Saturday , August 19 2017
Home / ہندوستان / سماجی شعبہ اور تعلیم کیلئے سرکاری فنڈس میں کٹوتی تشویشناک

سماجی شعبہ اور تعلیم کیلئے سرکاری فنڈس میں کٹوتی تشویشناک

سوشیل ویلفیر اسکیمات سے بے اعتنائی کے سنگین نتائج، نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری کا خطاب

کوچی۔31 اگست (سیاست ڈاٹ کام) گزشتہ 2 سال میں سماجی شعبہ بشمول تعلیم کے لئے مختص سرکاری فنڈس میں کٹوتی پر فکر و تردد کا اظہار کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری نے آج کلیدی ویلفیر اسکیمات کیلئے مزید فنڈس فراہم کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے تاکہ والدین کی آمدنی میں گراوٹ کا اثر ان کے بچوں کی تعلیم پر نہ ہوسکے۔ یہ نشاندہی کرتے ہوئے کہ اسکول ایجوکیشن جیسی عوامی خدمات ترقی و نشوونما کیلئے اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکولی تعلیم اور قوم کے ارتقاء پر مصارف کو ہم آہنگ کیا گیا ہے لیکن تعلیمی شعبہ کے لئے ناکافی فنڈس فراہم کئے جارہے ہیں۔ مسٹر حامد انصاری نے آج یہاں پروفیسر کے وی تھامس ودیا دھانم ٹرسٹ کے زیر اہتمام منعقدہ ودیا دھانم پراجکٹ کی افتتاحی تقریب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے لئے مجموعی گھریلو پیداوار کا 3.5 فیصد سے جو کم خرچ کیا جارہا ہے جبکہ متفرق قومی تعلیمی پالیسیوں کے لئے 6 فیصد صرف کرنے کا عہد کیا گیا تھا انہوں نے بتایا کہ تازہ بحث میں اسکول ایجوکیشن کے لئے مختص فنڈس میں صرف نصف رقومات 52 فیصد سرو شکھشا ابھیان کے لئے جاری کی گئی ہیں لیکن گزشتہ 5 سال کے دوران مختص فنڈس 6 فیصد سے بھی کم سال 2012-13 میں 23,873 کروڑ اور سال 2016-17 ء میں 22,500 کروڑ روپئے کردیئے گئے ہیں۔ نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ اسکولی تعلیم کی بنیادی ذمہ داری ریاستوں پر عائد ہوتی ہے جبکہ مرکزی حکومت 60 فیصد فینانس سروشکھشا ابھیان جیسے پروگرامس کے ذریعہ ریاستوں کو فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کے 66 فیصد بچے سرکاری یا امدادی اسکولوں میں پڑھتے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سماجی شعبہ کے پرگرامس بشمول تعلیم کیلئے سرکاری فنڈس میں مسلسل کٹوتی کی جارہی ہے۔ انوہں نے بتایا کہ گزشتہ 2 سال کے دوران مرکزی حکومت کی سماجی اسکیمات مربوط نشوونما اطفال خدمات (ICDS) سروشکھشا ابھیان اور نیشنل ہیلتھ مشن کیلئے فنڈس میں بالترتیب 5 فیصد، 8 فیصد اور 3 فیصد کٹوتی کردی گئی ہے۔ مسٹر حامد انصاری نے تعلیمی شعبہ کے لئے سرکاری فنڈس میں اضافہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دیگر سوشیل ویلفیر اسکیمات بالخصوص دیہی شعبہ میں فنڈنگ لیول برقرار رکھا جائے تاکہ والدین کی گھٹتی ہوئی آمدنی کا اثر بچوں کی تعلیمی پر نہ ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا کے رکن کے وی تھامس کے حلقہ پارلیمان میں ودیا دھانم پراجیکٹ منفرد اور خوش آئند ہے جہاں پر ذہین طلباء کیلئے مالی ترغیبات اور اسکالرشپ فراہم کی جائے گی اور زندگی گزارنے کا ہنر بھی سکھایا جائیگا۔

TOPPOPULARRECENT