Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / سنگارینی کالریز ، تلنگانہ کے تاج میں ہیرے کے مترادف

سنگارینی کالریز ، تلنگانہ کے تاج میں ہیرے کے مترادف

تحریک تلنگانہ میں ملازمین کے رول کی ستائش ، اسمبلی میں چیف منسٹر کے سی آر کا خطاب

حیدرآباد۔/5جنوری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ سنگارینی کالریز تلنگانہ کے تاج میں ہیرے کی طرح ہے اور گذشتہ ڈھائی برس میں ٹی آر ایس حکومت نے نہ صرف کمپنی کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں اہم رول ادا کیا بلکہ ورکرس کی بھلائی کیلئے بھی کئی قدم اٹھائے گئے۔ تلنگانہ اسمبلی میں سنگارینی کالریز پر مختصر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے چیف منسٹر نے متحدہ آندھرا پردیش اور تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد کمپنی کی کارکردگی کے بارے میں تفصیلی بیان دیا۔ چیف منسٹر نے تلنگانہ تحریک میں سنگارینی کالریز کے ورکرس کے رول کو ناقابل فراموش قرارد یا اور کہا کہ حکومت نے ملازمین کو منافع میں حصہ دار بنایا ہے جس کی سابق میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ سنگارینی کالریز کے تحت اضلاع کمرم بھیم، آصف آباد، منچریال، پیداپلی، ڈاکٹر جئے شنکر بھوپال پلی، بھدرادری، کتہ گوڑم اور کھمم میں ’ سیاہ سونے ‘ کے ذخائیر موجود ہیں۔ تلنگانہ میں 10528 ملین ٹن کوئلے کے ذخائر موجود ہیں اور ابھی تک 1249 ملین ٹن کوئلہ حاصل کیا گیا۔ اس طرح مزید 100 برس تک کوئلہ کی کانکنی کو جاری رکھا جاسکتا ہے۔ سنگارینی کے ملازمین پُر خطر اور ماحولیات کے برخلاف حالات میں کام کرتے ہوئے کانکنی کو انجام دے رہے ہیں۔ چیف منسٹر نے سنگارینی ورکرس کی خدمات کو سرحدوں کی حفاظت پر متعین فوجی جوانوں سے تعبیر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی ہند کی سب سے بڑی کمپنی سنگارینی کرناٹک، تاملناڈو، مہاراشٹرا اور آندھرا پردیش کی تھرمل توانائی کی ضرورتوں کی تکمیل کررہی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ سنگارینی 46 کانیں چلارہی ہے جن میں 30 زیر زمین اور 16 اوپن کاسٹ کانیں ہیں۔ سنگارینی کالریز کے ملازمین کی تعداد 56866 ہے جن میں 34764 یعنی 61 فیصد ملازمین زیر زمین کانوں میں جبکہ 10427 یعنی 18 فیصد ملازمین اوپن کاسٹ کانوں میں کام کررہے ہیں۔ 2015-16 میں کوئلہ کی پیداوار 600 لاکھ ٹن تھی جس میں اوپن کاسٹ مائننگ سے 497 لاکھ ٹن کوئلہ حاصل کیا گیا جبکہ زیر زمین کانوں سے 106 لاکھ ٹن کوئلہ حاصل ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ زیر زمین کانوں سے حاصل ہونے والے فی ٹن کوئلے پر 4118 روپئے کا خرچ آتا ہے جبکہ اس کی قیمت فروخت 2360 روپئے فی ٹن ہے جس سے فی ٹن 1758 روپئے کا نقصان ہورہا ہے۔ اس کے برخلاف اوپن کاسٹ مائننگ سے پیدا ہونے والے کوئلے کی لاگت فی ٹن 1204 روپئے ہے اور اس کی قیمت فروخت 2008 فی ٹن ہے جس سے فی ٹن 804 روپئے کا منافع حاصل ہورہا ہے۔ 2015-16 میں زیر زمین کانوں سے 1869 کروڑ کا خسارہ ہوا۔ جبکہ اوپن کاسٹ کانوں سے 3998 کروڑ کا فائدہ ہوا۔ گذشتہ 6 برسوں میں زیر زمین کانوں سے ہوئے نقصانات کا تخمینہ 8198 کروڑ کیا گیا ہے جبکہ اوپن کاسٹ سے اس مدت میں 12469 کروڑ کا فائدہ ہوا۔ اس طرح زیر زمین کانوں سے ہونے والے نقصانات کی اوپن کاسٹ مائننگ کے فائدہ سے پابجائی کی جارہی ہے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ زیر زمین کانوں سے ہونے والے پیداواری نقصانات کو کم کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ پانچ برسوں 2009-14 کمپنی نے 3 فیصد ترقی کی جبکہ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد 15فیصد کی ترقی ریکارڈ کی گئی۔ حکومت کی جانب سے ورکرس کو اعتماد میں لینے کے باعث مثبت نتائج برآمد ہوئے جس کا فائدہ کمپنی کو ہوا۔ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد 2015-16 میں سنگارینی کالریز کو 1066 کروڑ کا فائدہ ہوا جبکہ گزشتہ پانچ برسوں میں یہ صرف 400 کروڑ تھا۔ حکومت نے ورکرس کی حوصلہ افزائی کیلئے منافع کا 23 فیصد یعنی 245کروڑ روپئے ملازمین میں تقسیم کردیا ہے جو کمپنی کی تاریخ میں اب تک کا سب سے زیادہ ادا کیا جانے والا بونس ہے۔ کوئی اور عوامی شعبہ کی کمپنی بشمول کول انڈیا نے بھی اس قدر منافع تقسیم نہیں کیا۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ ہر ملازم کو 54 ہزار روپئے کے حساب سے 303 کروڑ روپئے دیوالی بونس کے طور پر ادا کئے گئے۔ نومبر 2016 ء میں دیوالی بونس اور آمدنی میں حصہ داری کے تحت ہر ملازم کو ایک تا سوا لاکھ روپئے ادا کئے گئے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ سنگارینی کالریز اپنے کاروبار کو دیگر ریاستوں کے علاوہ بیرون ملک توسیع دینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ سنگارینی کے عہدیداروں نے آسٹریلیا، امریکہ، ساؤتھ آفریقہ، انڈو نیشیا، فرانس، انگلینڈ اور کنیڈا کا دورہ کرتے ہوئے کاروبار میں توسیع کے امکانات کا جائزہ لیا۔ دنیا بھر کی 13 کمپنیوں نے کانکنی کے شعبہ میں سنگارینی کے ساتھ مل کر کام کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے 1200 میگا واٹ کا تھرمل پاور پلانٹ جئے پور میں قائم کیا جارہا ہے جس کا آغاز 7 اگسٹ کو وزیر اعظم نے کیا۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ ملازمین کو تلنگانہ تحریک کے دوران کی گئی عام ہڑتال کی مدت کی تنخواہ ادا کی گئی۔ اس کے علاوہ بونس اور ایکس گریشیا کی رقم میں اضافہ کیا گیا۔ رضاکارانہ سبکدوشی کی صورت میں کسی بھی فرد خاندان کو ملازمت کی اسکیم کا احیاء عمل میں آیا ہے۔ حکومت کے ان اقدامات سے ملازمین کے اعتماد کو جیتنے میں مدد ملی ہے۔

TOPPOPULARRECENT