Saturday , September 23 2017
Home / کھیل کی خبریں / سنگاکارا کے آخری ٹسٹ کا آج آغاز، ہندوستان کامیابی کا خواہاں

سنگاکارا کے آخری ٹسٹ کا آج آغاز، ہندوستان کامیابی کا خواہاں

روہت کے مقام پر چیتیشور پجارا کی شمولیت کا امکان

کولمبو 19 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) پہلے ٹسٹ میں غیر متوقع شکست برداشت کرنے کے بعد ہندوستانی ٹیم سری لنکا کے خلاف کل یہاں شروع ہونے والے دوسرے ٹسٹ سے قبل اپنی خامیوں پر قابو پاتے ہوئے سیریز میں واپسی کے لئے کوشاں ہے۔ تو دوسری جانب سری لنکائی ٹیم اپنے سابق کپتان اور سینئر بیٹسمین کمارا سنگاکارا کے آخری ٹسٹ کو یادگار بناتے ہوئے سیریز پر قبضہ کی خواہاں ہے۔ پہلے ٹسٹ میں حالانکہ گال کے میدان میں بیشتر وقت تک ہندوستانی ٹیم بہتر موقف میں تھی لیکن جس دن ٹیم کو بظاہر ایک آسان نشانہ کا تعاقب کرنا تھا، ٹیم کے کھلاڑی یکے بعد دیگرے تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئے اور مہمان ٹیم کو 63 رنز کی شکست برداشت کرنی پڑی۔ جیسا کہ کہا گیا تھا کہ ٹسٹ سیریز کے دوران ہندوستانی ٹیم جارحانہ کھیل اختیار کرے گی لیکن جس وقت ٹیم کو بہتر مظاہرہ کرنا تھا اُس موقع پر ہندوستانی کھلاڑی گیند اور بیاٹ دونوں سے ہی ناکام رہے۔

دوسری جانب میزبان بیٹسمین دنیش چنڈی مل نے ہندوستانی بولروں کے خلاف جوابی حملہ کرتے ہوئے ناقابل تسخیر سنچری اسکور کی جس کی وجہ سے ہندوستانی ٹیم کے منصوبہ A ، منصوبہ B اور منصوبہ C ناکام رہے۔ ماضی میں جس طرح انگلینڈ کے خلاف معین علی کے سامنے اور آسٹریلیا کے خلاف نیتھن لین کے سامنے ہندوستانی ٹیم جیسے بے بس ہوئی تھی اُسی طرح پہلے ٹسٹ میں بھی ہندوستانی بیٹسمین میزبان اسپنرس کے خلاف ناکام ہوگئے۔ آسٹریلیا اور انگلینڈ کے خلاف سیریز کے 9 مقابلوں میں ہندوستانی بیٹسمنوں نے معین علی اور نیتھن لین کو 42 وکٹیں حاصل کرنے کا موقع دیا اور سری لنکا کے خلاف بھی ہندوستانی بیٹسمنوں نے 15 وکٹیں فراہم کردی ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر 10 مقابلوں میں 57 وکٹیں گنوانے والی ہندوستانی ٹیم بنگلہ دیش کے خلاف کھیلے گئے واحد مقابلہ میں بھی بہتر مظاہرہ نہیں کرپائی۔ کل یہاں پی سارا اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے مقابلہ کیلئے تیار کردہ وکٹ پر اُچھال رہے گا لیکن اس کے باوجود یہ اسپنرس کے لئے سازگار رہے گی۔ ہندوستانی ٹیم کے اوپنر مرلی وجئے گزشتہ روز پریکٹس کرتے ہوئے نظر آئے اور اُمید ہے کہ اِن کی واپسی ہوگی کیوں کہ دوسرے اوپنر شکھر دھون زخمی ہوکر سیریز سے ہی باہر ہوچکے ہیں۔ نمبر 3 کے لئے روہت شرما پر چیتیشور پجارا کو ترجیح دینے کا امکان بھی ہے۔ اس میدان پر ہندوستان کا ریکارڈ کسی قدر بہتر ہے جیسا کہ 1985 ء اور 1993 ء میں کھیلے گئے مقابلے بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہوئے تھے

جبکہ 2008 ء میں منعقدہ مقابلہ میں ہندوستان کو شکست برداشت کرنی پڑی تھی۔ کل یہاں کھیلا جانے والا مقابلہ کمارا سنگاکارا کے ایک طویل اور شاندار بین الاقوامی کرئیر کا آخری مقابلہ ہوگا اور وہ اپنے کرئیر کے 134 ویں مقابلہ میں بہتر مظاہرہ کے ذریعہ ٹیم کو کامیابی دلواتے ہوئے بین الاقوامی کرکٹ کو الوداع کہنے کے خواہاں ہوں گے۔ ساتھی کھلاڑی بھی کوشاں ہیں کہ سنگاکارا کے وداعی مقابلہ میں ٹیم پھر ایک مرتبہ بہتر مظاہرہ کرتے ہوئے سیریز میں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اُمید ہے کہ سری لنکائی ٹیم میں وہی کھلاڑی برقرار رہیں گے جنھوں نے پہلے ٹسٹ میں ٹیم کی نمائندگی کی تھی۔ ہندوستانی ٹیم میں خاص کر بیاٹنگ شعبہ میں اہم تبدیلیوں کا امکان ہے۔ آخری مرتبہ جب یہاں ہندوستانی ٹیم نے 2010 ء میں سری لنکا کا سامنا کیا تھا تو اسے 5 وکٹوں کی کامیابی حاصل ہوئی تھی جس میں جارحانہ اوپنرس ویریندر سہواگ اور وی وی ایس لکشمن نے سنچریاں اسکور کرتے ہوئے کلیدی رول ادا کیا تھا۔ اسپن شعبہ میں امیت مشرا جنھوں نے پہلی اننگز میں 20 رنز کے عوض 2 اور دوسرے اننگز میں 61 رنز کے عوض 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ہے اُن کا روی چندرن اشون اور ہربھجن سنگھ کا ساتھ حاصل رہے گا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT