Friday , July 21 2017
Home / شہر کی خبریں / سلطان العلوم ایجوکیشنل سوسائٹی اراضی کا تنازعہ پھر ایک مرتبہ منظر عام پر

سلطان العلوم ایجوکیشنل سوسائٹی اراضی کا تنازعہ پھر ایک مرتبہ منظر عام پر

اراضی پر قبضہ ناجائز، تعلیمی ادارہ جات غیر قانونی، نواب ضامن علی خان کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔14مئی (سیاست نیوز) سلطان العلوم ایجوکیشنل سوسائٹی کے ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کئے جانے کے بعد سلطان العلوم ایجوکیشنل سوسائٹی بنجارہ ہلز کی اراضی کا تنازعہ ایک مرتبہ پھر منظر عام پرآچکا ہے اور شہر میں چرچہ کا موضوع بنا ہوا ہے۔ آصف سابع کی پوتری آمینہ مرضیہ کی شکایت پر پولیس پنجہ گٹہ کی جانب سے مقدمہ درج کئے جانے کے بعد ان کا مختارنامہ رکھنے والے نواب ضامن علی خان نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے روڈ نمبر 3بنجارہ ہلز پر واقع سلطان العلوم ایجوکیشنل سوسائٹی کے تعلیمی ادارہ جات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سوسائٹی کے ذمہ داروں نے مجاز عہدیداروں کو گمراہ کیا ہے اور اس خاندانی اراضی کو ہڑپ لیا گیا ہے۔ نواب ضامن علی خان نے بتایا کہ کہ انہیں آمینہ مرضیہ ‘ سید احمد خان سید حسین علی خان نے مختار نامہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ماؤنٹ پلیزنٹ اور 24ایکڑ اراضی پر سلطان العلوم ایجوکیشنل سوسائٹی کا قبضہ ناجائز ہے۔ انہوںنے بتایاکہ ٹرسٹ کے اراکین نے سلطان العلوم ایجوکیشنل ٹرسٹ کے ذمہ داروں سے ساز باز کرتے ہوئے اس قیمتی اراضی کا قبضہ سلطان العلوم کے حوالے کیا ہے ۔ انہوںنے الزام عائد کیا کہ سلطان العلوم ایجوکیشنل سوسائٹی کے ذمہ داران ہر سال کالجس کے اجازت ناموں کی برقراری کے لئے مجاز عہدیداروں کو رشوت دے رہے ہیں جبکہ جائیداد کی ملکیت ثابت کرنے اور دستاویزات پیش کرنے کیلئے جامعہ عثمانیہ اور اے آئی سی ٹی ای کی جانب سے نوٹس جاری کی جا چکی ہے لیکن اس کے باوجود ملی بھگت کے ذریعہ ان اداروں سے اجازت نامہ حاصل کیا جا رہا ہے لیکن اب وہ ایسا نہیں کر پائیں گے کیونکہ اب فوجداری کاروائی کا آغاز ہو چکا ہے ۔نواب ضامن علی خان نے بتایا کہ سابق میں سٹی سیول کورٹ اور ہائی کورٹ نے ٹرسٹ کی اراضیات کسی کو بھی حوالے نہ کرنے کے احکام جاری کئے ہیں لیکن اس کے باوجود سلطان العلوم ایجوکیشنل سوسائٹی کے عہدیداروں وذمہ داروں نے اس جائیداد کی خرید و فروخت کا معاملہ کیا جو کہ غیر قانونی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شہزادہ معظم جاہ شجیع کے سانحہ ارتحال کے بعدان کی جملہ جائیدادوں کی شرعی قوانین کے مطابق تقسیم عمل میں لائی جا چکی ہے اور آمینہ مرضیہ معظم جاہ شجیع کی دوسری بیوی رضیہ بیگم کی دختر ہیں۔ جبکہ معظم جاہ شجیع کی تین بیویاں تھیں۔ نواب ضامن علی خان نے بتایاکہ سوسائٹی کے ذمہ داروں کے علاوہ AICTEاور جامعہ عثمانیہ کے متعلقہ شعبہ جات کو مکتوبات روانہ کردیئے گئے ہیں اور تعلیمی ادارہ جات کے اجازت ناموں کی منسوخی کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ ابتداء میں ٹرسٹ کے ذمہ داروں نے سلطان العلوم ایجوکیشنل سوسائٹی کو 1000مربع میٹر اراضی استعمال کرنے کی اجازت فراہم کی تھی لیکن بعد ازاں سوسائٹی اور ٹرسٹیز نے ساز باز کرتے ہوئے معظم جاہ ٹرسٹ کی اس اراضی کو فرخت کرنے کا معاہدہ کیا ہے جو کہ عدالتی احکام کے مطابق فروخت نہیں کی جا سکتی۔ مسٹر سید احمد خان نے سلطان العلوم ایجوکیشنل سوسائٹی کے تعلیمی ادارہ جات جو ماؤنٹ پلیزنٹ میں چلائے جاتے ہیں ان میں داخلہ حاصل کرنے والے طلبہ کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ داخلہ حاصل کرتے ہیں اور اگر اجازت نامہ منسوخ ہوتا ہے تو ایسی صورت میں وہ خود اس کے ذمہ دار ہو ںگے۔ انہوںنے بتایا کہ سلطان العلوم سوسائٹی متعلقہ عہدیداروں کو اب تک اراضی کی ملکیت کے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی ہے اور دعوی کیا کہ وہ مالکانہ حقوق نہیں رکھتے اسی لئے وہ دستاویزات پیش نہیں کرسکتے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT