Saturday , September 23 2017
Home / کھیل کی خبریں / سندھو کو تاریخی سلور ،دیگر ہندوستانیوں سے مایوسی

سندھو کو تاریخی سلور ،دیگر ہندوستانیوں سے مایوسی

ریو ڈی جنیرو ، 20 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) پی وی سندھو اولمپک گیمز میں انڈیا کی اولین خاتون سلور میڈل ونر بن گئیں جب وہ ریو گیمز کامپٹیشن کے 14 ویں روز بیڈمنٹن سنگلز میں گولڈ کیلئے سنسنی خیز مقابلے میں اسپین کی ورلڈ چمپئن کیرولینا مارین کے خلاف دوسری بہترین کھلاڑی ثابت ہوئیں۔ تاہم ، اس کے بعد ہندوستان کو اتھلیٹکس ٹریک پر اور پھر مینس ریسلنگ میں بھی بدستور ناکامیوں کا سامنا ہوا۔ ریسلنگ میں سندیپ تومر فرسٹ راؤنڈ میں خارج ہوگئے جبکہ پہلے ہی میڈل کی امید نرسنگ یادو کو وطن میں جون کی ڈوپنگ خلاف ورزی کی پاداش میں ان پر چار سالہ امتناع عائد کردینے کی سی اے ایس رولنگ کے پیش نظر انھیں دنگل میں اُتارے بغیر گیمز ولیج سے نکالے جاچکے ہیں۔ سندھو کیلئے دل شکن معاملہ ہوا جن کا اولمپکس تاریخ میں انڈیا کیلئے دوسرا انفرادی گولڈ میڈل جیتنے کا خواب ٹوٹ گیا جبکہ فائنل میں عالمی نمبر 1 کے خلاف بھرپور مسابقت کے بعد انھیں سلور میڈل پر اکتفا کرنا پڑا۔ 21 سالہ حیدرآبادی لڑکی کی شوٹر ابھینو بندرا کے آٹھ سال پرانے کارنامہ کی تقلید کرنے اور اولمپک چمپینس کی فہرست میں اُن کے ساتھ شامل ہونے کی کوشش آخرکار ناکام ہوئی۔ عالمی نمبر 10 ہندوستانی شٹلر کو مارین کے پیدا کردہ شدید دباؤ میں 21-19، 12-21، 15-21 سے شکست ہوگئی۔ سندھو کے قابل تعریف مظاہرے سے کہیں دور تومر دو مرتبہ کے ورلڈ چمپئن روس کے وکٹر لیبیدیف کے مقابل 57kg کیٹگری میں 3-7 سے ہارے اور پھر مینس فری اسٹائل ریسلنگ سے خارج ہی ہوگئے جب وکٹر کو اُس کے اگلے مقابلے میں ایران کے سبزالی حسن رحیمی کے خلاف 1-6 سے ناکامی ہوئی۔ اگر وکٹر نے فائنل تک رسائی حاصل کرلی ہوتی تب تومر کو نیا موقع میسر آتا کہ اضافی آزمائشی مقابلے کے ذریعہ برونز کیلئے لڑے، لیکن ایسا ہوا نہیں اور وہ ایونٹ سے خارج ہوگئے۔ اتھلیٹکس میں ہندوستانیوں کا بدستور برا حال رہا حالانکہ ان کی اکثریت کوالیفکیشن کے عمل سے گزرتے ہوئے اس برازیلی شہر کی فلائٹ میں سوار ہوئے تھے۔ 4x400m ریلے میں ہدوستانی خواتین نے ساتویں مقام پر اختتام کیا جبکہ مینس ٹیم بیٹن کی تبدیلی میں غلطی کے سبب نااہل قرار دے دی گئی۔

TOPPOPULARRECENT