Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / سنٹرل یونیورسٹی آف حیدرآباد اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں مستقل وائس چانسلر کے عدم تقررات

سنٹرل یونیورسٹی آف حیدرآباد اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں مستقل وائس چانسلر کے عدم تقررات

طلبہ کئی مسائل کا شکار، تقررات التواء کا شکار، مانو میں عہدیداروں کی من مانی، فائیلوں کی الٹ پھیر
حیدرآباد۔/5ستمبر، ( سیاست نیوز) حیدرآباد میں واقع دو سنٹرل یونیورسٹیز میں گزشتہ کئی ماہ سے مستقل وائس چانسلر کی عدم موجودگی کے سبب ان اداروں کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے مستقل وائس چانسلر کے تقرر کے سلسلہ میں وزارت فروغ انسانی وسائل کی جانب سے کوئی پیشرفت نہ ہونے کے باعث یونیورسٹیز کے طلبہ اور اسٹاف میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ یورسٹی آف حیدرآباد کے وائس چانسلر نے گزشتہ سال شخصی وجوہات کی بناء پر عہدہ سے استعفی دے دیا تھا جبکہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر ماہ مئی کے دوران مدت کی تکمیل کے بعد سبکدوش ہوگئے۔ بتایا جاتا ہے کہ مستقل وائس چانسلرس کی عدم موجودگی کے باعث دونوں یونیورسٹیز میں کئی پالیسی فیصلے لینے میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔ وزارت فروغ انسانی وسائل کی جانب سے نئے وائس چانسلر کے تقرر کے سلسلہ میں بارہا تیقن دیا گیا لیکن کسی نہ کسی دشواری کا بہانہ بناکر تقررات میں تاخیر کی جارہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں یونیورسٹیز میں سب سے اہم مسئلہ مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یونیورسٹی آف حیدرآباد میں 150اور مولانا آزاد یونیورسٹی میں تقریباً 50اہم جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ ان پر تقررات کیلئے مستقل وائس چانسلر کی موجودگی ضروری ہے۔ اگرچہ وزارت فروغ انسانی وسائل نے دونوں یونیورسٹی میں مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے سلسلہ میں اعلامیہ کی اجرائی کی اجازت دے دی تاہم درخواستوں کی جانچ اور تقررات کے عمل کو وائس چانسلر کی آمد کے بعد مکمل کیا جائے گا۔ یونیورسٹی آف حیدرآباد کے نئے وائس چانسلر کے عہدہ کیلئے کئی ماہ قبل درخواستیں طلب کی گئی تھیں۔ اسی طرح مولانا آزاد اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدہ کیلئے بھی درخواستیں طلب کی گئیں۔ وزارت فروغ انسانی وسائل کی اسکریننگ کمیٹی نے اردو یونیورسٹی کیلئے تین ناموں کو قطعیت دی ہے تاہم ان میں سے کسی ایک کے انتخاب پر صدر جمہوریہ کی مہر باقی ہے۔ دونوں یونیورسٹیز کے طلبہ کا کہنا ہے کہ مستقل وائس چانسلرس کی عدم موجودگی کے نتیجہ میں کئی اہم مسائل زیر التواء ہیں۔ اسی دوران مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی گزشتہ چار ماہ سے عدم موجودگی کا موجودہ حکام فائدہ اٹھارہے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ کئی ایسے فیصلے لئے گئے جس کا انچارج وائس چانسلر کو اختیار نہیں۔ یونیورسٹی کے قیام کے بعد سے اگرچہ مختلف بے قاعدگیوں کی شکایات ملیں تاہم گزشتہ پانچ برسوں کے دوران تقررات اور دیگر اُمور کے سلسلے میں سنگین بے قاعدگیاں منظر عام پر آئی ہیں۔ مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل نے بعض معاملات کی جانچ کی ہدایت دی ہے جبکہ یونیورسٹی نے اندرونی طور پر دو کمیٹیاں تشکیل دی تاکہ  ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کے تقررات کی جانچ کی جاسکے۔ صحافت میں یونیورسٹی کی بے قاعدگیوں کے انکشافات کے بعد اگرچہ یہ کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جس کا اعتراف انچارج وائس چانسلر خواجہ شاہد نے بھی کیا تاہم آج تک کمیٹیوں کی تفصیلات برسر عام نہیں کی گئیں۔ خود یونیورسٹی کے ملازمین اور عہدیدار کمیٹیوں کے تقرر اور اس میں شامل افراد سے لاعلم ہیں۔ طلبہ نے شکایت کی کہ بے قاعدگیوں کو چھپانے کیلئے کمیٹیوں کا اعلان کیا گیا لیکن ان کی کارکردگی سے کوئی واقف نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سابق وائس چانسلر کے حامیوں کا گروہ یونیورسٹی پر ابھی بھی اپنا کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے اور گزشتہ پانچ برسوں کی غلطیوں کی اصلاح کیلئے فائیلوں میں ضروری تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔اسی دوران یونیورسٹی کے چانسلر ظفر سریش والا نے بتایا کہ سرچ کمیٹی نے وائس چانسلر کیلئے تین ناموں کی سفارش کی ہے اور ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے یونیورسٹی کیلئے 205کروڑ روپئے کے بجٹ کو منظوری دی ہے اور بجٹ کے خرچ کیلئے جلد ہی مستقل وائس چانسلر کا تقرر کردیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT