Sunday , May 28 2017
Home / شہر کی خبریں / سنہری تلنگانہ کی تشکیل میں ٹی آر ایس منزل کی سمت رواں دواں

سنہری تلنگانہ کی تشکیل میں ٹی آر ایس منزل کی سمت رواں دواں

متحدہ اے پی میں سماجی ناانصافیاں ، ٹی آر ایس حکومت کی تشکیل کے بعد کئی اصلاحات ، چیف منسٹر کے سی آر کا پلینری کے افتتاحی اجلاس سے خطاب
حیدرآباد۔21 اپریل (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے کہا کہ ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات کے سلسلہ میں تلنگانہ ملک بھر کے لیے ایک مثالی ریاست بن چکا ہے اور دیگر ریاستوں کے لیے تلنگانہ کا درجہ مشعل راہ کی طرح ہے۔ پارٹی کے 16 ویں پلینری سیشن سے افتتاحی خطاب میں چیف منسٹر نے کہا کہ تین برسوں میں تلنگانہ حکومت نے ترقیاتی اور فلاحی کاموں کی تکمیل کا ریکارڈ قائم کیا ہے اور کئی ریاستیں تلنگانہ کی اسکیمات کی تفصیلات حاصل کررہی ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ سنہری تلنگانہ کی تشکیل کے مقصد سے حکومت نے جس مساعی کا آغاز کیا وہ تیزی سے منزل کی سمت رواں دواں ہے۔ کوم پلی میں پارٹی پلینری میں پارٹی صدر کی حیثیت سے دوبارہ انتخاب کے بعد خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ 2001ء میں تلنگانہ تحریک کا جئے تلنگانہ کے نعرے کے ساتھ آغاز کیا گیا تھا۔ کئی گوشوں سے تحریک کی کامیابی کے سلسلہ میں اندیشوں کا اظہار کیا گیا۔ مخالفین نے یہاں تک کہا کہ علیحدہ ریاست کا حصول تو دور کی بات ہے خود یہ پارٹی برقرار نہیں رہے گی لیکن عوام کے تعاون سے 15 برسوں کی پرامن جدوجہد کے بعد ہمیں تلنگانہ ریاست کے حصول میں کامیابی ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران کئی انداز سے اذیتوں اور توہین کا سامنا کرنا پڑا۔ متحدہ آندھراپردیش کے حکمرانوں نے تحریک کو کمزور کرنے کوئی کسر باقی نہیں رکھی لیکن ناانصافیوں کے خلاف شروع ہوئی یہ جدوجہد اپنے نتیجہ کو پہنچ کر ہی ختم ہوئی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ جس وقت علیحدہ تلنگانہ ریاست حاصل کی گئی مختلف شعبوں میں صورتحال انتہائی ابتر تھی۔ متحدہ آندھرا کے حکمرانوں نے تلنگانہ میں آبپاشی شعبہ کو نظرانداز کردیا تھا جس کے باعث دو برسوں تک شدید خشک سالی کی صورتحال رہی۔ کسانوں کے مسائل ان کی خودکشی کے واقعات کا حکومت کو سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں گڑمبہ راج تھا اور آر ٹی سی کی حالت انتہائی ابتر تھی۔ سکریٹریٹ میں تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے ملازمین مختلف ہراسانیوں کا شکار تھے۔ ان حالات میں ٹی آر ایس نے جدوجہد کا آغاز کرتے ہوئے 2014ء میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے سابق چیف منسٹر نے جان بوجھ کر تلنگانہ کو برقی بحران میں مبتلا کردیا تھا لیکن ٹی آر ایس حکومت نے چھ ماہ میں بحران پر قابو پالیا۔ حکومت 9,350 میگا واٹ برقی کی پیداوار میں کامیاب ہوچکی ہے۔ چیف منسٹر نے مشن بھگیرتا، مشن کاکتیہ اور ہریتا ہارم جیسے پروگراموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام ریاست کی ہمہ جہتی ترقی میں اہم رول ادا کررہے ہیں۔ مشن بھگیرتا کے تحت ہر گھر کو صاف پینے کے پانی کی سربراہی کو یقینی بنانے کا منصوبہ ہے اور آئندہ انتخابات سے قبل اس اسکیم کو مکمل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مشن کاکتیہ کے تحت چھوٹے تالابوں اور کنٹوں کا تحفظ کرتے ہوئے آبپاشی کی ضرورتوں کے لیے پانی کا انتظام کیا جائے گا۔ آلودگی سے نمٹنے کے لیے ریاست بھر میں ہریتاہارم پروگرام کامیابی سے عمل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نہ صرف اضلاع بلکہ حیدرآباد میں ذخائر آب کی تعمیر کے ذریعہ مشن بھگیرتا کے پروگراموں کا آغاز کیا گیا۔ کے سی آر نے کہا کہ ایک کروڑ ایکڑ اراضی کو سیراب کرنے کے مقصد سے آبپاشی پراجیکٹس کی تعمیر کا آغاز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کانگریس پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ کانگریس قائدین آبپاشی پراجیکٹس کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ قومی شاہراہوں کی تعمیر میں حکومت کی دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ میں نیشنل ہائی ویز 2,500 کیلو میٹر ہیں لیکن حکومت 5,800 کیلو میٹر تک ترقی دینے کے اقدامات کررہی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت دیہی علاقوں میں بسنے والے کمزور طبقات کی بھلائی کے لیے ان کے پیشے کو مستحکم کرنے ہر ممکن تعاون کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف چھوٹے پیشے جو آج ختم ہورہے ہیں حکومت نے انہیں معاشی طور پر مستحکم بنانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب حکومت نے مچھیروں، دھنگروں اور دیگر چھوٹے پیشے سے وابستہ افراد کی مدد کی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ زرعی شعبہ کے تحفظ کے لیے حکومت نے کئی اقدامات کئے ہیں۔ حکومت نے وعدے کے مطابق کسانوں کے قرضہ جات کی معافی عمل میں لائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ میں چھوٹے اور متوسط کسانوں کی اکثریت ہے اور حکومت انہیں مفت کھاد اور بیج فراہم کرنے کے اقدامات کررہی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT