Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / سنگھ پریوار کے ہندوراشٹرا ایجنڈے کے تحت یونیفارم سیول کوڈ کا نفاذ خطرناک۔ این سی پی

سنگھ پریوار کے ہندوراشٹرا ایجنڈے کے تحت یونیفارم سیول کوڈ کا نفاذ خطرناک۔ این سی پی

حکومت ہند سے سنگ پریوار کے ایجنڈے کے ہندوراشٹرا نظریہ کو یونیفارم سیول کوڈ کے نام پر نافذ کرنے سے گریز کرنے کی اپیل کرتے ہوئے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اس کو ایک خطرناک مثال قراردیاہے جو جمہوری ہندوستان میں جہاں دستور ہندنے ہر شہری کو مکمل مذہبی آزادی کے حقوق فراہم کیا ہے۔

این سی پی لیڈر نواب ملک نے اے این ائی سے بات کرتے ہوئے کہاکہ مودی حکومت سنگھ پریوار کے ہندوراشٹرا کے نظریہ کے مطابق یونیفارم سیول کوڈ نافذ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

انہوں نے مزیدکہاکہ جو بھی اگر حکومت یونیفارم سیول کوڈ متعارف کرنا چاہتی ہے تو عدالت میں نہیں بلکہ پارلیمنٹ میں اس کے متعلق کاروائی کرے۔انہوں نے مزید کہاکہ اگر حکومت سنجیدگی کے ساتھ مسلم خواتین کے حقوق کے مطابق مذکورہ مسلئے پر تبادلہ خیال چاہتی ہے تو پارلیمنٹ میں مباحثہ کیاجائے تاکہ ہر زوایہ سے اس پر بات کی جاسکے۔

نواب ملک نے مجوزہ یونیفارم سیول کوڈ کا ملک کے لئے خطرناک قراردیتے ہوئے کہاکہ اسلامک قوانین میں عورت کے خلاف کوئی بات نہیں ہے ہوسکتا ہے چندلوگ ان قوانین کی پابندی نہیں کررہے ہیں۔سابق یونین لاء منسٹر اور کانگریس لیڈر ایم ویراپہ موئیلی نے اپنے ایک بیان یونیفارم سیول کوڈ کو ہندوستانی تہذیب کا مخالف قراردیتے ہوئے مذکورہ قانون کو ہندوستان میں نامکمل بتایا۔

موئیلی نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے یونیفارم سیول کوڈ کی مخالفت کو ’’ملک کے لئے نقصاندہ ‘‘ بتایا۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان اتحاد اور بھائی چارے کے نظریہ پر قائم کیاگیا ہے۔یہ یونیفارم نہیں ہوتا ہمارے یہاں ایک سو علیحدہ طبقات ہیں جن کے ایک سو پرسنل لاء بھی ہیں۔سابق اٹارنی جنرل سولی سوراب جی نے بھی یوسی سی کے متعلق مسلم تنظیموں کے ردعمل پر برہمی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہاکہ یہ بے معنی بات ہے کہ جو مسلمانوں کی ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے کہاکہ مسلمان یو سی سی کے برعکس کام کرنا چاہتے ہیں مگر انہیں جواب دینا ہوگا کہ تین طلاق کے مسلئے کو کیوں برقراراور کس طرح اس سنگین مسلئے کے حل تلاش کیاجاسکے۔

سولی سوراب جی نے اے این ائی سے بات کرتے ہوئے کہاکہ عورت کو ایک چیز کی طرح سمجھانا غلط بات ہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ یہاں پر ایک عورت کو طلاق ‘ طلاق‘ طلاق کہتے ہوئے اپنی زندگی سے بیدخل کرنے درکار اصلاحات ناگزیرہیں۔

TOPPOPULARRECENT