Sunday , August 20 2017
Home / مضامین / سماجوادی پارٹی کے اختلافات دلت ۔ مسلم اتحاد کا موقع

سماجوادی پارٹی کے اختلافات دلت ۔ مسلم اتحاد کا موقع

خلیل قادری
اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کیلئے حالانکہ ابھی چند ماہ کا وقت ہے لیکن سیاسی جماعتوں کی تیاریاں اپنے عروج پر پہونچتی جا رہی ہیں۔ ابھی یہ تیاریاں حکمت عملی کی تیاری ‘ وسائل کے مجتمع کرنے ‘ سیاسی قائدین کی توڑ جوڑ اور غور خوص کیلئے بند کمروں کے اجلاسوں تک محدود ہیں لیکن یہ بہت سرگرمی سے چل رہے ہیں۔ ایک جماعت سے دوسری جماعت کو انحراف کے سلسلوں میں بھی تیزی پیدا ہوتی جا رہی ہے ۔ رائے دہندوں تک ابھی کوئی جماعت راست طور پر پہونچنے سے گریز کر رہی ہے ۔ حالانکہ مختلف موضوعات اور عنوانات سے جلسوں اور ریلیوں کا انعقاد شروع ہوگیا ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی اپنے طور پر مختلف بہانوں سے اترپردیش کے دورے کر رہے ہیں۔ مرکزی حکومت کے مختلف محکمہ جات بھی نت نئے بہانوں اور پروگراموں کے ذریعہ اترپردیش کے رائے دہندوں پر اثر انداز ہونے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ بی جے پی کے صدر امیت شاہ بھی ریاست پر ساری توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی کسان یاترا منظم کرچکے ہیں۔ اس کے اثرات کا کانگریس کے ذمہ دار قائدین جائزہ لے رہے ہیں۔ اس کے بعد کی حکمت عملی تیار کرنے کیلئے تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے ۔ سیاسی اتحاد اور انتخابی مفاہمت کیلئے امکانات کو تلاش کیا جا رہا ہے ۔ بہوجن سماج پارٹی اپنے طور پر سرگرم ہوگئی ہے ۔ پارٹی سربراہ مایاوتی رائے دہندوں کو بالواسطہ طور پر مخاطب کرتی جا رہی ہیں ۔ ان کی تائید حاصل کرنے کیلئے ابھی سے کوششیں شروع کرچکی ہیں۔ سماجوادی پارٹی تاہم اس معاملہ میں سب سے پیچھے نظر آتی ہے ۔ پارٹی میں داخلی اختلافات نے پارٹی کو مشکلات کا شکار کردیا ہے ۔ اس کی مشکلات پہلے ہی سے تھیں لیکن ان میں مزید اضافہ کردیا گیا ہے ۔ اب پارٹی کے ریاستی صدر شیوپال یادو نے پارٹی کی انتخابی مفاہمت کیلئے کچھ جماعتوں کو تلاش کرنے کا کام شروع کردیا ہے ۔ ایسا لگ رہا ہے کہ پارٹی کو اپنی مشکلات کا اندازہ اس وقت ہونے لگا ہے جب اس کے اثرات پہلے ہی سے مرتب ہونے شروع ہوگئے ہیں۔ اس صورتحال سے جہاں کسی کو مشکلات اور کسی کو آسانیاں پیدا ہوسکتی ہیں تو وہیں ایک پہلو یہ بھی ہے کہ سماجوادی پارٹی کے اختلافات کے نتیجہ میں ریاست میں دلتوں اور مسلمانوں کے اتحاد کیلئے راہ ہموار ہونے لگی ہے ۔ ریاست کا سیاسی جغرافیا ایسا ہے کہ اگر دلت اور مسلمان ایک ہوجائیں اور ایک جماعت کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کرنے کا فیصلہ کرلیں تو پھر اس جماعت کو اقتدار ملنا تقریبا طئے سمجھا جائیگا ۔ اب یہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔ یہاں دلتوں و مسلمانوں کو متحد کرنے کی کوشش اگر کی جاتی ہے اور کوئی بھی جماعت اس میں کامیاب ہوکر ان کی تائید حاصل کرپاتی ہے تو پھر اسے اقتدار حاصل کرنے میں سہولت اور آسانی ہوسکتی ہے ۔
اترپردیش کی انتخابی سیاست میں ایک روایت رہی ہے ۔ برہمن طبقہ اور اعلی ذات والے اکثر و بیشتر بی جے پی کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کرتے رہے ہیں۔ بی جے پی کو اعلی ذات والوں کی پارٹی اسی ریاست سے کہا جانے لگا تھا ۔ پارٹی نے جب فرقہ پرستی کے مسائل کو ہوا دینے کی کوشش کی تو اعلی ذات والوں کو ہی اس کیلئے استعمال کیا گیا تھا اور اب تک پارٹی پر یہی چھاپ موجود ہے ۔ حالانکہ پارٹی اب بھی اسی چھاپ کے تحت کام کرنا چاہتی ہے لیکن وہ کھل کر دلتوں کی مخالفت کرنے کے موقف میں نہیں ہے ۔ حالانکہ مسلمانوں کے تعلق سے زہر افشانی تو کرتی ہے اور اس میں آئندہ دنوں میں مزید شدت بھی پیدا ہونے کے اندیشے ہیں لیکن دلتوں کے معاملہ میں پارٹی ایسا نہیں کرسکتی ۔ دلتوں کی تائید حاصل کرنے کیلئے بی جے پی اس بار ایڑی چوٹی کا زور لگانے کا تہئیہ کرچکی ہے ۔ جہاں تک سماجوادی پارٹی کا سوال ہے اسے یادو برادری کی کامل تائید حاصل رہتی ہے ۔ مسلمان بھی بڑی حد تک سماجوادی پارٹی کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کی معمولی سی تعداد بی ایس پی کے بھی ساتھ رہی ہے ۔ بی ایس پی کو زیادہ تر ووٹ بہوجن سماج یا دلتوں کے ہی ملتے ہیں ۔ پارٹی انہیں کے کاز کی چمپئن بھی بننا چاہتی ہے اور اس کا وہ اعلان بھی کرتی ہے ۔ اس کی پالسییوں اور اعلانات میں مرکزی توجہ دلت برادری کو ہی حاصل رہتی ہے ۔ کانگریس کا جہاں تک سوال ہے وہ کسی بھی طبقہ میں اپنے ووٹ بینک کو بچائے رکھنے میں ناکام ہوگئی ہے ۔ ہر طبقہ میں اس کو ووٹ دینے والے موجود ہیں لیکن ان کی تعداد انتہائی کم ہے اور اس کم تناسب کی بنیاد پر پارٹی کو کامیابی نہیں مل پائی ہے ۔ مختلف طبقات اور برداریوں میں ووٹ بینک بنے رہنے کا رجحان اتر پردیش میں سب سے زیادہ دیکھنے میں آیا تھا ۔ اب وہاں سماجوادی پارٹی میں جو داخلی اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور اس کے جو اثرات مرتب ہوئے ہیں ان کے نتیجہ میں ایسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے کہ دلت اور مسلمان اپنے ووٹ کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ووٹ دے سکتے ہیں۔ مسلمانوں کی قابل لحاظ تعداد جذباتیت کا شکار رہی ہے لیکن اب حالات اور مواقع ایسے ہیں کہ جذبات کی بجائے حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے دور اندیشی کے ساتھ فیصلہ کیا جائے ۔ مسلمانوں کی ایک خاطر خواہ تعداد اب ایسی ہے جو شائد موجودہ حالات میں سماجوادی پارٹی کے ساتھ جانے کو تیار نہیں ہوگی ۔ پارٹی کے داخلی اختلافات نے مسلمانوں کو اس تعلق سے سوچنے کیلئے مجبور کردیا ہے ۔ انہیں اس بار اپنی روایت کو برقرار رکھنے کے تعلق سے دوسری مرتبہ سوچنا پڑ رہا ہے ۔ سماجوادی پارٹی سے ریاست کے مسلمانوں کی وابستگی ہمیشہ سے مسلم رہی ہے لیکن اس بار صورتحال قدرے مختلف نظر آتی ہے اور اسی تبدیلی سے ریاست کا سیاسی منظرنامہ بھی بدل سکتا ہے ۔ کسی بھی حال میں یہ بات طئے ہے کہ مسلمانوں کو یہ بات یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ان کے ووٹ تقسیم نہ ہونے پائیں۔
دلت سماج کے ارکان میں سیاسی شعور مسلمانوں سے زیادہ ہے ۔ اگر دلت برادری کے ارکان ہمیشہ کی طرح بہوجن سماج پارٹی کے ساتھ جاتے ہیں اور ان کے ووٹ تقسیم نہیں ہوپاتے ہیں تو اس پارٹی کو ریاست میں قدرے بہتر صورتحال کا سامنا ہوسکتا ہے ۔ ایسے میں اگر بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں اور ان کیلئے واضح اور جامع حکمت عملی پیش کرتے ہوئے ترقیاتی کاموں میں حصہ داری کا وعدہ کرتے ہوئے ان کی تائید حاصل کرپاتی ہیں تو پھر ریاست میں وہ ایک بار پھر وزارت اعلی کی کرسی تک پہونچ سکتی ہیں۔ دلتوں اور مسلمانوں کا اتحاد نہ صرف ریاست اتر پردیش کیلئے بلکہ سارے ملک کیلئے ایک مثال بن سکتا ہے ۔ جذباتی نعروں کے ذریعہ دونوں ہی برادریوں کا اب تک استحصال ہوتا رہا ہے ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ دلت برداری میں تاہم شعور کی بیداری کیلئے خاص توجہ دی گئی تھی اور اس کے اثرات بھی اب دکھائی دے رہے ہیں۔ مسلمان اگر اسی طرح جذباتیت کا شکار ہوتے رہیں تو پھر ان کے سیاسی استحصال کا سلسلہ رکنے والا نہیں ہے ۔ مسلمانوں کے ووٹوں کی ٹھوک کے بھاؤ میں سودے بازیاں کرنے والے موجود ہیں ۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھیں اور جذباتیت کا شکار ہونے کی بجائے مستقبل کی حکمت عملی کو سامنے رکھیں۔ سیاسی جماعتوں کے عزائم اور ان کی پالیسیوں و پروگراموں کو پرکھا جائے ۔ ان سے وعدے لئے جائیں ۔ اس کے بعد ہی مسلمانوں کو اپنے ووٹوں کے تعلق سے کوئی فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ مسلمانوں کو یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ ان کا ووٹ راست یا بالواسطہ طور پر بی جے پی کو فائدہ پہونچانے کا باعث نہ بنے ۔ مسلمانوں کے ووٹ اگر تقسیم ہوجاتے ہیں اور بی جے پی اگر اتر پردیش میں توڑ جوڑ کے ذریعہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو پھر سارے ملک کے مسلمانوں کیلئے عرصہ حیات بہت تیزی سے تنگ ہوتا جائیگا ۔ بی جے پی کا مخالف مسلم ایجنڈہ پوری شدت کے ساتھ سامنے آجائیگا اور اس وقت اس ایجنڈہ پر عمل آوری کو روکنے والا کوئی نہیں ہوگا ۔ آج بی جے پی یکساں سیول کوڈ اور تین طلاق جیسے مسائل کو اچھال رہی ہے ۔ اس کا مقصد یو پی میں سیاسی فائدہ حاصل کرنے تک محدود نہیں ہے ۔ وہ مسلمانوں کے رد عمل کو بڑے غور سے دیکھ رہی ہے ۔ اگر بی جے پی کو بہار میں اقتدار حاصل ہوجاتا تو یہ مسائل بہت پہلے اچھالے جاتے ۔ بہار کی شکست سے چند مہینوں کیلئے ان کو روک دیا گیا تھا ۔ آسام کی کامیابی نے بی جے پی کے حوصلے بلند کئے اور اتر پردیش میں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی ضرورت نے بھی اسے اب ان مسائل کو ہوا دینے پر مجبور کردیا ہے ۔ اس صورتحال میں مسلمانوں کے سیاسی شعور کا امتحان ہے ۔ اگر مسلمان لاشعوری کا سلسلہ جاری رکھیں تو اس کے دور رس اثرات سارے ملک پر مرتب ہونگے ۔ اگر مسلمان وقت کی ضرورت اور نزاکت کو محسوس کرلیتے ہیں اور اتر پردیش میں دلتوں اور مسلمانوں کا اتحاد ہوجاتا ہے تو پھر فرقہ پرستوں کے عزائم کو روکنے اور انہیں آگے بڑھنے سے روکا جاسکتا ہے ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT