Monday , August 21 2017
Home / انتقال نام / سلطان العلماء حضرت رضا آغا باقری کا سانحہ ارتحال

سلطان العلماء حضرت رضا آغا باقری کا سانحہ ارتحال

حیدرآباد۔12 اگسٹ ( سیاست نیوز ) شیعہ مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے معروف عالم دین سلطان العلماء مجتہد العصر حضرت مولانا آقائے سید غلام حسین رضا آغا باقری جنرل سکریٹری کل ہند شیعہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کا آج بعمر 80سال انتقال ہوگیا۔مرحوم گذشتہ کچھ عرصہ سے علیل تھے اور آج کمس ہاسپٹل میں ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی ۔حضرت العلامہ مولانا سید رضا آغا شہر حیدرآباد کے چنندہ ذاکرین میں شمار کئے جاتے تھے جو یکجہتی کی فضاء برقرار رکھنے میں کلیدی رول ادا کرتے رہے ہیں۔ سلطنت آصفیہ کی جانب سے حضرت سید رضا آغا کے والد بزرگوار مجتہدالعصر حضرت سید نثار حسین سید آغا کے سانحۂ ارتحال کے بعد خصوصی التفات کے ساتھ شاہی خرچ پر نجف اشرف روانہ کیا گیا جہاں انہوں نے تفسیر ‘ علم الرجال‘ سطوح ‘ علم الکلام‘ قدیم عربی لغت‘ اصول فقہ اور طریقۂ استنباط کے علوم میں مہارت حاصل کرنے کے بعد مجتہد کے درجہ پر فائز ہوئے اور 1967میں حیدرآباد واپسی عمل میں آئی۔ 1955میں عراق روانگی سے قبل رضا آغا قبلہ ہندستان کی معروف شیعہ جامعہ سلطان المدارس میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔مولانا نے نہج البلاغہ میں موجود خطبات و ارشادات مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالب ؑ کے علاوہ دیگر خطبات و ارشادات جو کہ عربی زبان میں تھے ان کا فصاحت و بلاغت کے ساتھ اردو ترجمہ کرتے ہوئے ایک ضخیم کتاب بنام ’’ نہج الاصرار‘‘ مرتب فرمائی جو کہ اہل علم کے لئے عظیم تحفہ تصور کی جاتی ہے۔ سید رضا آقا اسلامی جمہوریہ ایران کے مذہبی رہنما ء سید آیت اللہ خامنہ ای کے ہم جماعت رہے ہیں اور انہیں معروف شیعہ علماء آقائے محسن الحکیم اور آقائے خوئی کے آگے زانوئے ادب طئے کرنے کا اعزاز حاصل رہا۔ انہیں اردو و فارسی کے علاوہ عربی زبان پر عبور حاصل تھا اور وہ ان تینوں زبانوں میں ذکر اہلبیتؑ کی سعادت حاصل کیا کرتے تھے۔مرحوم حیدرآباد میں مجلس علماء و ذاکرین کے بانی صدر رہے اور تا دم حیات ان کی صدارت میں ہی تنظیم کی خدمات جاری رہیں۔ انہوں نے مدرسۂ مرتضی کے نام سے ایک دینی جامعہ کا بھی قیام عمل میں لایا جہاں کے کئی فارغین قم و نجف میں اعلی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ سید رضا آقا کے پسماندگان میں فرزند مجتہد العصر سید نثار حسین آقا کے علاوہ ایک دختر شامل ہے۔رضا آقا کے انتقال کی اطلاع کے ساتھ ہی شیعہ حلقوں میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی اور شریعت کدہ پر اظہار تعزیت کرنے والوں کا تانتا بندھ گیا جن لوگوں نے لواحقین سے شریعت کدہ پہنچ کر تعزیت کی ان میں مولانا سید ابراہیم الجزائری ‘ مولانا لقمان حسین موسوی ‘  مولانا ظفر یاب حیدر اور دیگر علماء و ذاکرین کی بڑی تعدا دشامل ہے۔ تفصیلات کے بموجب سید رضا آقا کی میت ہفتہ کو 10بجے دن شریعت کدہ نورخان بازار سے اٹھائی جائے گی اور نماز جنازہ الاوہ سرطوق میں ادا کی جائے گی۔ تدفین دائرہ حضرت میر محمد مومن ؒ سلطان شاہی میں عمل میں آئے گی۔

TOPPOPULARRECENT