Friday , August 18 2017
Home / کھیل کی خبریں / ’سفر برائے رِیو‘ میرے کریئر کا مشکل ترین مرحلہ : شیوا تھاپا

’سفر برائے رِیو‘ میرے کریئر کا مشکل ترین مرحلہ : شیوا تھاپا

نئی دہلی ، 4 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) واحد ہندوستانی باکسر جو اِس سال کے اولمپکس کیلئے تاحال کوالیفائی ہوپایا ، شیوا تھاپا نے آج کہا کہ ’سفر برائے رِیو‘ ابھی تک اُن کے کریئر کا مشکل ترین مرحلہ رہا ہے حالانکہ وہ اُن مسائل سے اپنے ذہن کو ہٹاچکے ہیں جن سے یہ کھیل اِس ملک میں گھِرا ہوا ہے۔ آسام کا 22 سالہ لڑکا جو گزشتہ سال ورلڈ چمپئن شپ برونز جیت کر اس طرح کی کامیابی پانے والا صرف تیسرا انڈین باکسر بنا، حالیہ اختتام پذیر ایشیا ؍ اوشیانیا زون کوالیفائرز منعقدہ چین میں سلور میڈل جیت چکا ہے اور زیادہ اہم بات ہے کہ اسے اولمپک کوٹہ کا مقام مل گیا۔ اس کے ساتھ ہی بنٹم ویٹ کیٹگری میں عالمی نمبر 6 باکسر کا اپنی دوسری لگاتار اولمپک شرکت طے ہے۔ وہ 18 سالہ باکسر کی حیثیت سے 2012ء میں مسابقت کیا تھا۔ اُس وقت وہ کوالیفائرز میں سنسنی خیز انداز میں گولڈ میڈل جیت کر چار سالہ میگا ایونٹ کیلئے کوالیفائی ہونے والا نوجوان ترین انڈین باکسر بنا تھا۔ شیوا نے نیوز ایجنسی ’ پی ٹی آئی‘ کو انٹرویو میں بتایا کہ ’’اس بار یہ کام ذہنی طور پر زیادہ چیلنج بھرارہا اور یقینا میرے کریئر کا مشکل ترین مرحلہ ثابت ہوا۔ مجھے اپنی صلاحیت کو منوانا تھا، اندرونی طور پر کہیں نہ کہیں مجھ میں کافی برہمی پیدا ہوگئی تھی اور میں بتا دینا چاہتا تھا کہ میں یہ ( چیلنج کی تکمیل) کرسکتا ہوں۔ یہی وجہ ہے جب میں نے سیمی فائنل مقابلہ جیتا، جس نے میرا اولمپک مقام یقینی بنایا، میں نے رِنگ میں ہی زور دار چیخ لگائی۔ یہ جذبات کا فطری اظہار ہوا۔ مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہندوستان میں ہمارے لئے یہ کام کس قدر کٹھن ثابت ہوا ہے، جس کا سبب گزشتہ چند برسوں کی تبدیلیاں ہیں جو پیش آئیں، اور حالات کو شکست دیتے ہوئے کوالیفائی ہونے پر بڑی راحت نصیب ہوئی ہے‘‘۔ باکسنگ انڈیا کا وجود اسٹیٹ یونٹس کی بغاوت پر ختم کردینے کے بعد سے نیشنل فیڈریشن کے بغیر تقریباً ایک سال گزر چکا ہے۔

TOPPOPULARRECENT