Wednesday , October 18 2017
Home / اداریہ / ’’سنگین مسئلہ‘‘

’’سنگین مسئلہ‘‘

کیا اس کے سوا اور دل ناکام ملے گا
غم جتنا بڑھے گا تجھے آرام ملے گا
’’سنگین مسئلہ‘‘
ہندوستانی عوام نے ایسا معلوم ہوتا ہیکہ صبروتحمل کا مظاہرہ کرنے کی قسم کھائی ہے۔ دھرنے کی سیاست، احتجاجی مظاہرہ کرنے کی حکمت، اپنے غم و غصہ کو ظاہر کرنے کی ترکیب کو مسترد کردیا ہے۔ گذشتہ 11 دن سے ملک بھرمیںعوام کی قوت برداشت کا مشاہدہ کرنے والی حکمراں قیادت نے اطمینان کی سانس لی ہے کہ اب اس کو من مانی فیصلے کرنے میں کسی رکاوٹ کا سامنا کرنا نہیں پڑے گا۔ عوام کی شہری آزادی کو سلب کرنے میں کامیابی حکومت آگے چل کر نت نئے احکامات کے ذریعہ مختلف پابندیاں عائد کرتی ہے تو پھر ہندوستان کی کھلی فضاء ایک اوپن ایرجیل میں تبدیل ہوجائے گی۔ کرنسی نوٹوں کی منسوخی کے بعد ہر روز نئے سنگین مسائل سے دوچار ہونے والے شہریوں کی شرافت کی ڈکشنری میں حکمراں قیادت کے خلاف لفظ اف بھی شامل نہیں ہے۔ بڑے نوٹوں کی منسوخی کے بعد بینکوں اور اے ٹی ایمس کے باہر طویل قطار کو دیکھ کر سپریم کورٹ نے اسے ایک ’’سنگین مسئلہ‘‘ قرار دیا ہے۔ اس کو احساس ہوا ہیکہ مرکز کا فیصلہ عوامی زندگیوں میں افراتفری پیدا کرچکا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ بحیثیت قانونی اتھاریٹی وہ مرکز کے اس اقدام پر کوئی سخت احکام جاری کرنے سے گریز کررہا ہے۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی زیرقیادت ایک بنچ نے عوام کی پریشانیوں اور حکومت کے فیصلہ کو ایک سنگین مسئلہ تو قرار دیا ہے مگر اس کا فی الفور حل نہیں بتایا۔ عوام کو تکلیف دینے کے بجائے اگر بعض اقدامات کئے جاتے تو ایسے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ مرکز کو یہ اعتراض ہیکہ مسائل کا سامنا کرنے والے شہری اپنی شکایت لے کر عدالتوں سے رجوع نہیں ہوسکتے۔ مرکزی حکومت کی پیروی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل نے ملک کی مختلف ریاستوں کے ہائیکورٹس میں داخل کردہ مقدمات پر حکم التواء جاری کرنے کا عدالت عظمیٰ سے درخواست کی۔ اس کے جواب میں عدالت کا ردعمل مناسب تو ہے مگر اس نے حکومت کی سرزنش سے اجتناب کیا۔ مرکز کی پیروی میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ نوٹوں کی منسوخی کے تعلق سے اگر کوئی چیلنج کیا گیا ہے تو اس مسئلہ کی سماعت صرف عدالت عالیہ کی جانب سے کی جانا چاہئے۔ سپریم کورٹ کی بنچ نے عوام کے حق میں  اپنے احساس کا اظہار کرتے ہوئے اتنا ضرور کہا کہ لوگ متاثر ہورہے ہیں۔ لوگوں میں مایوسی پیدا ہورہی ہے تو عوام کو عدالتوں سے رجوع ہونے کا حق ہے اور ایسا کرنے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے تو مرکز آخر اس کو تنازعہ کی شکل کیوں دے رہا ہے۔ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کے اعلیٰ ججس کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ جج صاحبان اپنے لنچ وقفہ کے دوران باہر نکل کر بینکوں اور اے ٹی ایمس کے باہر عوام کی قطار کا مشاہدہ کریں جہاں پہلے کے بہ نسبت یہ قطار گھٹ گئی ہے۔ انسانی حقوق کی کھلم کھلا پامالی والے واقعات کو نظرانداز کرکے جب کوئی طاقت اپنی ضد پر حماقت کے ساتھ قائم رہتا ہے تو یقینا عدالت عالیہ کے احساس کے مطابق یہ ایک ’’سنگین مسئلہ‘‘ ہوتا ہے۔ کسی حکمراں کے عزائم خطرناک بلکہ عین قرین عقل و مصلحت سیاسی ہوں تو یہ عوامی زندگیوں کو موجودہ حالات کی طرح دوچار کردیتے ہیں۔ جب کوئی عوام سے اپنے رابطہ کو منقطع کرنا چاہتا ہے تو آنے والے دنوں میں اگر ملک میں وسط مدتی انتخابات کی نوبت آجائے تو عوام کو اپنے فیصلہ کے حق سے استفادہ کرنے میں دیر نہیں ہوگی۔ ایک احساس سے عاری سیاستداں ہی مسائل کا انبار لگا سکتا ہے۔ آج سارا ملک اس موضوع بحث میں الجھ کر رہ گیا ہیکہ آخر نوٹوں کی منسوخی سے بڑے دماغ اور بڑے سیٹ والے لوگ نشانہ بن رہے ہیں یا غریب، چھوٹے، متوسط طبقہ کے لوگ پریشان ہیں۔ دکھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ سکوت اختیار کرجائے تو معصوم عوام کو بینکوں کے سامنے لاکھڑا کرکے انہیں یرغمال بنائے رکھنے والی حرکتیں نمودار ہوئی ہیں۔ بلاشبہ یہ ایسے فیصلے ہیں جن کے خلاف عوام نے کوئی سخت ردعمل ظاہر نہیں کیا تو کل ان کے منہ کا نوالہ بھی چھین لیا جاسکتا ہے۔ ہندوستانی عوام کی اکثریت کو فی الفور ایسے حالات سے چھٹکارا پانے کیلئے بہ دست دعا ہونا چاہئے۔
غیرقانونی مالیاتی سرگرمیاں اور مسودہ قانون
ملک میں غیرقانونی مالیاتی سرگرمیوں پر شکنجہ کسنے کی نیت سے حکومت نے غیرمجاز چٹ فنڈس اور دیگر خفیہ اسکیمات کا پتہ چلانے ایک مسودہ بل کو نظرثانی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اگر کوئی مالیاتی دھاندلیوں، غیرقانونی لین دین میں ملوث پایا گیا تو اس پر 16 سال کی سزاء اور بھاری جرمانے عائد کئے جائیں گے۔ غیراصولی و غیرقواعد ڈپازٹ اسکیم و ڈپازیٹرس کے تحفظ مفادات ملی 2016ء میں جامع طریقہ سے اصول وضع کئے گئے ہیں۔ یہ بل مرکزی حکومت کو یہ اختیار دیتا ہیکہ وہ ہندوستان میں رقومات کی غیرقانونی لین دین، چٹ فنڈس یا دیگر طریقوں سے روپئے کو مشغول کرنے والی سرگرمیوں کا پتہ چلایا جائے۔ اس سلسلہ میں حکومت نے 17 ڈسمبر تک عوامی رائے طلب کی ہے۔ دیگر یہ بل قانون کی شکل اختیار کرجائے تو آئندہ سے چٹ فنڈ کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔ وزیرفینانس ارون جیٹلی سال 2016-17ء کا بجٹ پیش کرتے ہوئے یہی کہا تھا کہ ایک جامع مرکزی قانون بنایا جائے گا۔ یہ اقدام بین وزارتی گروپ کی سفارشات پر کیا جارہا ہے۔ مرکزی بی جے پی حکومت اپنے کام کاج کے معاملہ میں انتظامی امور پر توجہ دینے سے زیادہ مالیاتی سرگرمیوں پر ضرب لگانے کیلئے دھیان دے رہی ہے۔ ایسا کرنے سے اب تک ملک کی معاشی رفتار درہم برہم ہوگی جہاں تک غیرقانونی یا غیرمجاز رقمی لین دین کا سوال ہے اس کیلئے موجودہ قانون ہی کافی ہیں مگر ان قوانین کو دیانتداری یا سختی سے روبہ عمل نہیں لایا جاتا۔ بالفرض سخت قدم اٹھایا جاتا ہے تو سیاسی روابط اور بالادستی کی وجہ سے خاطیوں کو پولیس اور قانون سے چھٹکارا ملتا ہے۔ جب قانون بنایا جاتا ہے تو اس پر عمل آوری کو یقینی بنانا بھی ضروری ہوتا ہے۔ کاغذی گھوڑے دوڑا کر ایک خطیر رقم اس انفورسمنٹ فورس کی دیکھ بھال پر صرف کی جائے تو یہ سراسر عوامی محنت کے پیسہ کو فضول خرچی سے دوچار کردینے کے مترادف ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT