Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / سماج وادی پارٹی امیدواروں کی فہرست پر ناراضگی ، سیاسی سرگرمیاں تیز

سماج وادی پارٹی امیدواروں کی فہرست پر ناراضگی ، سیاسی سرگرمیاں تیز

چیف منسٹر اکھلیش یادو کا احتجاج، پارٹی کے اندر انتشار کی کیفیت
لکھنؤ 29 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش اسمبلی انتخابات کے لئے سماج وادی پارٹی کے امیدواروں کی فہرست کے اعلان پر اپنے فرزند کی برسر عام سرزنش کرنے کے بعد پارٹی سربراہ ملائم سنگھ یادو کو ناراضگیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ حکمراں کیمپ میں اس تعلق سے انتشار کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ چیف منسٹر اکھلیش یادو نے آج سماج وادی پارٹی سربراہ سے بات کی اور ناموں کے انتخاب پر اپنی ناراضگی سے واقف کروایا۔ اب کھلے طور پر سماج وادی پارٹی میں گروہ بندیاں آشکار ہورہی ہیں۔ ملائم سنگھ یادو نے اترپردیش میں 403 رکنی اسمبلی کے منجملہ 325 کے لئے امیدواروں کا اعلان کیا ہے اور اکھلیش یادو کو چیف منسٹر امیدوار کی حیثیت سے پیش کرنے کے امکان کو بھی مسترد کردیا ہے۔ پارٹی امیدواروں کے ناموں کا اعلان کرنے کے ایک دن بعد چیف منسٹر اکھلیش یادو نے برہمی کا اظہار کیا بظاہر شدید خفا دکھائی دینے والے اکھلیش یادو نے اپنے حامیوں کے ساتھ ان کی 5 کالیداس مارگ رہائش گاہ پر اجلاس منعقد کیا اور بعدازاں اپنے والد اور پارٹی سربراہ ملائم سنگھ یادو سے بات چیت کی۔ انھوں نے والد کو بتایا کہ جن امیدواروں کی فہرست جاری کی گئی ہے اس میں ان کے (اکھلیش) قریبی بااعتماد ساتھیوں کے نام شامل نہیں ہیں۔

آج صبح سے ہی سماج وادی پارٹی حلقوں میں سیاسی سرگرمیاں تیزی ہوگئیں۔ پارٹی قائدین اکھلیش اور ملائم سنگھ یادو کی رہائش گاہوں کے باہر جمع ہونے لگے۔ شیوپال یادو کی رہائش گاہ کے باہر بھی ہجوم دیکھا گیا۔ اکھلیش یادو کی غیر حاضری میں ہی ملائم سنگھ یادو اور ان کے بھائی شیوپال نے 176 موجودہ ارکان اسمبلی کے بشمول امیدواروں کی فہرست جاری کی ہے۔ اس فہرست میں موافق اکھلیش وزراء کے نام شامل نہیں تھے۔ اس کے علاوہ موجودہ 50 ارکان اسمبلی کے نام بھی شامل نہیں کئے گئے۔ 10 وزراء اور شیوپال سمیت کئی قائدین کو چند ماہ قبل ہی اکھلیش یادو نے کابینہ سے برطرف کردیا تھا۔ ان تمام کو ملائم سنگھ یادو نے پارٹی ٹکٹ دیا ہے۔ ان سابق وزراء نے کھلے عام اکھلیش یادو کی برائی کی تھی۔ اس کے عوض انھیں پارٹی ٹکٹ دیا گیا ہے۔ فہرست میں ان سیاستدانوں کے نام شامل نہیں کئے گئے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بلاشبہ منتخب ہوسکتے ہیں۔ مایوس دکھائی دینے والے اکھلیش یادو نے کل رات ہی کہہ دیا تھا کہ وہ احتجاج کریں گے۔ ایسی فہرست پارٹی کی کامیابی کے لئے مناسب نہیں ہے۔ جیسے کو تیسا کارروائی کرتے ہوئے چیف منسٹر اکھلیش نے شیوپال یادو کے دو حامی وزراء سربھی شکلا اور ان کے شوہر سندیپ شکلا کو برطرف کردیا۔ بونڈیل کھنڈ سے کل شام واپسی کے بعد اکھلیش یادو نے پارٹی کا ایک اجلاس طلب کیا اور آئندہ کے لائحہ عمل کو قطعیت دی تھی۔

TOPPOPULARRECENT