Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / سماج کیلئے خدمات انجام دینے عوام بالخصوص طلبہ کو مشورہ

سماج کیلئے خدمات انجام دینے عوام بالخصوص طلبہ کو مشورہ

کتاب کی رسم اجراء تقریب سے پروفیسر وینو گوپال ریڈی، پروفیسر رامچندرم، ظہیرالدین علی خان، شوکت علی مرزا کا خطاب

حیدرآباد ۔ 22 جولائی (سیاست نیوز) انجینئرس و تھاوٹ بارڈرس انڈیا کی جانب سے یہاں کتاب “Sustainable development- Give Something back to the Society” کی رسم اجراء تقریب منعقد ہوئی، جس میں شرکت کرنے والے مقررین نے عوام بالخصوص طلبہ پر زور دیا کہ وہ سماج کیلئے خدمات انجام دیں اور اس کام کو اپنے مقاصد میں شامل کریں۔ انہوں نے اپنے پیام میں عوام سے سماج کو کچھ واپس دینے کیلئے کہا۔ اس موقع پر مخاطب کرتے ہوئے اس تقریب کے مہمان خصوصی پروفیسر اے وینو گوپال ریڈی، وائس چانسلر جے این ٹی یو حیدرآباد نے کہا کہ اس کتاب کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام بری حالت میں ہے اور بعض طلبہ اور اساتذہ تعلیم میں اچھی طرح سے دلچسپی نہیں لے رہے ہیں اور اس میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیںکررہے ہیں۔ طلبہ محض داخلوں کے حصول کیلئے زائد نصاب سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں اور سرویس کے مقصد سے نہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے این سی سی کی مثال دی۔ سماج کیلئے خدمات انجام دینے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے اس کتاب کی تعریف کی اور کہا کہ یہ آسان انگریزی میں ہے اور اسے تمام لائبریریز میں رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس کتاب کا مطالعہ کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے طلبہ کیلئے 10 تا 15 روز کے پروگرام منعقد کئے جارہے ہیں جس سے انہیں ذمہ دار شہری بنانے میں مدد ہوگی۔ پروفیسر ایس رامچندرم، وائس چانسلر عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد نے اس تقریب سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو محض اس خیال کے ساتھ کالجس کو نہیں آنا چاہئے کہ وہ انجینئرس بن جائے اور پیسہ کمانے کیلئے امریکہ چلے جائیں بلکہ انہیں سماج کی ترقی کیلئے کام کرنا چاہئے اور ان کا یہ مقصد ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ آج تعلیم کو اپنی ترقی کے مقصد تک ہی سمجھ رہے ہیں، جس میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ جناب ظہیرالدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر سیاست نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج یونیورسٹیز کی حالت اچھی نہیں ہے اور تعلیمی نظام طلبہ کو ذمہ دار شہری بنانے کے مقصد کو پورا نہیں کرپا رہا ہے۔ ایسا معلوم ہورہا ہیکہ طلبہ کا مقصد صرف اپنی ترقی ہوکر رہ گیا ہے اس رجحان میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب بہت اچھی ہے جسے سب کو پڑھنا چاہئے تاہم یہ کتاب قدرے مہنگی ہے۔ اس لئے انہوں نے پبلشرس کو مشورہ دیا کہ وہ اس کتاب کو قابل دسترس بنایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اسے پڑھ سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایس سی، ایس ٹی، اقلیتوں کیلئے بیرون ملک حصول تعلیم کیلئے حکومت کی اسکیمات ہیں اور حکومت نے اس سلسلہ میں 100 کروڑ روپئے کے پلانس بنائے ہیں لیکن چند طلبہ ہی اس سے استفادہ کرپائے ہیں۔ انہوں نے عہدیداروں پر زور دیا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اس طرح کی اسکیم سے زیادہ سے زیادہ طلبہ استفادہ کریں۔ ڈاکٹر شوکت علی مرزا، ڈائرکٹر انجینئرس و تھاوٹ بارڈرس و منیجنگ ٹرسٹی ہیلپنگ ہینڈ نے بھی مخاطب کیا۔ قبل ازیں مسٹر بھارت مہاراج چیرمین ای ایم بی انڈیا نے کہا کہ یہ کتاب طلبہ اور ٹیچرس اور دوسروں کیلئے مفید ثابت ہوگی۔ اس کتاب کی قیمت 5 ڈالر ہے اور یہ Amazon پر دستیاب ہے۔

TOPPOPULARRECENT