Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / سماج میں بڑھتے ہوئے تنازعات اور اختلافات پر اظہار تشویش

سماج میں بڑھتے ہوئے تنازعات اور اختلافات پر اظہار تشویش

احترام باہمی ، بھائی چارہ اور پرامن بقائے باہم انسانی نفسیات دیہی میلوں سے فروغ پذیر، ڈانٹن گرامین میلے سے صدرجمہوریہ پرنب مکرجی کا خطاب
ڈانٹن (مغربی بنگال) 19 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) صدرجمہوریہ ہند پرنب مکرجی نے آج سماج میں بڑھتے ہوئے تنازعات اور اختلاف رائے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہاکہ باہمی احترام کو فروغ دینے کی سخت ضرورت ہے۔ اُن کا یہ تبصرہ ملک گیر سطح پر مختلف مسائل پر احتجاجی مظاہروں کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ اُنھوں نے مغربی بنگال کے ضلع میدنا پور غربی کے ایک چھوٹے سے قصبے ڈانٹن میں 28 ویں گرامین میلے کے افتتاحی خطاب میں منظر عام پر آیا۔ اُنھوں نے کہاکہ آج کل جب بھی آپ اخبار بڑھتے ہیں یا ٹی وی دیکھتے ہیں تو مسلسل تشدد کی خبریں سامنے آتی ہیں۔ وہ بین الاقوامی تشدد کی بات نہیں کررہے ہیں لیکن ہمارے ذہنوں میں خود تشدد پیدا ہوگیا ہے۔ ہمارا ضمیر اور ہماری روحیں تشدد سے متاثر ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ روز مرہ کے چھوٹے چھوٹے واقعات کا تذکرہ کررہے ہیں۔ بین الاقوامی تشدد کے واقعات کا نہیں۔ اِس سے قبل بھی تنازعات اور اختلافات رائے ہوا کرتے تھے لیکن صورتحال میں روز بروز شدت پیدا ہوتی جارہی ہے۔ پرنب مکرجی نے کہاکہ پہلے مقامی سطح پر تنازعات کی یکسوئی کرلی جاتی تھی لیکن اب یہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہے ہیں۔ اُنھوں نے اظہار فکرمندی کرتے ہوئے کہاکہ دنیا دن بہ دن زیادہ سے زیادہ پرتشدد ہوتی جارہی ہے۔ صدرجمہوریہ نے کہاکہ یہ انسانی معاشرہ کا عام رجحان نہیں ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے محبت کیا کرتے تھے، ایک دوسرے کو برداشت کیا کرتے تھے مسترد نہیں۔ انسانی نفسیات ایک دوسرے سے محبت کی تعلیم دیتی ہے۔ نفرت پھیلانے کی نہیں۔ موجودہ منظر نامہ میں ایک زیادہ اہم ضرورت ہے کہ باہمی احترام کو فروغ دیا جائے۔ اُنھوں نے کہاکہ ماضی میں لوگ کبھی بھی تشدد کے واقعات سے واقف نہیں ہوتے تھے لیکن اب وہ اِس سے واقف ہورہے ہیں اور اِس کا سہرا ذرائع ابلاغ کے کردار کے سر بندھتا ہے۔

ڈانٹن گرامین میلے کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے پرنب مکرجی نے کہاکہ ایسی دیہی تقریبات بھائی چارہ، خیرسگالی اور پرامن بقائے باہم انسانوں میں پیدا کرتی ہیں۔ آپ اِس قسم کے میلے شہری علاقوں میں نہیں دیکھ سکتے۔ اِن میلوں میں زبردست ہجوم ہوتا ہے۔ اِس قسم کا میلہ دیہی علاقوں کی ابدی حس کا عکاس ہے۔ ایسے میلے شخصی روابط میں سماج کے ہر گوشے کے ساتھ اضافہ کرتے ہیں۔ یہ انتہائی اہم ہے کہ عالمی پس منظر میں ایک دوسرے کا احترام کیا جائے۔ صدرجمہوریہ نے نامور بنگالی مصنف تارا شنکر بنڈوپادھیائے کی تحریر کا آج حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ’’میں جب بھی ایسے میلے میں جاتی ہوں جہاں گیت پیش کئے جاتے ہیں، میں اپنے آپ کو روک نہیں سکتی۔ یہاں پر ہمیشہ روشنی ہوتی ہے‘‘۔ اُنھوں نے کہاکہ ڈانٹن جسے ڈنڈا بھگتی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ پوری کے جگن ناتھ مندر کی رہگزر پر قائم ایک قصبہ ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ چیتنیہ مہا پربھو نے سولہویں صدی میں یہیں جنم لیا تھا۔ اُنھوں نے تہذیب و تمدن اور تاریخ کے کئی دھارے دیکھے تھے۔ ڈانٹن اب بھی اُن کے ادب اور ثقافت سے مالا مال ہے۔ یہ تخلیق کی مسرت ہے۔ گورنر مغربی بنگال کیسری ناتھ ترپاٹھی، سابق چیف منسٹر گریدھر گامانگ، ریاستی صدر بی جے پی دلیپ گھوش، ڈانٹن گرامین میلہ کمیٹی کے صدر الوک نندی بھی اِس تقریب میں شریک تھے۔ صدرجمہوریہ نے ڈانٹن گرامین میلے کی سرگرمیوں کی ستائش کی جو گزشتہ 27 سال سے ڈانٹن اسپورٹس اینڈ کلچرل اسوسی ایشن مائتری آرگنائزیشن کے تعاون سے چلارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT