہا کہ سفری امتناع سے متعلق نئے ایگزیکیٹیو آرڈر میں سلامتی کے اقدامات کو بھی شامل کیا جائیگا ۔ نئے سکیوریٹی اقدامات کیلئے ہم باریک بینی سے نظر ثانی کرینگے ۔ وہ نظرثانی اس لئے کہہ رہے ہیں کیونکہ ہم سکیوریٹی پر بہت زیادہ سخت ہونگے ۔ ہم ہمارے ملک میں ایسے لوگوںکو قبول کرنگے جو یہاں اچھی وجوہات سے آنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ صدر امریکہ نے یہ ریمارک ایسے وقت میں کئے ہیں جبکہ نویں امریکی سرکٹ کورٹ ( عدالت مرافعہ ) سان فرانسسکو کی اے سہ رکنی بنچ نے سفری امتناع سے متعلق ٹرمپ کے حکمنامہ کو بحال کرنے سے انکار کردیا تھا ۔ عدالت کے فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ سات مسلم آبادی والے ممالک کے شہری امریکہ کا سفر کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے گذشتہ مہینے اس ایگزیکیٹیو آرڈر پر دستخط کئے تھے جس کے ذریعہ تقریبا 120 دن کیلئے تمام پناہ گزینوں کی آمد کو معطل کردیا تھا اور انہوں نے شامی پناہ گزینوں کی آمد کو غیر معینہ معت کیلئے ملتوی کیا تھا ۔ انہوں نے ایران ‘ عراق ‘ لیبیا ‘ صومالیہ ‘ سوڈان ‘ شام اور یمن کے باشندوں کی امریکہ میں آمد پر 90 دن تک کیلئے امتناع عائد کردیا تھا ۔ یہ ان کا انتخابی وعدہ تھا جس کی انہوں نے تکمیل کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ملک کی سکیوریٹی کیلئے بہت تیزی سے اقدامات کرینگے ۔ ایسے اقدامات کا آئندہ ہفتے ہی آغاز ہوجائیگا۔ ٹرمپ نے وائیٹ ہاوز میں یہ اظہار خیال کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ اس عمل میں ہم عدالت کے عمل کی پابندی بھی کرینگے اور بالآخر انہیں یقین ہے کہ ہم یہ کیس جیت جائیں گے ۔ ٹرمپ وائیٹ ہاوز میں کل رات جاپانی وزیر اعظم شینزو ابے کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT