Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / سماجی کارکن شبنم ہاشمی کا دعوی ہے کہ پولیس نے انہیں انکاونٹر کی دھمکی دی ہے۔

سماجی کارکن شبنم ہاشمی کا دعوی ہے کہ پولیس نے انہیں انکاونٹر کی دھمکی دی ہے۔

نئی دہلی: سماجی جہدکار شبنم ہاشمی نے دہلی پولیس سے رجوع ہوتے ہوئے اس بات کا دعوی کیا ہے کہ ایک افیسر نے انہیں ’’ انکاونٹر‘‘ میں ہلاک کرنے کی دھمکی دی ہے۔اس موقع پر انہوں نے اڈیو کلپ بھی جاری کی جس میں بات کرنے والی شخص کی شناخت لاجپت نگر پولیس اسٹیشن کے سب انسپکٹر سندیپ ملک کی حیثیت سے کی گئی ہے اور وہ دھمکیاں دیتے ہوئے سنائی دے رہا ہے۔انہوں نے پولیس کمشنر امولیا پٹنائک سے تحریری شکایت کی اور اس کی ایک کاپی ہوم منسٹر راجناتھ سنگھ کو بھی روانہ کی ہے۔

ہاشمی نے کنسٹیٹویشن کلب میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ’’ مجھے راست طور پر انکاونٹر میں ہلاک کرنے کی دھمکی دی گئی ہے‘‘ ۔واقعہ کے متعلق اپنے فیس بک پوسٹ میں ہاشمی نے لکھا کہ ’’ اتفاق سے میرے فون میں کال ریکارڈر نہیں ہے ‘اسی وجہہ سے نہایت بدتمیزی اور بدسلوکی کے ساتھ کی گئی بات چیت میرے پارس ریکارڈ نہیں ہے ۔ میں نے پندرہ منٹ بعد فون منقطع کردیااور فوری طور پر کال ریکارڈر ڈاؤن کرنے شروع کردیا۔اس دوران وہ شخص جو خود کو لاجپت نگر پولیس کا سب انسپکٹر سندیپ ملک ہونے کا دعوی کررہا تھا نے مجھے چار مرتبہ فون کیا مگر میں نے کال ریکارڈ ڈاون لاؤڈ ہونے تک اس کا فون قبول نہیں کیا‘‘۔

URGENT PRESS RELEASE‘जिसका आधार नंबर और एड्रेस नहीं है हम उसे कहीं भी ख़तम कर सकते हैं’‘एक अभियान चल रहा है घेरो और मारो’Sub Inspector threatens to killThe conversation and the 'Sub Inspectors' ’ threats raise serious questions which the Government of the day and the Police Commissioner must answer. Pehchan , a voluntary organisation, of whom I am a founding Trustee runs a small centre in Jaitpur Extension, New Delhi and teaches school drop outs every year, coaches them to appear for 10th and 12th from Jamia. It also runs sewing classes for women. I received a call from Director of Pehchan coaching centre at 8.59pm. She told me that Haseen husband of one of the women (Mubina) , who had learnt stitching at our centre, got a call from a man who said that he was calling from the Lajpat Nagar police station and was a sub inspector. He threatened Haseen and called him to the police station regarding some complaint. She gave me SI’s name and number. Usually when someone is called at night we do try and call up the police officer concerned, try and arrange a lawyer to go with whoever has been called to the police station. I did the same. Unfortunately my telephone did not have a call recorder downloaded. The conversation which was full of abuses, using highly derogatory and uncivilized language could not be recorded. I cut the phone after 15 minutes or so and downloaded a call recorder quickly. In between the person who claimed to be the Sub Inspector Sandip Malik from Lajpat Nagar Police Station called 4 times but I didn’t pick up the phone till the recorder was downloaded. I am attaching the recording which is self explanatory. The earlier conversation was a lot more threatening and abusive as compared to what has been recorded. I was directly threatened that I will be killed in an encounter and that there is the new law according to which whoever doesn’t have an aadhaar and address proof should be surrounded and killed (‘एक अभियान चल रहा है घेरो और मारो’ ).The man who claimed to be the sub inspector called from mobile no 7065824289. The conversation and the Sub Inspectors’ threat raise serious questions which the Government of the day and the Police Commissioner must answer.

Posted by Shabnam Hashmi on Friday, July 14, 2017

انہوں نے بتایا کہ مذکورہ شخص جو سب انسپکٹر سندیپ ملک ہونے کا دعوی کررہا ہے نے نہایت بدسلوکی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے مجھے انکاونٹر میں ہلاک کرنے کی دھمکی دی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ’’میں ریکارڈنگ بھی شکایت میں شامل کررہی ہوں جو خود اس بات کی وضاحت کرتا ہے۔ اس قبل کی بات چیت اس سے زیادہ بیہودی اور دھمکی آمیز تھی جس کا پیش کی جارہی ریکارڈنگ سے کوئی مقابلہ نہیں ہوسکتا‘‘۔ مجھے راست طور پر اس بات کی دھمکی دی گئی ہے مجھے انکاونٹر میں ہلاک کردیاجائے گااور یہاں پر ایک قانون چل رہا ہے کہ جس کسی کے پاس بھی ادھار کارڈ اور رہائش کا صداقت نامہ نہیں ہوگا اس کو گھیر کر مارکردیاجائے گا۔ جس شخص نے خود کو سب انسپکٹر ہونے کا دعوی کیا ہے اس کا موبائیل نمبر7065824289ہے۔

ہاشمی این جی او پہچان کی شراکت دار بانی ہیں‘ جہاں پر سلائی کی تربیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک عورت جو ان کے سنٹر میں سلائی کی تربیت حاصل کررہی ہے ‘ نے ان سے کہاکہ اس کے شوہر کو لاجپت نگر پولیس اسٹیشن میں طلب کیاگیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مذکورہ شخص اٹوڈرائیور محمد محسن عمر38سال اس بات سے ڈر گیا کہ’’ پولیس والے‘‘ بناء کوئی وجہہ بتائے جلد از جلد پولیس اسٹیشن سے رجو ع ہونے کو کہا ہے۔دہلی پولیس کے چیف ترجمان دیپندر پاٹھک نے کہاکہ معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہے۔ افیسر نے کہاکہ ’’پہلے تو اب تک دہلی پولیس کی جانب سے کسی نے بھی اس قسم کا فون کال کرنے کی توثیق کی ہے ۔ اس شکایت پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرتے ہوئے سخت ایکشن لیاجائے گا‘‘۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس ( ساوتھ ایسٹ )رومیل بانیا نے کہاکہ سندیب ملک نام کا پولیس عہدیدار لاجپت نگر پولیس اسٹیشن میں نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT