Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / سماج وادی پارٹی میں داخلی خلفشار برقرار، اکھلیش کے ارادے اٹل

سماج وادی پارٹی میں داخلی خلفشار برقرار، اکھلیش کے ارادے اٹل

چیف منسٹر یوپی کی 3 نومبر سے رتھ یاترا، پارٹی کی سلور جوبلی تقاریب میں عدم شرکت کا امکان

لکھنؤ 19 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سماج وادی پارٹی میں داخلی خلفشار تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے جیسا کہ چیف منسٹر اکھلیش یادو کے آج اِس فیصلہ کے اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ 3 نومبر سے تنہا ’’سماج وادی وکاس رتھ یاترا‘‘ شروع کریں گے۔ اِس اعلان نے ایسی قیاس آرائی کو جنم دیا ہے کہ اکھلیش ہوسکتا ہے 5 نومبر کو یہاں اپنی پارٹی کی سلور جوبلی تقاریب میں شرکت نہیں کریں گے۔ پارٹی کے ذرائع نے کہاکہ اُنھیں روکنے کی کوئی بھی کوشش پارٹی میں ایک اور بحران کا موجب بن سکتی ہے۔ پارٹی سربراہ ملائم سنگھ یادو کو موسومہ مکتوب میں چیف منسٹر نے کہاکہ تمام سیاسی جماعتوں نے ریاستی اسمبلی کے چناؤ کے لئے اپنی مہم شروع کردی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ’’میں نے 3 اکٹوبر سے یاترا شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن بعض ناگزیر وجوہات کی بناء اُسے منسوخ کرنا پڑا۔ میں اب 3 نومبر سے سماج وادی وکاس رتھ یاترا نکالنا چاہتا ہوں‘‘۔ اکھلیش نے اِس مکتوب کی نقول اسٹیٹ پارٹی کے سربراہ شیوپال یادو اور نیشنل جنرل سکریٹری رام گوپال یادو کو بھی ارسال کئے ہیں۔

اُنھوں نے کہاکہ یاترا کے تفصیلی پروگرام سے ضلع صدور اور پارٹی ورکرس کو عنقریب مطلع کیا جائے گا۔ اِس اعلان نے چہ میگوئیاں پیدا کردیئے ہیں کہ اکھلیش سلور جوبلی تقاریب میں شرکت سے گریز کرسکتے ہیں تاکہ ٹھوس پیغام ظاہر کردیں کہ وہ پارٹی سے بعض نوجوان قائدین کے اخراج پر ناخوش ہیں، جو اِس ایونٹ میں موجود نہیں ہوں گے۔ دن میں قبل ازیں اکھلیش، شیوپال یادو اور ملائم نے پارٹی سربراہ کی قیامگاہ ’’5 وکرامادتیہ مارگ‘‘ پر میٹنگ منعقد کرتے ہوئے انتخابی حکمت عملی پر غور و خوض کیا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اکھلیش نوجوان قائدین کے اخراج کی منسوخی کے اپنے مطالبات پر اٹل ہیں، اِن میں سے بعض ایم ایل سیز ہیں اور ٹکٹوں کی تقسیم میں اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ اکھلیش نے پہلے اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ 3 اکٹوبر سے بس کے ذریعہ یاترا شروع کریں گے۔ اُس وقت ایسا سمجھا جارہا تھا کہ وہ اپنے چچا شیوپال یادو کی مخالفت میں یہ اقدام کرنے جارہے ہیں، جنھیں اُن کی جگہ نیا صدر اسٹیٹ پارٹی بنایا گیا ہے۔ اکھلیش نے اُس وقت پارٹی کے اقدام کی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے شیوپال کے خلاف عملاً محاذ کھول دیا تھا جس نے سماج وادی پارٹی میں داخلی خلفشار کے ساتھ ساتھ سیاسی جھگڑے کی شکل اختیار کرلی تھی۔

TOPPOPULARRECENT