Tuesday , October 17 2017
Home / Top Stories / سماجوادی پارٹی پھوٹ کی سمت گامزن ؟ ۔ بحران میں شدت

سماجوادی پارٹی پھوٹ کی سمت گامزن ؟ ۔ بحران میں شدت

چیف منسٹر اکھیلیش نے شیوپال اور تین وزرا کو برطرف کردیا ۔ ملائم نے رام گوپال یادو کو پارٹی سے خارج کردیا
لکھنو 23 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) اسمبلی انتخابات سے عین قبل ایسا لگتا ہے کہ اترپردیش کی برسر اقتدار جماعت سماجوادی پارٹی پھوٹ کی سمت بڑھ رہی ہے جبکہ چیف منسٹر اکھیلیش سنگھ یادو اور ان کی پارٹی کے سربراہ و والد ملائم سنگھ یادو ایک دوسرے کے حامیوں کے خلاف کارروائی میں مصروف ہوگئے ہیں۔ چیف منسٹر نے اپنے والد کے حامی وزیر شیوپال یادو اور دو دوسرے وزرا کو کابینہ سے برطرف کردیا ہے تو پارٹی سربراہ ملائم سنگھ یادو نے اکھیلیش کے حامی اپنے رشتہ دار بھائی رام گوپال یادو کو پارٹی سے چھ سال کیلئے خارج کردیا ہے ۔ تیز رفتار تبدیلیوں کے دن آج اکھیلیش یادو نے پہلے اپنے چچا شیوپال یادو کو تین دوسرے امر سنگھ حامی وزرا کو اپنی کابینہ سے برطرف کردیا جس کے بعد ملائم سنگھ نے جیسے کو تیسا رویہ اختیار کرتے ہوئے رام گوپال یادو کو پارٹی سے خارج کردیا ہے ۔ ملائم سنگھ یادو آج دن بھر خاموش رہے اور انہوں نے شام میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جو کچھ کہنا وہ کل کہیں گے ۔ انہوں نے یہ ریمارک شیوپال ‘ اوم پرکاش سنگھ ‘ سینئر وزیر و پارٹی ترجمان امبیکا چودھری اور ایم ایل سی آشو ملک و کچھ دوسروں سے ملاقات کے بعد کئے ۔ پارٹکی میں بحران آج صبح اس وقت شروع ہوا جب چیف منسٹر نے ارکان اسمبلی و کونسل کا ایک اجلاس اپنی قیامگاہ پر طلب کیا ۔ اس اجلاس میں پارٹی کے 229 کے منجملہ 183 ارکان اسمبلی نے شرکت کی اور یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ امر سنگھ کے حامیوں کے خلاف کارروائی کی جائے

جن کی پارٹی میں دو ماہ قبال واپسی سے برسر اقتدار خاندان میں اختلافات شروع ہوگئے تھے ۔ واضح رہے کہ ملائم سنگھ یادو نے کل ایک اجلاس طلب کیا ہے جس میں پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ ‘ اسمبلی و کونسل کا ایک اجلاس منعقد ہوگا جس میں امکان ہے کہ کچھ سخت فیصلے کئے جائیں گے ۔ آج کے اجلاس کے بعد چیف منسٹر نے گورنر رام نائک سے سفارش کی کہ شیوپال یادو ‘ نرد رائے اور اوم پرکاش سنگھ ( تمام کابینی وزرا ) کے علاوہ سیدہ شاداب فاطمہ ( منسٹر آف اسٹیٹ آزادانہ چارچ ) کو کابینہ سے برطرف کردیا جائے ۔ گورنر نے اس سفارش کو فوری قبول کرلیا ۔ جب اجلاس چل ہی رہا تھا چیف منسٹر اکھیلیش کے حامیوں نے ان کی تائید میں زبردست نعرہ بازی کی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اکھیلیش کی جانب سے وزرا کی برطرفی کے اعلان سے بھی قبل رام گوپال یادو نے آج صبح چھ بجے ایک مکتوب جاری کرتے ہوئے پارٹی ورکرس کو مخاطب کیا اور چیف منسٹر اکھیلیش کی تائید کی ۔ انہوں نے اکھیلیش کی مخالفت کرنے والوں کو خبردار کیا اور کہا کہ جو لوگ اکھیلیش کی مخالفت کر رہے ہیں ان کے چہرے نہ اسمبلی میں نظر آئیں گے اور نہ کابینہ میں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں اکھیلیش ہونگے وہاں کامیابی ہوگی ۔ اپنی برخواستگی کے فوری بعد شیوپال نے ملائم سنگھ یادو سے ملاقات کی ۔ چند گھنٹوں کے بعد انہوں نے اعلان کیا کہ ملائم سنگھ یادو نے رام گوپال یادو کو پارٹی سے چھ سال کیلئے خارج کردیا ہے ۔ آج فریقین کے مابین ایک دوسرے پر الزامات بھی عائد کئے گئے ۔ شیوپال نے جہاں رام گوپال یادو پر الزامات عائد کئے وہیں رام گوپال یادو نے بھی شیوپال و دوسروں کے خلاف اپنے مکتوب میں سخت لب و لہجہ اختیار کیا ۔

TOPPOPULARRECENT