Sunday , September 24 2017
Home / دنیا / سوئٹزرلینڈ میں مسلم طلبہ کو ٹیچرس سے مصافحہ سے استثنیٰ نہیں

سوئٹزرلینڈ میں مسلم طلبہ کو ٹیچرس سے مصافحہ سے استثنیٰ نہیں

جنیوا۔ 25 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سوئٹزرلینڈ کے علاقائی حکام نے آج رولنگ دی کہ کسی ٹیچر سے مصافحہ سے طالب علم کے انکار کیلئے مذہبی اعتقاد کوئی عذر یا بہانہ نہیں ہوسکتا۔ حکام نے اس رولنگ کے ساتھ بعض مسلم طلبہ کو اسکول کی طرف سے استثنیٰ دینے سے متعلق متنازعہ فیصلہ کو کالعدم کردیا۔ چند میں طلبہ نے مخالف جنس کے ٹیچرس کو چھونے سے پیش و پیش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا۔ علاقائی تعلیمی حکام نے اپنی رولنگ میں کہا کہ شمالی باسل کاؤنٹی طلبہ کے ایسے والدین یا سرپرست جو ٹیچرس سے مصافحہ کرنے سے انکار کرتے ہیں، انہیں 5,000 سوئس فرینکس (5,000 امریکی ڈالرس) کے جرمانہ کا سامنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’ٹیچرس کو مصافحہ طلب کرنے کا حق ہے‘‘۔ اس انکشاف پر ایک قومی تنازعہ پیدا ہوگیا تھا کہ 14 اور 15 سال کی عمر کے دو مسلم بھائیوں کو ٹیچرس سے مصافحہ کرنے سے اس وقت استثنیٰ دیا گیا تھا جب انہوں نے کہا تھا کہ ٹیچر کے خاتون ہونے کی صورت میں اس سے ہاتھ ملانا ان کے مذہبی عقائد کے برخلاف ہے۔ بھائیوں نے استدلال پیش کیا تھا کہ اسلام صرف ارکان خاندان کے سوائے دوسرے کسی مخالف جنس سے جسمانی رابطہ کی اجازت نہیں دیتا۔ سوئٹزرلینڈ کی آبادی 80 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جس میں 3.5 لاکھ مسلمان ہیں۔ جہاں ماضی میں بھی مسلمانوں سے متعلق تنازعات پیدا ہوتے رہے ہیں۔ چند مسلم خاندانوں نے اپنی لڑکیوں کو تیراکی کی ٹریننگ سے مستثنی رکھنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن مقدمہ کی سماعت بالآخر ان مسلم لڑکیوں کے والدین پر جرمانوں کے ساتھ ختم ہوئی۔ تاہم مسلم خاندانوں کو بعض اسکولوں کے خلاف عدالتوں میں کامیابی حاصل ہوئی جن (اسکولوں) نے چہرہ پر مکمل نقاب کے استعمال پر امتناع عائد کرنے کی کوشش کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT