Thursday , September 21 2017
Home / سیاسیات / سماجی اور معاشی مسائل پر سنگھ پریوار کا اجلاس

سماجی اور معاشی مسائل پر سنگھ پریوار کا اجلاس

حکومت اور بی جے پی کے اعلیٰ سطحی قائدین کی اجلاس میں شرکت

نئی دہلی ۔ 2 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) اپنی نوعیت کے اولین تبادلہ خیال میں جس میں وزیراعظم نریندر مودی اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی بار شرکت کریں گے، آر ایس ایس اور اس کی ملحقہ تنظیموں کے اعلیٰ عہدیدار شرکت کررہے ہیں۔ حکومت اور بی جے پی متحدہ طور پر کلیدی مسائل بشمول ایک عہدہ ایک پنشن کے حساس مسئلہ پر اس کی عاجلانہ یکسوئی کی تائید میں ہے۔ شریک ہونے والوں میں احساس پایا جاتا ہیکہ اس اجلاس میں حساس مسئلہ کی جلد از جلد یکسوئی ہوجانا چاہئے کیونکہ یہ مسئلہ سنگھ پریوار کو بے حد عزیز ہے۔ اجلاس کا نکتہ نظر اس پس منظر میں اہمیت رکھتا ہے کہ پس پردہ کارروائیاں سابق فوجیوں کے مطالبات کے بارے میں جاری ہیں۔ حکمرانی کے مسائل جیسے حصول اراضی قانون، گجرات میں پٹیل برادری کیلئے تحفظات کا احتجاج، زرعی ترقی، قومی سلامتی اور حالیہ مردم شماری کے اعداد و شمار بھی موضوعات گفتگو میں شامل ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی توقع ہیکہ اجلاس کے آخری یعنی جمعہ کے دن اجلاس میں شرکت کریں گے۔ آج کے مباحث میں مرکزی وزراء راجناتھ سنگھ، ارون جیٹلی، سشماسوراج، منوہر پاریکر، وینکیا نائیڈو، اننت کمار کے علاوہ قومی صدر بی جے پی امیت شاہ اور چند دیگر وزراء نے شرکت کی۔

سرسنچالک آر ایس ایس موہن بھاگوت نے اجلاس کی صدارت کی، جس میں سنگھ سے ملحق 15 تنظیموں بشمول وی ایچ پی، سوادیشی جاگرن منچ اور بی ایم ایس شریک تھے۔ بی جے پی کے جنرل سکریٹری رام مادھو جنہیں آر ایس ایس نے بی جے پی کو عارضی طور پر منتقل کیا ہے، ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ ایک عہدہ ایک پنشن مسئلہ پر کوئی تبادلہ خیال نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ حکومت کے زیرغور ہے۔ اجلاس مستقبل میں سنگھ پریوار کیسے پیشرفت کرے گا، اس سلسلہ میں منعقد کیا جارہا ہے۔ یہ حکومت کی کارروائیوں کا، اس کی کسی پالیسی یا پروگراموں کا جائزہ لینے کیلئے منعقد نہیں کیا گیا ہے۔ ذرائع کے بموجب حکومت کو کسی بھی پالیسی یا پروگرام کے تجزیہ سے پہلے مطلع کیا جائے گا۔ آج کے ایجنڈہ میں معاشی مسائل بھی شامل تھے۔ سماجی، ثقافتی اور تعلیماتی مسائل بھی آئندہ دو دن کے اجلاسوں میں زیربحث آئیں گے۔ سنگھ پریوار کی تنظیموں کا رابطہ اجلاس دو سال میں ایک مرتبہ منعقد کیا جاتا ہے لیکن اس بار شرکاء کی تعداد معمول سے دگنی ہے جس کی وجہ سے یہ اجلاس انتہائی اہم ہوگیا ہے۔ مودی بھی وزیراعظم بننے کے بعد پہلی بار شرکت کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT