Wednesday , September 20 2017
Home / ادبی ڈائری / سلطنتِ آصفیہ کی رواداری کے شاہد مظہر ملت کے (تاریخی تقاریر) آصف جاہی دور ، پولیس ایکشن اور سقوطِ حیدرآباد پر ایک سیر حاصل کتاب

سلطنتِ آصفیہ کی رواداری کے شاہد مظہر ملت کے (تاریخی تقاریر) آصف جاہی دور ، پولیس ایکشن اور سقوطِ حیدرآباد پر ایک سیر حاصل کتاب

ڈاکٹر جعفری جری
قاضی محمد سراج الدین رضوی کی مرتبہ تصنیف ’’سلطنتِ آصفیہ کی رواداری کے شاہد مظہر ملت کے (تاریخی تقاریر) ‘‘ تلخیص و ماخذ ’’عروج و زوال سلطنتِ آصفیہ‘‘ مصنف: مراد علی طالع، آصف جاہی حکمرانوں کا ایک بھرپور جائزہ اور خاص کر حیدرآباد دکن کے حالات اور مسلمانوں پر ایک سیر حاصل 176 صفحات پر مشتمل اس خوبصورت کتاب کے سرورق پر اعلیٰ حضرت میر عثمان علی خاں آصف جاہ سابع کی مشہور زمانہ فوٹو ہے ۔
اس کتاب کا پہلا حصہ صفحہ 1 سے شروع ہوتا ہے۔ صفحہ 7 پر ’’بات مرتب کی ‘‘ ، صفحہ 10 پر ’’دیباچہ‘‘ ، صفحہ 13 سے 128 تک آصف جاہی سلاطین کی حالات زندگی ، اُن کا دور حکومت ، اُن کی مذہبی رواداری، رعایا پروری، سخاوت ، ہمدردی اور اُس عہد کے مشہور واقعات ، الغرض سلطنتِ آصفیہ کے قیام سے پولیس ایکشن تک مکمل معلومات تفصیل سے موجود ہیں جو مراد علی طالع کی کتاب ’’عروج و زوال سلطنتِ آصفیہ‘‘ سے اخذ کردہ ہیں۔ صفحہ 129 تا 135 پر سلطنتِ آصفیہ کے زریں کارناموں کی ایک تفصیلی فہرست درج ہے جس میں 1830 ء تا 1947 ء تک سلطنتِ آصفیہ میں ہونے والے سبھی developments بہ یک نظر ہمارے سامنے آتے ہیں۔
کتاب کا دوسرا اور اہم حصہ صفحہ 136 تا 174 تک مولانا محمد مظہرالدین (مظہر ملت) صدر انجمن نوجوانانِ ملت کی تقاریر جو اُس وقت کے مختلف اخبارات و رسائل میں رپورٹس اور اداریوں کی زینت بنے ، اُن کے اقتباسات پر محیط ہے ۔ یہ واقعی ایک تحقیقی کام ہے ۔ سمندر کی تہہ میں غوطہ لگاؤ اور ایک ایک موتی ڈھونڈ لاؤ۔ میں سمجھتا ہوں کہ مظہر ملت کی تقاریر کا بھی ایک سمندر ہوگا۔ مگر یہاں نمونے کے طور پر چند تقاریر ہی پیش کی گئی ہیں جو آسانی کے ساتھ ہاتھ لگ گئی ہیں، ورنہ مکمل تحقیق تو ’’عاشقی صبر طلب …‘‘ والا معاملہ ہے۔
گزشتہ چند روز ، میں نے کتاب میں شا مل تقاریر کی معیت میں کچھ اس طرح گزارے ہیں کہ ان کا ایک ایک لفظ میری روح کا حصہ بن چکا ہے ۔ میں نے ان تقاریر کو اُس دیدانتی طالب علم کی طرح پڑھا ہے جو جنگ کی تنہائی میں استاد کی آواز کو کائنات کی آواز سمجھ کر دل و دماغ میں جذب کرلیتا ہے تاکہ لفظ ، معنی ، آتما ، آواز اور کائنات کے آسرار کا کوئی ایک سرا اُس کے ہاتھ آسکے لیکن مجھے یہاں جو کچھ ہاتھ آیا ہے، اُس میں سے صرف ایک ’’اداریہ‘‘ جس سے مظہر ملت کی خدمات کا اعتراف ہوتا ہے اور دو اخباروں کی رپورٹس ہیں پہلی رپورٹ اسلام کے بتلائے ہوئے طریقے سے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور اُن کے جواں دلوں میں ہمت و باہمی اتحاد پیدا کرنا۔ دوسری رپورٹ حضور ِ پرنُور سرور کونین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم تمام مسلمانوں کی محبت ہے ۔ بہ طور نمونہ پیش کرنا چاہوں گا۔

پولیس ایکشن کے بعد مملکتِ اسلامیہ حیدرآباد دکن پر ہندوستانی فوج کا قبضہ اور ہر طرف قتل و غارت گیری ، تباہی و بربادی اور مسلم دشمنی کا جنون لاکھوں بے گناہوں کو تباہ و تاراج کر رہا تھا ۔ خاص طور اضلاع عثمان آباد ، لاتور اور بیدر میں مسلمانوں کو بہت زیادہ جانی و مالی نقصانات اٹھانے پڑے ۔ جنہوں نے اپنی آنکھوں سے اپنے افراد خاندان اور احباب کے کٹتے اور مرتے ہوئے نظارے دے کھے ، اس ڈر اور خوف کے عالم میں اپنی جانوں کو بچانے کیلئے کچھ نے راتوں کے اندھیروں میں جنگلوں کے راستے چھپتے چھپاتے ہوئے حیدرآباد کا رخ کیا ، کبھی واپس جانا پسند نہیں کیا اور آخری سانس تک یہیں کے ہورہے۔
اسی کے ساتھ پینتیس چالیس برس پہلے کی چھوٹی سی بات بتانا چاہوں گا کہ جنہوں نے اپنی آنکھوں سے یہ ساری تباہی و بربادی دیکھی ہے ۔ میں نے اُن بزرگوں سے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ وہ نظارہ دیکھنے کے بعد اُن کی ہمت ہمیشہ کیلئے پست ہوگئی ۔ یہ بات 1970 ء کے دہے میں جب کبھی حیدرآباد میں فساد پھوٹ پڑتا اور کرفیو نافذ ہوا یہ بزرگ خدا کے حضور میں بہت گڑگڑا کر روتے اور دعائیں کرتے ، اللہ وہ دن پھر سے نہ دکھائے۔ بہر کیف انہوں نے حیدرآباد شہر کو امن و امان کا شہر کہتے ہوئے آئے تھے اور اپنی باقی زندگی یہیں گزاردی۔
اس پس منظر کے ساتھ ان پینسٹھ ستر برس پرانی تقاریر کو پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت آواز حق بلند کر نا موت سے پنچہ آزمائی کرنا تھا ۔ایسے ماحول میں مظہر ملت محمد مظہر الدین صدر مرکزی انجمن نوجوانانِ ملت جو قائد ملت نواب بہادر یار جنگ کے تربیت یافتہ نوجوان تھے ۔ 1949 ء میں اپنی رہائی کے فوری بعد اُن جابرانہ طاقتوں کے خلاف سینہ سپر ہوتے ہوئے اپنی شعلہ  بیانی اور گھن گرج سیاسی اور مذہبی تقاریر اور جدوجہد سے مسلمانوں کے حوصلوں کو بلند کرنے ایک مثالی مجاہدانہ رول ادا کیا ۔
مملکتِ آصفیہ کا عظیم الشان دور جو پولیس ا یکشن سے قبل تھا ، بلکہ دکن میں قدیم مسلم دور حکومت کے زوال پر تباہ و برباد، شکست خوردہ قوم میں نئی امن اوران کے حوصلہ کو بلند کرنے والی مظہر ملت کی ان تقاریر اور کوششوں کو جو نئی نسل کیلئے ایک قومی اور تاریخی سرمایہ ہے ، قاضی محمد سراج الدین صاحب نے بڑی کوشش کے ساتھ ماضی کے اس تھوڑے سے مگر جامع اقتباسات کو اکٹھا کر کے کتابی شکل دی ہے ۔

17 جون 1953 ء ’’ہمارا اقدام‘‘ کے اداریے سے ایک اقتباس پیش ہے، جس کے مدیر مرتضی مجتہدی نے بڑی توقعات وابستہ رکھتے ہوئے مظہر ملت ، انجمن نوجوانانِ ملت کے صدر کی سلجھی ہوئی فکر اور ملی و سماجی خدمات کو علامہ اقبال کے اس مصرعہ کے ساتھ قلم بند کیا ہے ، ملاحظہ ہو:
’’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زر خیز ہے ساقی‘‘ نوجوانانِ ملت ۔ جواں خون اور جواں ولولے ، جواں سالی اور جواں ارادے ہی قوم ساز اور تقدیر ساز ہوا کرتے ہیں۔ جن ممالک میں بھی انقلابات آئے ہیں، جہاںزندگی نے موت کو شکست دی ہے ، وہاں تاریخ گواہی دے گی کہ قربانیوں اور کامرانیوں کا پرچم نوجوانوں ہی کے ہاتھ میں رہا ہے … ہم چاہتے ہیں کہ نوجوانوں کی جدوجہد آگے بڑھے اور حیدرآباد کی ساری مظلوم انسانیت کے لئے پشت پناہی بن جائے ۔ نوجوانانِ ملت اتنی زبردست طاقت کے قالب میں ڈھل جائیں کہ فرعونوں ، جابروں ، راونوں اور چنگیزوں کی روح ان سے تھرانے لگے ۔ بے کس اور بے بس ان کو اپنا مضبوط سہارا سمجھنے لگیں۔ ہمیں انجمن نوجوانانِ ملت کی سلامتی طبع سے توقع ہے کہ اس گورستاں میں اپنے جہد و عمل سے ایک نئی زندگی پیدا کریں گے اوراپنے ماضی کی اس خوشحالی کو جو ایک بھولا ہوا خواب بن کر رہ گئی ہے ، حال کا ایک زندہ پیکر بنادیں گے ۔ ہم نوجوانوں کو اس پر خلوص جماعت اور اس کے جری صدر سے اپنی بہترین تمنائیں وابستہ کرتے ہیں‘‘۔ (ص : 144 )
یہ اداریہ اُس وقت لکھا گیا تھا جب کہ مظہر ملت بہ حیثیت صدر ، انجمن نوجوانانِ ملت اپنی ایک سالہ کارکردگی مکمل کرچکے تھے ، جس طرح انہوں نے اپنی خدمات انجام دیں، اُس سے متاثر ہوکر ، اس سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے کیونکہ ’’اداریے‘‘ عموماً عوام کی زبان ہوتے ہیں، جس میں ان کی خوشی مضمر ہوتی ہے ۔

11 اپریل 1955 ء مسجد دومل گورہ میں جلسہ شب برات سے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کی ہر طرف چھائی ہوئی مایوسی کو دور کرنے کیلئے مظہر ملت اُن کی ہمت باندھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مصائب و آلام سے ہمارے حوصلے بلند ہوتے ہیں۔ اقتباس ملاحظہ ہو:
’’حالات اور واقعات کی موڑ سے مسلمان کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ مصائب و آلام میں اس کے حوصلے بلند ہوتے ہیں اور اس کی صلاحیتیں نکھرتی ہیں اور اس کے عزائم میں پختگی پیدا ہوتی ہے ۔ جب ہر طرف سے مایوسی احاطہ کرتی ہے تو پروردگار عالم مرد مومن کو اپنی محافظت میں لے لیتا ہے ۔ خدائے بزرگ و برتر پر ایمانِ کامل کا جذبہ ایک بے مایا اور بے سہارا انسان کو عظمت و رفعت کی بلند و بالا منزلوں پر پہنچادیتا ہے ۔ یقین محکم کے اسی اعلیٰ جذبے نے نمرود کے مقابلے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اور فرعون کے مقابلے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اور میدانِ بدر میں باطل پرست اکثریت کے لشکر جرار کے مقابلے میں (313) تین سو تیرہ بے سر و سامان مسلمانوں کو جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا جوئی کیلئے سر سے کفن باندھ کر ساری دنیاوی طاقتوں سے بے خوف میدانِ بدر میں آئے تھے کامیاب و کامران کیا۔ آج حیدرآبادی مسلمان انقلاب زمانہ سے مایوس ہونے کے بجائے اپنے ا سلاف کے جذبۂ عمل کو نشانِ راہ بنائے تو کامیابی و کامرانی اُن کے ہم دوش وہمکنار ہوگی‘‘۔ (یکم مئی 1955 ء انقلاب بمبئی)
اپنی ان دلوں کو گرمادینے والی تقاریر کے ذریعہ مظہر ملت نے ہمیشہ مسلمانوں کو اسلام کے طور طریقوں پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی اور اپنے اسلاف کے کارناموں کو سامنے رکھتے ہوئے باطل پرست قوتوں کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ باندھتے ہیں۔
آخر میں ایک اور تقریر کا اقتباس پیش کرنا چاہوں گا جو بہ تاریخ 20 جنوری 1956 ء مرکزی انجمن نوجوانانِ ملت زیر اہتمام بہ مقام مسجد افضل گنج منعقدہ احتجاجی جلسہ شانِ رسالتؐ میں گستاخی  کے خلاف اترپردیش کے ان گریزی اخبار ’’پایونیر‘‘ اور اس کے ہندی ایڈیشن ’’سوتنترا بھارت‘‘ سے اظہار نفرت اور انتباہ ہے۔
’’مولوی مظہرالدین صدر مرکزی انجمن نوجوانانِ ملت نے احتجاجی جلسہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جناب رسالت پناہؐ میں بے ادبی کرنے والوں کا حشر چشم فلک دیکھ چکا ہے ۔ ’’ابوجہل‘‘ اور ’’ابو لہب‘‘ کی گستاخی کی عبرتناک سزا اپنے اندر سامان عبرت رکھتی ہے۔ قدرت کی لاٹھی بے آواز ہے لیکن اس کی ضرب سے زندگی کا سرچشمہ خشک ہوجاتا ہے ۔ خالق کائنات ہر خطا بخش دیتا ہے ۔ مگر اپنے محبوب کی توہین پر اس کے قہر و جلال کا طوفان کہیں ’’ابرہہ‘‘ جیسی فوجی قوت کو معمولی چڑیوں اور ننھی کنکریوں کے ذریعہ خاک و خون میں ملا دیتا ہے تو کہیں ’’میدانِ بدر‘‘ میں مخالف کے سر غرور کو نہتے افراد کے ذریعہ کچل دیتا ہے اورحکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ ان ایڈیٹروں کو سزا دلائی جائے اور وزیر اعلیٰ (یو پی ) کو وزارتِ اعلیٰ کے ذمہ دار عہدے سے علحدہ کر کے جمہوریت کے ماتھے پر لگے اس کلنک کو دھودے۔‘‘ (ص : 173 ۔ ’’پیام‘‘)
پچھلے وقتوں میں یہ ہوتا تھا کہ لوگ بھولی ہوئی شخصیات کو دوبارہ روشناس کرانے میں یا گمنام شخصیات کے ا فکار و کارناموں کو پھر سے متعارف کرانے کیلئے اپنے قلم کا زور دکھاتے تھے اور عام طور پر یہ اصحاب قلم خود بھی علم و دانش کے ا تنے بلند و بالا مراتب پر فائز ہوتے تھے کہ ایک ذی شعور اور قابل قاری بھی ان ارشادات کو بلا تامل قبول کرلیتا تھا ۔ آج یہی کیفیت ’’سلطنتِ آصفیہ کی رواداری کے شاہد مظہر ملت کی (تاریخی تقاریر) ‘‘ پر مبنی اس کتاب کی ہے ، جسے قاضی محمد سراج الدین رضوی صاحب نے ترتیب دے کر ہمارے اسلاف کے کارناموں کو نوجوان نسل کے سامنے پیش کیا ہے ۔ سراج الدین صاحب خود بھی ایک ذی فہم شخصیت کے مالک ہیں اور یہ تمام انہیں اپنے اجداد سے ورثے میں ملی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس کتاب کی اشاعت کا ارادہ کیا اور اپنے والد محترم کی تقاریر کو یکجا کرتے ہوئے اردو ادب کو ایک نایاب جوہر عطا کیا جس کی قدر ایک جوہری ہی جانتا ہے۔
کتاب مجلہ 176 صفحات ، قیمت : دو سو روپئے
ملنے کا پتہ : دفتر مظہر ملت اکیڈیمی فون نمبر 9963526920
ڈائمنڈ بک اسٹال ، ایک مینار مسجد ، نامپلی ، حیدرآباد۔
فون نمبر 9885127491

TOPPOPULARRECENT