Friday , March 24 2017
Home / سیاسیات / سماجوادی ۔ کانگریس اتحاد 2019 میں بھی برقرار رہیگا

سماجوادی ۔ کانگریس اتحاد 2019 میں بھی برقرار رہیگا

نریندر مودی ‘ وزارت عظمی کا وقار برقرار رکھنے میں ناکام ۔ کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد

کانپور 16 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) سینئر کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد نے آج کہا کہ سماجوادی ۔ کانگریس اتحاد 2019 لوک سبھا انتخابات کیلئے بھی برقرار رہے گا اور دوسری سکیولر طاقتوں کو بھی اس کا حصہ بنایا جائیگا ۔ اس سوال پر کہ آیا بہوجن سماج پارٹی کو بھی اس اتحاد میں شامل کیا جائیگا آزاد نے کہا کہ وہ تمام سکیولر پارٹیوں سے خواہش کر رہے ہیں کہ وہ آپس میں متحد ہوجائیں اور بی جے پی سے مشترکہ مقابلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ سماجوادی ۔ کانگریس اتحاد 2019 لوک سبھا انتخابات کیلئے بھی برقرار رہے گا کیونکہ ہماری پارٹیوں نے یہ محسوس کیا ہے کہ اگر ہم کو اترپردیش میں سکیولر بنیادوں کو مستحکم کرنا ہے تو پھر ہم کو متحد رہنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سکیولر جماعتوں کو 2014 میں نقصان ہوا اور اسی سے بی جے پی نے فائدہ اٹھایا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کو اترپردیش میں 73 لوک سبھا حلقوں میں کامیابی ملی تھی تاہم اگر کانگریس ‘ سماجوادی پارٹی اور راشٹریہ لوک دل 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں مشترکہ مقابلہ کرتے ہیں تو بی جے پی کو صرف 10 تا 15 نشستوں پر اکتفا کرنا پڑے گا ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے آزاد نے کہا کہ حالانکہ وہ ملک کے وزیر اعظم بن گئے ہیں لیکن ان میں ابھی بھی شعور ‘ سنجیدگی اور تدبر کا فقدان ہے جو اس ذمہ داری کیلئے ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شائد یہی وجہ ہے کہ ان کی تقاریر کا معیار کم سے کم ہوتا جا رہا ہے ۔

وہ یہ بات پارلیمنٹ میں بھی کہہ چکے ہیں کہ وزیر اعظم کو اپنے عہدہ کا وقار برقرار رکھنا چاہئے ۔ اترپردیش میں سماجوادی ۔ کانگریس اتحاد کے امکانات کے تعلق سے اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاں کہیں انتخابات ہوگئے ہیں وہاں یہ اتحاد اول نمبر پر ہے اور وہ تیسرے مرحلہ میں جہاں انتخابات ہونے والے ہیں ان حلقوں میں اتحاد کیلئے مہم چلائیں گے ۔ غلام نبی آزاد نے مزید کہا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ اتحاد انتخابات میں کم از کم 275 نشستوں پر کامیابی حاصل کریگا اور وہ چیف منسٹر اکھیلیش یادو کی قیادت میں حکومت تشکیل دے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ان انتخابات میں بہوجن سماج پارٹی تنہا ہو کر رہ گئی ہے اور اسی لئے پارٹی سربراہ مایاوتی کے دو طرح کے دانت ہوگئے ہیں ایک دکھانے کے ایک اور کھانے کے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ حال ہی میں مغربی اترپردیش گئے تھے جہاں انہوں نے ایک ویڈیو دیکھا جس میں وہ کہہ رہی تھیں کہ جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان ووٹ دوسری جماعتوں کی سمت جا رہے ہیں تو انہوں نے اپنے ووٹ بھی بی جے پی کی سمت موڑ دئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بالواسطہ طور پر بی جے پی کی مدد کر رہی ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT