Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / سوال چاہے کچھ بھی ہو جواب اپنی مرضی کا دیں گے

سوال چاہے کچھ بھی ہو جواب اپنی مرضی کا دیں گے

حق معلومات قانون بری طرح نظر انداز ، اقلیتی اداروں کے عہدیداروں کا ہٹ دھرم رویہ
حیدرآباد۔/17مئی، ( سیاست نیوز) اقلیتی بہبود کے ادارہ جات قانون حق معلومات کی شرائط کی صریح خلاف ورزی کررہے ہیں۔ جس طرح اقلیتی اداروں کی کارکردگی ہے اسی طرح اس قانون کے تحت داخل کی گئی درخواستوں کے جوابات دینے میں تاخیر کی شکایات ملی ہیں۔ اقلیتی اداروں کا یہ حال ہے کہ وہ سوال چاہے کچھ ہو جواب تو اپنی مرضی کا دیں گے جس سے ان کیلئے کوئی مسائل پیدا نہ ہوں۔ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت مختلف اقلیتی اداروں میں معلومات حاصل کرنے والے جہد کاروں کی شکایت ہے کہ درخواستوں کی قبولیت کیلئے پہلے پس و پیش کیا جاتا ہے اور اگر درخواست قبول بھی کرلی جائے تو مقررہ 30دن کی مدت میں جواب دیئے جانے کا امکان بہت ہی کم ہوتا ہے۔ جواب میں ہر ادارہ اپنے آپ کو بچانے کی پہلے کوشش کرتا ہے اور اس کوشش میں بعض غلط اور گمراہ کن اطلاعات بھی درخواست گذار کو فراہم کردی جاتی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اقلیتی اداروں میں بعض افراد کا غلبہ ہے اور وہ ان سے متعلق کسی بھی اطلاع کو برسر عام ہونے نہیں دیتے۔ ہر ادارہ میں چند ایسے افراد ہیں جو ادارہ کا سارا انتظام و انصرام اپنے کنٹرول میں رکھے ہوئے ہیں اور کوئی بھی غلطی اور بے قاعدگی کی صورت میں اسے فوری طور پر دبادیا جاتا ہے۔ ایسے افراد کا کنٹرول صرف برسر خدمت رہنے تک دکھائی نہیں دیتا بلکہ ان کی وظیفہ پر سبکدوشی کے بعد بھی اداروں پر کنٹرول برقرار رہنے کی مثالیں سامنے آئی ہیں۔ گذشتہ دنوں اقلیتی فینانس کارپوریشن نے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت ایک جواب جاری کیا جس میں 7 مختلف نکات کا جواب دیا گیا۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اس جواب میں کئی معلومات حقائق سے بعید ہیں اور کارپوریشن نے جان بوجھ کر حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ ایک سماجی جہد کار کی جانب سے 24فروری کو داخل کی گئی درخواست کا جواب 3 ماہ بعد دیا گیا جبکہ قاعدہ کے مطابق 30دن کے اندر جواب دیا جانا چاہیئے۔ درخواست گذار نے چونکہ کارپوریشن پر کنٹرول رکھنے والے شخص کے بارے میں معلومات پوچھی تھیں لہذا کارپوریشن نے مذکورہ شخص کی وظیفہ پر سبکدوشی کے باوجود درکار معلومات جاری کرنے سے گریز کیا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح اداروں میں بعض افراد کا غیر قانونی کنٹرول ہے۔ مذکورہ شخص کی وظیفہ پر سبکدوشی کے دو ماہ بعد دیئے گئے جواب میں بھی تمام تفصیلات جاری نہ کرنا باعث حیرت ہے۔ جواب میں واضح کردیا گیا کہ ریٹائرڈ جنرل منیجر کا کارپوریشن سے کوئی تعلق نہیں اور حکومت نے خدمات میں توسیع یا دوبارہ تقرر کے کوئی احکامات جاری نہیں کئے۔ جواب میں کسی بھی گوشہ سے ریٹائرڈ جنرل منیجر کی خدمات میں توسیع کی سفارش نہ کرنے کی بات کہی گئی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائرکٹرس نے مذکورہ ریٹائرڈ شخص کو دو سال کے عرصہ کیلئے دوبارہ تقرر کی قرارداد منظور کرتے ہوئے 5جنوری 2016کو مکتوب میں حکومت سے اس کی سفارش کی۔ منیجنگ ڈائرکٹر کارپوریشن نے بورڈ آف ڈائرکٹرس کی قرارداد کے ساتھ حکومت کو مکتوب روانہ کیا تھا جس کا تذکرہ یکم اپریل کو جاری کردہ جی او 67میں ہے۔ اس جی او کے تحت ریٹائرڈ جنرل منیجر کی خدمات کو کارپوریشن سے ختم کرتے ہوئے تلنگانہ میناریٹیز ریسیڈنشیل ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس سوسائٹی میں شامل کیا گیا ہے۔ حکومت نے کارپوریشن میں دوبارہ تقرر کی سفارش کو مسترد کرتے ہوئے اعلیٰ عہدیداروں کی سرپرستی اور سیاسی دوباؤ کے سبب ایک کمتر عہدہ پر سوسائٹی میں تقرر کی اجازت دی۔کارپوریشن نے تیسرے اور چوتھے جواب میں سراسر گمراہ کن معلومات فراہم کی جبکہ کارپوریشن کی جانب سے کی گئی نمائندگی کا جی او میں ذکر موجود ہے۔ ایک جواب میں کارپوریشن نے کہا کہ سرویس رولس کے تحت ریٹائرڈ ملازمین کے دوبارہ تقرر یا خدمات میں توسیع کی کوئی گنجائش نہیں ہے جبکہ 5جنوری 2016کو منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن نے ریٹائرڈ جنرل منیجر کے دوبارہ تقرر کیلئے حکومت سے جو سفارش کی اس میں کمپنیز ایکٹ کے بعض قواعد کا حوالہ دیا گیا جس کے تحت یہ گنجائش موجود ہے اور کارپوریشن کمپنیز ایکٹ کے تحت چلتا ہے۔ اس طرح کی گمراہ کن اطلاعات فراہم کرنا اور وہ بھی آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت یقینا ایک جرم ہے اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیئے۔ سماجی جہد کار کارپوریشن کے اس جواب کے خلاف کمشنر آر ٹی آئی سے شکایت کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ریٹائرڈ عہدیدار کے کنٹرول کے سبب پہلے تو جواب دینے میں تین ماہ کی تاخیر کی گئی اور پھر گمراہ کن جواب دے دیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT