Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / سوئس بینک اکاونٹ ہولڈرس کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ؟

سوئس بینک اکاونٹ ہولڈرس کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ؟

عام تاجرین کو ہراسانی کا سلسلہ بند کیا جائے ، فیصلہ واپس لینے کجریوال کا مطالبہ
نئی دہلی ۔ 12 ۔ نومبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے آج کہا کہ کالا دھن کا مسئلہ حل کرنے کے لیے وزیراعظم نریندر مودی کو چاہئے کہ پہلے سوئس بینک اکاونٹ رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کرے ۔ دیانت دار تاجروں کی ہراسانی بند کی جائے ۔ کجریوال نے آج آزاد پور منڈی ، لکشمی نگر اور گاندھی نگر مارکٹ میں تاجرین سے ملاقات کی ۔ انہوں نے حکومت سے 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کا چلن بند کرنے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔ کجریوال نے گاندھی نگر میں تاجرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دو دن قبل وزیراعظم نریندر مودی نے بڑی کرنسی کا چلن بند کرنے کا اعلان کیا ۔ اس سے ملک کی عوام پریشان ہوگئی ۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا عوام پریشان نہیں ہوئے ؟ جس پر وہاں پر موجود تاجرین نے زور دار آواز میں اثبات کا اعلان کیا ۔ کجریوال نے کہا کہ 1000 اور 500 کی کرنسی بند کر کے 2000 کی کرنسی متعارف کرنے سے کالا دھن سے نمٹنے میں مدد نہیں ملے گی بلکہ اسے زیادہ سے زیادہ کرنسی جمع کرنے میں آسانی ہوگی ۔ انہوں نے آزاد پور منڈی میں ہوٹل سیل تاجرین سے ملاقات کی جنہوں نے بتایا کہ نقد رقمی لین دین میں انہیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ کجریوال نے کہا کہ بی جے پی کے دوستوں کو پہلے ہی مطلع کردیا گیا تھا چنانچہ انہوں نے اپنی رقم محفوظ کرلی اور عام آدمی کو تکلیف سے دوچار کردیا ۔ انہوں نے مودی جی سے جاننا چاہا کہ اگر کالا دھن تاجرین یا امبانی ۔ ادانی کے پاس موجود ہے تو پھر آپ امبانی ۔ ادانی کو کیوں نہیں پکڑتے ؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2011 میں مرکز کے پاس 648 افراد کی فہرست تھی جن کے سوئس بنک میں اکاونٹس ہیں ۔ وزیراعظم کو چاہئے کہ ان کے خلاف کارروائی کرے ۔۔

TOPPOPULARRECENT