Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / سماج وادی پارٹی ۔ کانگریس اتحاد 300 نشستیں جیتنے کا اہل

سماج وادی پارٹی ۔ کانگریس اتحاد 300 نشستیں جیتنے کا اہل

چیف منسٹر یوپی اکھلیش کا دعویٰ ۔ کانگریس نوٹ بندی کے بعد بی جے پی کی مقبولیت میں گراوٹ کا فائدہ اُٹھانے کوشاں

لکھنو ۔13 ڈسمبر۔(سیاست ڈاٹ کام) اُترپردیش میں سماج وادی پارٹی۔ کانگریس انتخابی اتحاد کے اعلان کے درمیان چیف منسٹر اکھلیش یادو نے آج کہاکہ اگر اس طرح کا سمجھوتہ آنے والے ریاستی اسمبلی چناؤ میں حقیقت بن جاتا ہے تو ایسا اتحاد زائد از 300 نشستیں جتوائے گا ۔ وہ کانگریس کے ساتھ اپنی پارٹی کے اتحاد کے امکانات کے تعلق سے استفسار پر جواب دے رہے تھے ۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ سماج وادی پارٹی والے اس ریاست میں اکثریتی حکومت تشکیل دینے والے ہیں لیکن اگر اس طرح کا اتحاد حقیقت بنتا ہے تو ایسی صورت میں (403 کے منجملہ ) زائد از 300 نشستیں ہم جیت لیں گے ۔ اس ضمن میں قطعی فیصلہ پارٹی کے قومی صدر (ملائم سنگھ یادو) کریں گے ۔ بی جے پی کے خلاف نوٹ بندی کا بہت مضر اثر پڑنے کی توقع رکھتے ہوئے کانگریس نے پس پردہ سماج وادی پارٹی کے ساتھ آئندہ سال کے اُترپردیش اسمبلی انتخابات کے سلسلے میں ماقبل چناؤ اتحاد یا مفاہمت طئے کرانے کی کوششیں تیز کردی ہیں، پارٹی کے ذرائع نے یہ بات بتائی ۔ انھوں نے مزید کہا کہ کانگریس اُترپردیش میں 27 سال قبل برسراقتدار تھی اور وہ اقتدار کی گلیاریوں میں اپنے وجود کا پھر سے احساس دلانے بے چین ہیں۔ شاید اسی لئے کانگریس قائدین 60 تا 70 نشستوں کے درمیان کسی بھی عدد پر اکتفاء کرلیں گے ۔ ان میں ریاستی اسمبلی کے وہ 20 ایم ایل ایز شامل ہیں جو اس وقت کانگریس پارٹی کے نام ہیں۔

گزشتہ اسمبلی چناؤ میں چوتھی پوزیشن تک پچھڑ جانے کے بعد کانگریس قائدین شدت کے ساتھ یہ سوچنے لگے ہیں کہ انتخابی نکتہ نظر سے اس کلیدی ریاست میں پاک مقبوضہ کشمیر کے اندرون 29 سپٹمبر کے سرجیکل حملوں کے تعلق سے نریندر مودی حکومت نے جس طرح عوام کو واقف کروایا ، اُس سے پارٹی کے امکانات ضرور متاثر ہوئے ہوں گے ۔ تاہم وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ نوٹ بندی کے بعد بی جے پی کی مقبولیت میں انحطاط آیا ہے ۔ اکھلیش نے سماج وادی پارٹی میں ٹکٹوں کی تقسیم کے بارے میں تنازعہ کی اہمیت کو گھٹاتے ہوئے کہا کہ ٹکٹوں کے تعلق سے فیصلہ لمحہ آخر تک بدلا جاسکتا ہے ۔ ’’ہم وہی امیدواروں کو انتخابی میدان میں اُتاریں گے جو الیکشن جیت سکتے ہیں۔ میں میری طرف سے تجاویز دوں گا اور صدر پارٹی کو ٹکٹوں کے سلسلے میں ضروری باتوں سے واقف کرواؤں گا‘‘ ۔ غنڈے سے سیاستداں بن جانے والے مختار انصاری کے بھائی اور ایک دیگر مافیا ڈان عتیق احمد کو ٹکٹیں دینے کے تعلق سے مخصوص سوال پرچیف منسٹر نے راست جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ موجودہ حالات میں نوٹ بندی کی وجہ سے ہونے والی مصیبتیں اور پریشان کن صورتحال زیادہ اہم مسئلہ ہے ۔ ایسی اطلاعات کے بارے میں کہ انھوں نے ایک جلسہ میں عتیق احمد کو مبینہ طورپر ڈھکیل دیا تھا ، اکھلیش نے کہا کہ اس طرح کی حرکت میرا شیوہ نہیں یہ میڈیا کی اختراع ہے جو اس قسم سے واقع کو پیش کررہا ہے ۔ ہوسکتا ہے میں نے اُنھیں کچھ دیر بعد اظہار خیال کرنے کے لئے کہا ہوگا ۔ آنے والے دو تین ماہ میں 2017 کے اسمبلی چناؤ کے تعلق سے حکومتیں فیصلہ کرسکتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT