Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / سلمان خان 13 سالہ پرانے ٹکر کیس میں بری

سلمان خان 13 سالہ پرانے ٹکر کیس میں بری

فیصلہ سننے کے بعد سلمان خان روپڑے
انسانی جذبہ کیساتھ عدالت کا فیصلہ قبول
پاسپورٹ واپس کردینے پولیس کوہدایت

ثبوت کمزور ، تحت کی عدالت کا فیصلہ کالعدم ، پُرہجوم کمرۂ عدالت میں بمبئی ہائیکورٹ کا فیصلہ
نئی دہلی۔ 10 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) بالی ووڈ سوپر اسٹار سلمان خان 13 سالہ پرانے ٹکر مارکر فرار ہوجانے کے کیس میں آج بری ہوگئے۔ بامبے ہائیکورٹ نے سیشن عدالت کی جانب سے انہیں پانچ سال کی سزا دیئے جانے کے 7 ماہ بعد فیصلہ سنایا کہ ’’سلمان خان بے قصور ہیں اور کہا کہ  استغاثہ ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا کہ سلمان خان شراب نوشی کے بعد گاڑی چلا رہے تھے‘‘۔ پرہجوم کمرۂ عدالت میں جسٹس اے آر جوشی نے سلمان خان کی سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’اداکار کی اپیل کو منظور کیا جاتا ہے اور تحت کی عدالت کے فیصلہ کو کالعدم سمجھا جائے۔ سلمان خان کو تمام الزامات سے بری کردیا گیا‘‘۔ ثبوت کو ’’کمزور‘‘ قرار دیتے ہوئے جسٹس جوشی نے استغاثہ کے کیس میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی۔ مثال کے طور پر استغاثہ نے اہم گواہوں کے بیانات اور ثبوتوں کو اکٹھا نہیں کیا اور نہ ہی زخمی گواہوں کے ثبوت درست ہیں۔ ان شواہد میں تضاد پایا جاتا ہے۔ انہوں نے عینی شاہد رویندر پاٹل سلمان خان کے سابق پولیس باڈی گارڈ کے بیان پر بھی شبہ کا اظہار کیا۔ اس بیان کو مجسٹریٹ نے ریکارڈ کیا تھا جس میں پاٹل نے کہا تھا کہ اداکار سلمان خان نشہ کی حالت میں گاڑی چلا رہے تھے۔ جسٹس جوشی نے رویندر پاٹل کے بیان کو قطعی غیرمعتبر قرار دیا اور کہا کہ یہ گواہ قابل اعتبار نہیں ہے۔ درخواست گذار کو ایک گواہ کی جانب سے فراہم کردہ ثبوتوں کی بنیاد پر سزا نہیں دی جاسکتی۔ جج نے کہا کہ رویندر پاٹل قطعی غیرمعتبر گواہ ہیں، کیونکہ وہ اپنے بیانات میں متواتر تبدیلیاں لاتا رہا ہے۔ مجسٹریٹ کو دیئے گئے بیانات مختلف نوعیت کے ہیں۔ حادثہ کے فوری بعد درج کردہ ایف آئی آر میں اس نے سلمان خان کو ماخوذ نہیں کیا تھا، لیکن عدالت کے سامنے اپنے بیان میں اس نے کہا کہ سلمان خان نشہ کی حالت میں گاڑی چلا رہے تھے۔ جج نے یہ بھی کہا کہ استغاثہ کو سلمان خان کے گلوکار دوست کمال خان سے بھی پوچھ گچھ کرنی چاہئے تھی کہ 28 ستمبر 2002ء کو حادثہ کے وقت ٹوئٹا لینڈ کروزر میں ان کے ہمراہ تھے۔ سلمان خان کے ڈرائیور اشوک سنگھ نے گواہِ صفائی کی حیثیت سے اپنے بیان  میں کہا تھا کہ وہ خود حادثہ کے وقت گاڑی چلا رہا تھا، اداکار سلمان خان گاڑی نہیں چلا رہے تھے۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ خود حادثہ کے بعد پولیس سے رجوع ہوکر اس واقعہ سے واقف کرایا تھا،

 

لیکن اس کے بیان کو ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ جسٹس جوشی نے کہا کہ شکوک و شبہات مضبوط ہونا ہی کسی کو خاطی قرار دینے کیلئے کافی نہیں ہوسکتے۔ ہمیں عوام کی رائے کا بھی علم ہے۔ یہ طئے شدہ رائے ہے کہ عدالتوں کو قانون کے مطابق ہی فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ عدالتیں اپنے پیشہ سے پہلوتہی نہیں کرسکتیں اور درخواست گذار کے موقف کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ 49 سالہ اداکار سلمان خان فیصلہ کی سماعت کے فوری بعد رو پڑے۔ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور وہ جذبات سے مغلوب دکھائی دے رہے تھے۔ نیلے رنگ کی جینس اور سیاہ و سفید شرٹ زیب تن کئے ہوئے سلمان خان کو کمرۂ عدالت میں پُرسکون دیکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس فیصلہ کو انسانی جذبہ کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔ اسی دوران چیف منسٹر دیویندر فرنویس نے کہا کہ حکومت یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا بامبے ہائیکورٹ کے احکام کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کی جائے یا نہیں۔ ہم ہائیکورٹ کے فیصلہ کا جائزہ لیں گے، اس کے بعد ہی آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کریں گے۔ قبل ازیں سلمان خان اپنے باڈی گارڈ شیرا اور بہنوئی آیوش، بہن الویرا اور ان کے مینیجر کے ہمراہ دوپہر 1:30 بجے عدالت پہونچے، کیونکہ جج نے فیصلہ سنانے کے دوران ان کی موجودگی پر زور دیا تھا۔ جسٹس جوشی نے باندرہ پولیس کو ہدایت دی کہ وہ سلمان خان کا پاسپورٹ انہیں واپس دیدے اور سلمان خان سے کہا کہ وہ دو ہفتہ کے اندر 25 ہزار روپئے کے شخصی مچلکہ داخل کردیں۔

 

سلمان خان کی برأت پر ان کے مداحوں کا جشن
ممبئی ۔ 10 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) بامبے ہائیکورٹ کے فیصلہ کے بعد جس میں سلمان خان کو 2002ء کے ’’ہٹ اینڈ رَن‘‘ مقدمہ میں بری کردیا گیا ہے، باندرہ میں ان کی قیام گاہ کے باہر سینکڑوں مداحوں نے پٹاخے چھوڑے اور جشن منایا۔ سلمان خان کی تمام الزامات سے 13 سال مقدمہ جاری رہنے کے بعد بری کردیئے جانے کی خبر جیسے ہی پھیلی ، ان کی قیام گاہ کے سامنے ان کے مداحوں کی آمد شروع ہوگئی جن میں لڈو تقسیم کئے گئے۔ وہ سلمان خان کے کٹ آؤٹ لہرا رہے تھے تاہم مداحوں اور حامیوں نے اداکار کی ایک جھلک دیکھنے کی ناکام کوشش کی کیونکہ سلمان خان ’’گیلاکسی اپارٹمنٹس‘‘ کے اپنے فلیٹ کی بالکونی میں نہیں آئے۔ وہ 5:35 بجے شام جبکہ فیصلہ کے اعلان کو پانچ گھنٹے گذر چکے تھے، ہجوم سے بچ کر عقبی دروازے کے ذریعہ اپنے فلیٹ میں داخل ہوگئے۔ پولیس نے ان کی قیام گاہ کے باہر صیانتی انتظامات میں شدت پیدا کردی تھی۔ سلمان خان کے بھائی سہیل خان ، بہن ارپتا ، والد سلیم خان اور سوتیلی والدہ ہیلن نے بھی سلمان خان کی قیام گاہ پر پہنچ کر ان سے ملاقات کی اور الزامات سے بری کئے جانے پر انہیں مبارکباد دی کہ پولیس کی توقع کے برعکس سلمان خان کو عدالت نے بری کردیا۔

TOPPOPULARRECENT