Thursday , August 24 2017
Home / مضامین / سود کی متروکہ رقم کا مسئلہ

سود کی متروکہ رقم کا مسئلہ

 

محمد شفیق الزماں
آئی اے ایس (ریٹائرڈ)سابق اسپیشل چیف سکریٹری
ابھی کچھ دنوں قبل دہلی اقلیتی کمیشن کے ایک رکن صفدر حسین صاحب کے حوالے سے اخبارات میں یہ خبر ـآئی ہے کہ مسلمانوں کی ایک اعشاریہ پانچ ٹریلین ( تقریباً ۶۷ لاکھ ۵۰ ہزار کروڑ روپئے) کی سود کی رقم جوانہوں نے بینکوں میں چھوڑ دی ہے اب تک بینکوں میں متروکہ اور لا وارث پڑی ہوئی ہے۔ یہ دراصل ایک پرانی خبر ہے جو ۲۰۱۱ء میں پہلی بار شائع ہوئی تھی جس پر وقتآ فوقتآ کچھ کوششیں کی گئیں لیکن ان کو ان کے منطقی انجام تک نہیں پہنچایا گیا یا نہیں پہنچ پائیں۔ یہ بیان جو ریزرو بینک آف انڈیا کے حوالے سے دیا گیا ہے اس کے مطابق صر ف کشمیر اور کیرالہ میں بالترتیب پچاس اور چالیس ہزار کروڑ کی مسلمانوں کی سودکی رقم مختلف بینکوں میں متروکہ پڑی ہوئی ہے۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معروف ماہر معاشیات پروفیسر طاہر بیگ کے مطابق اگر یہ رقم نہیں نکالی گئی تو خدشہ ہے کہ کچھ مسلم دشمن طاقتیں اسے اپنے طور پر نکال کر مسلمانوں کے مفاد کے خلاف استعمال کر سکتی ہیں۔

2014ء میں اس سلسلے میں ٹائمز آف انڈیا کے چیتن کمار نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس کے مطابق
ریزرو بینک آف انڈیا کے ایک سینئر افسر نے انہیں بتایا کہ بینکنگ ریگولیشن ایکٹ ۱۹۴۹ ء کی دفعہ ۲۶ کے تحت تمام سرکاری بینکوں کو ایسی رقوم جو دس سال سے زیادہ سے نہیں نکالی گئیں ہیں ان کے بارے میں انہیں فارم ۹ میں ریزرو بینک آف انڈیا کو ہر سال تمام تفصیلا ت مہیا کرانی ہوتی ہیں جس کے مطابق ۳۱ دسمبر ۲۰۱۲ء تک ایسی کل رقم ۳۶۵۲کروڑ سے زیادہ تھی اور اس میں سے بھی ۷۱۴ کروڑ سے زیادہ کی رقم صر ف اسٹیٹ بینک آف انڈیا اور ان کے متصلہ بینکوں مثلآ اسٹیٹ بینک آف بیکانیر ، اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد،اسٹیٹ بینک آف پٹیالہ ، اور اسٹیٹ بینک آف ٹراونکور کے پاس تھیں۔ رقم کی مقدار کے بارے میں جو تضادات ہیں ان سے قطع نظر دو باتیں تو بالکل واضح ہیں کہ یہ رقم ایک کثیر رقم ہے جس میں ہر سال تقریباًبیس فیصد کا اضافہ ہو رہا ہے اور دوسرے اس کا زیادہ تر حصہ مسلمانوں کے ذریعہ سود کی چھوڑی ہوئی رقم کا ہے۔
ماضی میں اس سلسلے میں کئی کوششیں ہوئیں انفرادی سطح پر بھی اور اجتماعی سطح پر بھی لیکن یہ کوششیں زیادہ بار آور نہیں ہوئیں۔ انفرادی سطح پر یہ کوشش انتہائی کمزور تھی اسلئے کہ ریزرو بینک آف انڈیا کے قانون کے مطابق اس رقم کے کھاتہ داروں کی تفصیل ریزرو بینک آف انڈیا کے ذریعہ عام نہیں کی جا سکتیں۔ اسلئے خال خال لوگوں تک جن کے بارے میں ان کے دوستوں کو معلوم تھا کہ یہ اپنی سود کی رقم بینک میں ہی چھوڑ دیتے ہیں ، ان کے دوستوں یا ملت کے خیر خواہوں نے پہنچنے کے کوشش کی اور ان کو یہ رقم نکال کر غریبوں کو دینے کیلئے آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ کچھ لوگوں سے جب میں نے اس سلسلے میں بات کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے بتایا کہ ایسے بیشتر لوگ ا س سلسلے میں بہت ہی متشدد تھے اور ان کا موقف یہ تھا کہ اگرمیں کسی چیز کو برا یا حرام سمجھتا ہوں تو دوسروں کو کیسے وہی چیز دے سکتا ہوں۔
تنظیم کی سطح پر قومی اقلیتی کمیشن نے یہ کوشش اس وقت شروع کی جب وجاہت حبیب ا للہ صاحب کمیشن کے چیئرمین تھے۔ انہوں نے مرکزی وزارت مالیات کو یہ تجویز پیش کی کہ مسلمانو ں کی ایک خطیر رقم بینکوں میں بے استعمال پڑی ہوئی ہے جسے مسلمانوں کے غریب طبقے کی فلاح کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تجویز کے تین حصے تھے ایک تو یہ کہ حکومت کمیشن کو یہ اجازت دے کہ وہ ایسے کھاتہ داروں سے راضی نامہ لے کر اس رقم کو نکال کر غریب مسلمانوں کی فلاح کیلئے خرچ کر سکے ، مسلمانوں کیلئے انہی بینکوں میں ایک غیر سودی نظام قائم کیا جائے اور تیسرا یہ کہ اس رقم سے مسلمانوں کو بینکوں کے ذریعہ غیر سودی قرض دیا جائے۔ وجاہت حبیب اللہ صاحب نے اس مسئلہ کو کئی میٹنگوں میں بھی جس میں وزارت مالیات کے متعمدین موجود تھے اٹھایا لیکن جیسا کہ اکثر ہوتا ہے اس تجویز پر حکومت کی طرف سے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ۔

اسوسی ایشن آف مسلم پروفیشنلز نام کی تنظیم جس کا صدر دفتر کھار ، ممبئی میں ہے نے عامتہ المسلین سے اپیل کی ہے کہ جو مسلمان مذہبی بنیادو ں پر اپنے کھاتوں پر سود کی رقم نہیں لیتے ہیں اور اسے بینکوں میں ہی چھوڑ دیتے ہیں وہ اپنی رقم نکال کر اس تنظیم کو دیں تا کہ اسے غریب مسلمانوں کی فلاح پر خرچ کیا جائے۔ اس تنظیم کی ان کوششوں کا کیا نتیجہ نکلا مجھے نہیں معلوم ہے مگر اس کے باوجود اتنی بات تو یقینی ہے ابھی بھی اس رقم کا وافر حصہ لا وارث پڑا ہوا ہے جسے حاصل کر کے مسلمانوں کی فلاح و بہبو د پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔
اس مسئلہ کے مذہبی اور سماجی دونوں پہلو ہیں۔ جہاں تک مذہبی پہلو کا تعلق ہے علماء کا اس بارے میں اختلاف ہے۔ بہت سارے علماء بینک کے سود کو ربا نہیں مانتے اور اس کے استعمال کو جائز سمجھتے ہیںجبکہ بہت سارے علماء اس کو حرام مانتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ بینکوں سے سود کی رقم نہیں لیتے ہیں وہ موخر الذکر رائے پر ہی عمل کر رہے ہیں ۔ میں بینکوں کے سود کے سلسلے میں ان دونوں آراء اور مذہبی پوزیشن کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں کرنا چاہتا ہوں۔ لیکن اس پورے مسلئے کا مذہبی پہلو سے قطع نظر ایک عملی پہلو بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ ایسے لوگ جو سود کو حرام سمجھتے ہیں ان کے لئے بینک میں پیسہ رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے اور انہیں اس سے آ غاز میں ہی پرہیز کرنا چاہئے، لیکن ایک مرتبہ جب انہوں نے بینک میں پیسہ رکھ دیا تو لازمآ وہ پیسہ سود پیدا کرے گا۔اب اگر ایک مرتبہ سود پیدا ہو گیا تو مسئلہ سود کی پیدائش کا نہیں رہتا ہے بلکہ اس کو dispose off کرنے کا رہ جاتا ہے۔خواہی نہ خواہی وہ سود تو آپ کے نام سے وجود میں آ چکا ہے اب مسئلہ صرف اس قدر ہے کہ آپ اسے سرکارکو استعمال کرنے دیں یا کسی غریب مسلمان کو استعمال کرنے دیں۔ اگر آپ اسے چھوڑ دیتے ہیں تو اس میں قباحت یہ ہے کہ یہ کسی غلط مصرف میں یا ایسے مصرف میں جوشرعآممنوع ہو،بھی استعمال ہو سکتا ہے ۔ مثال کیلئے اسے سرکار خود مزید سودی بینک کھولنے یا سودی بینک کاری کی پبلسٹی کیلئے استعمال کر سکتی ہے جو ایک نہ شد دو شد۔ دوسری طرف اگر آپ اسے ملی تنظیموں کو بطور چندہ دے دیتے ہیں تو یہ ملی فلاح کے کاموں کیلئے استعمال ہو گا۔ اس سے کم سے کم ایسے لوگ دو گناہوں سے تو بچ سکیں گے۔
ان حالات میں ضروری ہے کہ اس معاملے میں ملت کے ذی فکر افرادلوگوں میں ضروری شعور بیدار کریں کہ اس طرح سے سود کی رقم بینکوں میں چھوڑ دینا مسلئے کا حل نہیں ہے بلکہ ان کیلئے مزید گناہوں کا باعث ہو سکتا ہے اسلئے کہ ان کا یہ ــپیسہ ، نا جائز ہی صحیح، مزید غلط اور ناجائز کاموں میں استعمال ہو سکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے مسلمان اپنی رقوم ملی تنظیموں کو دیں یا ان کو اس بات کیلئے مجاز کریں کہ وہ ان کی رقم بینکوں سے نکال کر اسے ملی فلاح کے کاموں میں استعمال کریں۔چونکہ ریزرو بینک آف انڈیا یا دوسرے بینک ایسے کھاتہ داروں کی تفصیل نہیں دیتے ہیں اس لئے اس کا واحد حل یہ ہے کہ کسی تنظیم کی جانب سے اخبارات میں اشتہار دے کر ایسے تمام لوگوں کو جو اپنی سود کی رقم بینک میں چھوڑ دیتے ہیںان کو اس پرراغب یا آمادہ کیا جائے کہ وہ ا پنے نام اور پتہ سے تنظیم کو مطلع کریں تا کہ ان کو ان کی ملی ذمہ داریوں کے بارے میں بتایا جائے اور ان کو اس نقطہ نظر سے متفق کیا جا سکے۔

TOPPOPULARRECENT