Thursday , October 19 2017
Home / ادبی ڈائری / سمینار دکنی اردو : لسانی و ادبی جہات رپورتاژ

سمینار دکنی اردو : لسانی و ادبی جہات رپورتاژ

ڈاکٹر آمنہ آفرین
راجا دھن راج گیرجی یادگار دو روزہ دکنی سمینار (4 اور 5 نومبر 2015) بعنوان ’’دکنی اردو : لسانی و ادبی جہات‘‘ اسکول آف ہیومانیٹیز اور شعبہ اردو کی جانب سے یونیورسٹی آف حیدرآباد میں منعقد ہوا ۔ سمینار کا افتتاح 4 نومبر کی صبح 11 بجے اسکول آف ہیومانیٹیز آڈیٹوریم میں انچارج وائس چانسلر پروفیسر وپن شریواستو کے ہاتھوں عمل میں آیا ۔ سمینار کے کوآرڈینیٹر اور صدر شعبہ اردو پروفیسر مظفر شہ میری نے مہمانوں کا استقبال کیا اور سمینار کے اغراض و مقاصد بیان کئے ۔
یونیورسٹی آف حیدرآباد کے انچارج وائس چانسلر پروفیسر وپن شریواستو کا تعارف کراتے ہوئے پروفیسر شہ میری نے کہا کہ وہ فزکس کے پروفیسر ہیں اور تفہیم معنی کی سائنس پر تحقیق کررہے ہیں ۔ اس طرح وہ ادب اور سائنس کا خوبصورت سنگم ہیں ۔ آپ کے بعد پروفیسر م ن سعید (سابق صدر شعبہ اردو بنگلور یونیورسٹی ، سابق چیرمین ، کرناٹک اردو اکیڈیمی ، بنگلور) کی باری آئی جو اس سمینار کا کلیدی خطبہ پیش کرنے کے لئے آئے ہوئے تھے ۔ ان کے متعلق فرمایا گیا کہ آپ نے کرناٹک اردو اکیڈیمی کے چیرمین کی حیثیت سے کئی قابل تقلید اور قابل تحسین کارنامے انجام دیئے ہیں ۔ خاص طور پر ان کی اس مساعی کی تعریف کی کہ پروفیسر موصوف نے نوجوانوں میں تخلیقی صلاحیتیں پیدا کرنے کی عملی طور پر کوشش کی ۔ وہ دکنی سے جذباتی لگاؤ اور گہری دلچسپی رکھتے ہیں ۔ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز اور ہاشمی بیجاپوری وغیرہ پر ان کے کام بڑی اہمیت کے حامل ہیں ۔ حال ہی میں انھوں نے قطب مشتری کو از سر نو مرتب کیا ہے ۔ علاوہ ازیں ، آپ مستقبل میں ایک ایسی ٹیم بنانا چاہتے ہیں جو دکنی پر کام کرے اور اس کام کو آگے بڑھائے ۔
مہمانوں کے تعارف کے بعد پروفیسر وپن شریواستو نے شمع جلا کر سمینار کا افتتاح کیا اور اپنے افکار عالیہ سے سامعین کو مستفیض فرمایا ۔ آپ کے بعد پروفیسر ریتوپرن نے خطاب کیا اور بیرونی ممالک میں اردو کی صورتحال پر روشنی ڈالی اور آخر میں صدر اجلاس پروفیسر پنچانن موہنتی نے اپنے صدارتی کلمات پیش کئے ۔ اس اجلاس کا شکریہ ڈاکٹر محمد کاشف نے ادا کیا اور چائے کے وقفے کا اعلان کیا ۔ چائے کے وقفے کے بعد افتتاحی اجلاس کے دوسرے حصے کا آغاز پروفیسر ریتوپرن  کی صدارت میں ہوا ۔ آپ نے بنا کسی تاخیر کے پروفیسر م ن سعید کو کلیدی خطبے کے لئے دعوت دی۔

پروفیسر م ن سعید نے سب سے پہلے سمینار کے کوآرڈینیٹر پروفیسر شہ میری سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا ۔ دکنی ادب کے تعلق سے کہا کہ برسوں سے اردو ادب سے وابستہ رہنے کے باوجود جب بھی دکنی ادب کا نام ان کی زبان پر آتا ہے تو ان کی زبان اس کے بوسے لینے لگتی ہے اور ان کی روح محظوظ و مسرور ہو اٹھتی ہے ۔ دکنی زبان و ادب پر سمینار کوئی نئی بات نہیں ہے تاہم اس سے پہلے جو سمینار ہوئے ہیں ان کا حال یہ تھا کہ دکنی ادب کو جھاڑ پونچھ کر محراب میں سجا دیا گیا ۔ کسی بھی علم میں جب تک پیش رفت اور اضافہ نہیں ہوتا اس کی حیثیت مشکوک رہتی ہے ۔ چنانچہ اس سمینار پر اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر سعید نے کہا کہ اس میں پیش رفت کی آہٹ سنائی دے رہی ہے ۔ پروفیسر موصوف نے اس صدی کو دکنی ادب کی تحقیق کی صدی کہا کیوں کہ ٹھیک ایک صدی پہلے یہی زمانہ تھا جب دکنی ادب کی دریافت کا عمل شروع ہوا تھا ۔ اب ایک صدی کے بعد دکنی ادب اپنے بے خواب کیواڑ کھولے ہیں اور اس کی بازیافت کا سلسلہ از سر نو شروع ہورہا ہے ۔ یہ سمینار اس سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔
ظہرانے کے بعد سمینار کے پہلے اجلاس کا آغاز ہوا جس کی صدارت پروفیسر فاطمہ پروین نے کی  ۔ اس اجلاس میں جملہ چھ مقالے پڑھے گئے ۔ مقالہ نگاروں کے نام اور ان کے عنوانات اس طرح ہیں ۔ علیم اللہ حسینی نے ’’بیجاپور کی دکنی مثنویوں میں اخلاقیات کا تصور‘‘ ۔ پروفیسر محمد علی اثر نے ’’دکنی اردو شاعری میں قرآنی تلمیحات‘‘ (ہلال اعظمی ریسرچ اسکالر نے یہ مقالہ پیش کیا)  ۔ پروفیسر اقبال النساء نے ’’وجہی کا تصور اخلاق‘‘ ۔ ڈاکٹر غضنفر اقبال نے ’’دکنی شاعری میں وحدت الوجود کا شاعرانہ اظہار‘‘ ۔ ڈاکٹر نشا احمد نے ’’دکنی مثنویوں میں تصور اخلاق‘‘ اور پروفیسر رضوانہ معین نے ’’سب رس میں وجہی کے مذہبی تصورات‘‘ پیش کیا ۔ پروفیسر فاطمہ پروین نے مختصر لیکن جامع انداز میں صدارتی خطبہ دیا ۔ آپ نے تمام مقالہ نگاروں کی حوصلہ افزائی اور اس سمینار کے تعلق سے اپنے تاثرات کو پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ اب نئی نسل بھی دکنی ادب میں دلچسپی لے رہی ہے ۔ وہ نہ صرف اس دور کے ادب کو پڑھ رہی ہے بلکہ اس پر اپنے خیالات کا اظہار بھی کررہی ہے ۔ یہ دکنی ادب کی ترقی کی نئی شروعات ہے ۔

دوسرا اجلاس دوپہر چار بجے شروع ہوا ، جس کی صدارت پروفیسر نسیم الدین فریس نے کی ۔ اس اجلاس میں پانچ مقالے پڑھے گئے ۔ پہلا مقالہ ڈاکٹر امین اللہ نے ’’دکنی رباعیوں کا تنقیدی جائزہ‘‘ ڈاکٹر حمیرا سعید نے ’’دکنی ادب میں حکایات کی روایت‘‘ ڈاکٹر بدرالنساء نے ’’علی نامہ میں تشبیہات کی ندرت و تازگی‘‘  نیاز الدین صابری نے ’’دکنی زبان میں حرف ربط کا استعمال‘‘ اور شیخ عبدالغنی نے ’’دکنی اردو میں سنسکرت  کی قواعد کا استعمال‘‘ پر مقالے پڑھے ۔
تیسرا اجلاس 5 نومبر کی صبح ساڑھے دس بجے شروع ہوا جس کی صدارت پروفیسر ستار ساحر (صدر شعبہ اردو ایس وی یونیورسٹی ، تروپتی) کے ذمے تھی ۔ اس اجلاس میں چار مقالہ پڑھے گئے ۔ پہلا مقالہ ڈاکٹر مقبول فاروقی بعنوان ’’دکنی اردو کا عروضی نظام‘‘ تھا جسے شعبے کے ریسرچ اسکالر آفتاب احمد نے پڑھا ۔ ڈاکٹر عبدالرب منظر نے ’’دکنی اردو کی ایک لسانی جہت‘‘ ڈاکٹر محمد کاشف نے ’’اردو نثر کی تعمیر و تشکیل میں امین الدین علی اعلی کا حصہ‘‘ اور ڈاکٹر قاضی حبیب نے ’’باقر آگاہ کی شاعری میں عشق کا تصور‘‘ پر اپنے مقالے پیش کئے ۔ پروفیسر ستار ساحر نے اپنے صدارتی کلمات میں تمام مقالہ نگاروں کو مبارکباد پیش کی ۔ اس کے بعد ڈاکٹر محمد کاشف نے تمام مقالہ نگاروں اور اس اجلاس کے صدر کی خدمت میں ہدیہ تشکر پیش کیا ۔
چائے کے وقفے کے بعد سمینار کے چوتھے اجلاس کا آغاز ، پروفیسر فیروز احمد کی صدارت میں ہوا ۔ اس اجلاس میں پانچ مقالے پڑھے گئے ۔ فریدہ تبسم نے ’’ولی کی غزل میں محاوروں کا تخلیقی استعمال‘‘ ڈاکٹر کوثر نے ’’دکنی ادب اور فن طب‘‘ ڈاکٹر عرشیہ جبین نے ’’سراج اورنگ آبادی کی غزل کے نادر تشبیہات و استعارات‘‘ ، ڈاکٹر شیخ سلیم نے ’’محاسن تذکرہ شعرائے دکن‘‘ اور ڈاکٹر فضل اللہ مکرم نے ’’دکنی ادب کی تقابلی تنقید‘‘ کے عنوان پر اپنے مقالے پیش کئے ۔ پروفیسر فیروز احمد نے تمام مقالات پر اپنے تاثرات کا اظہار کیا ، اور ولی کو دکن اور شمال کا شاعر قرار دیا اور فن طب پر جو مقالہ پیش کیا گیا اس پر کہا کہ شاید ہی کوئی مرض ہوگا جو دکن کے قدیم اطباء نے اس کا علاج نہ بتایا ہو ۔ انھوں نے سراج اورنگ آبادی کو ولی کے بعد سب سے اہم شاعر قرار دیتے ہوئے یہ خیال ظاہر کیا کہ ان کی تشبیہات میں بڑی ندرت پائی جاتی ہے ۔

پانچواں اجلاس ظہرانے کے بعد شروع ہوا جس کی صدارت پروفیسر اشرف رفیع نے کی ۔ یہ اس سمینار کا سب سے زیادہ طویل اجلاس تھا جس میں اٹھ مقالے پڑھے گئے ۔ پہلا مقالہ ڈاکٹر رفیعہ بیگم نے ’’غواصی کی مثنوی ، مینا ستونتی میں اخلاقی عناصر‘‘ ڈاکٹر رئیس فاطمہ نے ’’دکنی ادب میں عورت کا تصور‘‘ ڈاکٹر رہتاش شرما نے ’’دکنی اور مراٹھی کا لسانی رشتہ‘‘ پروفیسر فیروز احمد نے ’’دکنی دکن سے باہر‘‘ پروفیسر ستار ساحر نے ’’دکنی مثنویوں کا وضاحتی اشاریہ‘‘ پروفیسر فاطمہ پروین نے ’’اردو مثنویوں میں شاہی محلوں کی تصویر کشی‘‘ پروفیسر قاسم علی خان نے ’’سلیمان خطیب کی شاعری کا فنی جائزہ‘‘ پروفیسر نسیم الدین فریس نے ’’دکنی شعراء کا تصور شعر‘‘ اور عطا اللہ خان سنجری نے ’’دکنی ادب اور وکی پیڈیا‘‘ پر اپنا مقالہ پیش کیا  ۔اپنے صدارتی خطبے میں پروفیسر اشرف رفیع نے مقالات پر اظہار خیال کیا اور کچھ مقالہ نگاروں کو اپنے مفید مشوروں سے نوازا ۔ پروفیسر نسیم الدین فریس کو انھوں نے دکنی ادب پر دسترس رکھنے والے اہم اسکالر کا درجہ دیا ۔ ڈاکٹر عبدالرب منظر نے اس اجلاس کے مقالہ نگاروں اور صدر کا شکریہ ادا کیا ۔
اختتامی اجلاس شام 6 بجے شروع ہوا ۔ عالی جناب زاہد علی خان (ایڈیٹر روزنامہ سیاست) اس اجلاس میں مہمان خصوصی کے طور پر مدعو تھے ۔ آپ کے علاوہ شہ نشین پر راجکماری اندرا دیوی دھن راج گیر صاحبہ ۔ پروفیسر م ن سعید ، پروفیسر اشرف رفیع ، پروفیسر نسیم الدین فریس اور سمینار کے کوآرڈینیٹر پروفیسر مظفر شہ میری موجود تھے ۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالروں کی 4 کتابوں کی رسم اجرائی عمل میں آئی ۔ سب سے پہلے ڈاکٹر آمنہ آفرین (پوسٹ ڈاکٹورل فیلو ، شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدرآباد) کی کتاب ’’اردو میں تجریدی افسانہ‘‘ ۔ زاہد علی خان صاحب   ، واجدہ بیگم کی کتاب ’’قرۃ العین حیدر کی رپورتاژ نگاری‘‘ پرفیسر اشرف رفیع ، رئیسہ ناز کی کتاب ’’قاضی مشتاق احمد بحیثیت افسانہ نگار‘‘ محترمہ راجکماری اندرا دیوی دھن راج گیرجی اور محمد انورالدین کی کتاب ’’اردو کی آسان قواعد‘‘ کی رسم اجراء پروفیسر م ن سعید صاحب کے ہاتھوں عمل میں آئی ۔
جناب زاہد علی خان نے راجکماری اندرا دیوی دھن راج گیر صاحبہ کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے اس اہم سمینار میں ان کو مدعو کیا ۔ آپ نے ادارہ ادبیات اردو میں موجود مخطوطات کا ذکر کیا اور انہیں ڈیجیٹل کرنے کی ذمہ داری قبول کی ۔ پروفیسر م ن سعید نے سمینار کے اختتام پر کہا کہ دکنی ادب کو اس طرح کے سمیناروں کی ضرورت ہے اور ہمیں دکنی ادب کی بازیافت کا کام ابھی سے شروع کردینا چاہئے کیوں کہ کام بہت زیادہ ہے ۔ اس کام کے لئے دکن والوں کو آگے آنا چاہئے ، یہ کام اہل دکن سر انجام دیں تو مناسب ہوگا ، اہل شمال کو اس کام کی زحمت نہیں دی جاسکتی ۔ سمینار کی کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دکن کی تنقیدی تاریخ کے خصوص میں اس سمینار کی حیثیت سنگ میل کی ہے ۔
پروفیسر مظفر شہ میری (سمینار کوآرڈینیٹر) نے سمینار کے اختتام پر بہت ہی مختصر لیکن جامع انداز میں اپنے جذبات کا اظہار کیا ۔ تمام مقالہ نگاروں کا شکریہ ادا کرنے کے باوصف ان سے گذارش کی کہ وہ اپنے مقالوں پر نظرثانی فرما کر جلد از جلد روانہ فرمائیں تاکہ انھیں کتابی صورت میں شائع کیاجاسکے ۔ پروفیسر شہ میری نے ان کلمات پر اپنی بات کو ختم کیا۔’’سونامی آرہی ہے ، زلزلے آرہے ہیں ، تاریخ ہمارے ہاتھوں سے نکلی جارہی ہے ۔ اگر دکنی سرمائے کو ہم محفوظ نہ کرپائیں گے تو کوئی اس کا تحفظ نہیں کرے گا۔ یاد رکھئے ! جس طرح ہماری پلکیں ہماری آنکھوں کی حفاظت کرتی ہیں اسی طرح ہمیں اپنی دکنی ادب کی حفاظت کرنی ہے‘‘۔
اختتامی اجلاس کے بعد چائے کا وقفہ تھا ، جس کے بعد شعبے کے طلبہ و طالبات نے دکنی ڈراما ’’گوڑکی مکھیاں‘‘ پیش کیا ۔ اس ڈرامے کو ڈاکٹر کریم رومانی مرحوم نے لکھا تھا اور اسے پروفیسر قاسم علی خان نے پیش کیا ۔ اس کامیاب ڈرامے کے بعد سمینار کے کوآرڈینیٹر پروفیسر مظفر شہ میری نے ایک بار پھر شکریہ ادا کیا  ۔

TOPPOPULARRECENT