Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / سود خوروں اور فینانسروں کیخلاف کارروائی اکارت ثابت

سود خوروں اور فینانسروں کیخلاف کارروائی اکارت ثابت

آٹو موبائیل فینانس کا کاروبار عروج پر، قرض دار پریشان حال، پولیس کی چشم پوشی
حیدرآباد 10 ستمبر (ساست نیوز) شہر میں فینانس اور سود خوری کے کاروبار کے خلاف تقریباً تمام زونس بالخصوص ساؤتھ زون میں پولیس کی جانب سے کارروائی کی گئی۔ تاہم عوامی حلقوں میں یہ تاثر عام تھا کہ پولیس کی یہ کارروائی دکھاوے کی حد تک رہی اور بڑے فینانسروں اور سود خوروں کے خلاف کارروائی کرنا تو دور کی بات ہے پولیس خود ان بڑے سود خوروں کے اشاروں پر چھوٹے سود خوروں کو نشانہ بنانے کے الزامات کا سامنا کررہی ہے۔ خانگی فینانسروں کے علاوہ سارے شہر میں آٹو موبائیل فینانس کا کاروبار انتہائی درجہ سے تمام قوانین کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے چلایا جارہا ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ یہ سب کچھ قانون کے مطابق ظاہر کرتے ہوئے کیا جارہا ہے۔ آٹو موبائیل فینانس میں خاص طور پر آٹو کے فینانس میں فینانسروں کی جانب سے حد درجہ لوٹ کھسوٹ کی جارہی ہے۔ جو شرح سود پر فینانسر آٹو کی پہلی قسط پر بھی عائد کرتے ہیں۔ وہی مقدار سود کے آٹو کی آخری قسط پر بھی عائد کرتے ہیں اور بعض واقف کار گوشوں کا کہنا ہے کہ یہ فینانسرس آخری قسطوں میں 200 فیصد تک حاصل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ آٹو کے ڈیلرس من مانی قیمتیں بھی اپنے طور پر عائد کرتے ہیں۔ بیشتر ڈیلرس اور فینانسروں کے مابین بھی ساز باز ہے اور یہ لوگ مل بانٹ کر غریب آٹو ڈرائیورس کی لوٹ مار میں مصروف ہیں۔ اس سارے معاملے میں اب ایک اور پہلو شدت اختیار کرتا جارہا ہے اور وہ ہے آٹو فینانسروں کے ’’سیزروں‘‘ کا قوانین کی رو سے آٹو فینانسر کسی بھی مقروض سے تین ماہ کی قسط نہ ملنے پر نوٹس جاری کرتے ہوئے آٹو ضبط کرسکتا ہے اور وہ بھی اس کے گھر سے یا کسی پارکنگ کے مقام سے راستہ چلتے ہوئے مسافروں کو گاڑیوں سے اُتار کر آٹو کو ضبط نہیں کیا جاسکتا۔ اب فینانسروں نے خانگی غنڈہ عناصر کی خدمات حاصل کرتے ہوئے غریب آٹو ڈرائیوروں کو نشانہ بنانا اور لوٹ مار کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ خانگی فینانسرس تمام قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے من مانی کررہے ہیں اور پولیس یا تو اس جانب توجہ دینے تیار نہیں ہے یا پھر تعلقات کا خیال رکھا جاتا ہے۔ خانگی فینانسرس صرف 45 دن میں قسط نہ ملنے پر اپنے کرایہ کے سیزروں کو آٹو کے نمبرات حوالے کردیتے ہیں اور یہ سیزر خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہوئے راہ چلتی گاڑیوں کو روک کر ڈرائیورس اور مالکین سے ہاتھا پائی کرتے ہیں اور سرے عام ان کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہوئے انھیں رسوا کیا جاتا ہے اور مسافرین کو گاڑی سے اُتارتے ہوئے گاڑیاں ضبط کرلیتے ہیں۔ یہ سارا کچھ شہر کی مصروف ترین اور اہم سڑکوں پر ہورہا ہے۔ اگر پولیس چاہے تو بیشتر مقامات پر ایسے سی سی ٹی وی کیمروں سے ایسے مناظر کا پتہ چلانا بہت آسان ہوسکتا ہے لیکن ایسا نہیں کیا جارہا ہے۔ جب گاڑیاں فینانسر اپنے گیاریج میں پہونچا دیتا ہے اور گاڑی مالکین اس سے رابطہ کرتے ہیں تو انھیں دوبارہ سود کے جال میں پھانس لیا جاتا ہے۔ ان سے نہ صرف یہ کہ تمام اقساط کی برسر موقع ادائیگی کیلئے دباؤ ڈالا جاتا ہے بلکہ سیزر کی فیس ان سے وصول کی جاتی ہے۔ گیاریج کا کرایہ من مانی انداز میں وصول کیا جاتا ہے۔ فینانس کی ادائیگی میں تاخیر پر من مانی جرمانے عائد کئے جاتے ہیں۔ غرض یہ کہ کسی گاڑی کی ضبطی پر اس کے مالک کیلئے گاڑی کو دوبارہ حاصل کرنا تقریباً ناممکن بنادیا جاتا ہے اور پھر دوبارہ نئی گاڑیوں یا پھر ازسرنو فینانس کی رقم اس پر عائد کردی جاتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ یہ خانگی سیزر جو عملاً غنڈہ گردی سے گریز نہیں کرتے وہ بہترین سفاری سوٹ بوٹ پہن کر گاڑیاں ضبط کرتے ہیں اور وہ خود کو پولیس اہلکار قرار دینے سے بھی گریز نہیں کرتے اور غریب و ناخواندہ ڈرائیور کو خوفزدہ کردیتے ہیں۔ شہر میں ایسے بے شمار آٹو موبائیل فینانسرس ہیں جو اس طرح مافیا طرز کا کاروبار چلارہے ہیں۔ اعلیٰ پولیس عہدیداروں اور انٹلی جنس عملہ کو نہ صرف گاڑیوں کی ضبطی کے عمل کا جائزہ لینے اور قانون کی دھجیاں اُڑانے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کی ضرورت ہے بلکہ گاڑیوں کی قیمتوں کے مسئلہ کا بھی تفصیلی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT